’حقیقی مرد ماسک نہیں پہنتے‘:ماسک اور مردانگی کے درمیان کتنا تعلق؟

صحت کے اداروں اور ماہرین نے ماسک کو کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں’سب سے طاقتور ہتھیار‘ قرار دیا ہے تاہم تحقیق سے ثابت ہو رہا ہےکہ بڑی تعداد میں مرد ماسک پہننے سے انکار کر رہے ہیں۔

امریکی ریاست نیواڈا میں 22 اگست کو ہونے والی ایک ریلی میں ایک شخص ماسک کے خلاف پلے کارڈ اٹھائے۔ ریلی کے زیادہ  تر شرکا صدر ٹرمپ کے حامی تھے (اے ایف پی)

لندن سے تعلق رکھنے والے 46 سالہ اینڈریو نے کرونا (کورونا) وائرس کی وبائی مرض کے دوران ایک بار بھی اپنا چہرہ نہیں ڈھانپا ہے۔ یہاں تک کہ ان کا اپنا ماسک بھی نہیں ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’ماسک کے گرد موجود سائنس تضاد پر مبنی ہے۔‘ ان کا ماننا ہے کہ زیادہ تر ماسک ’بے اثر‘ ہیں حالانکہ سائنسی طور پر کئی تحقیقات میں یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ ماسک کووڈ 19 کے پھیلاؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوچکے ہیں۔

اینڈریو نے کہا: ’میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ کمزور لوگ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ ان کی ذاتی پسند ہے۔‘ وہ پھر غلط حقائق اور اعدادوشمار کا حوالہ دینے لگے اور ان کو اس سے آگاہ کرنے کے باوجود بھی وہ ان پر قائم رہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ ریستورانوں میں یا پبلک ٹرانسپورٹ پر جہاں ماسک کا استعمال لازمی ہے وہاں لوگ ان کو بغیر ماسک کے دیکھ کر کیا کہتے ہیں تو انہوں نے کہا ’میں ان کو شائستگی سے کہتا ہوں کہ میں اس سے مستثنیٰ ہوں۔‘

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو کم کرنے کے لیے چہرے کو ڈھانپنا اہم ہے۔ 15 جون سے برطانیہ میں پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسک پہننے کو لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔ گوکہ صحت کی کچھ مسائل پر اس سے کچھ لوگوں کو استشنی بھی دیا گیا ہے۔  جولائی میں دکانوں اور دیگر داخلی مقامات پر اس نئے قانون کے قواعد میں توسیع بھی کی گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت دنیا بھر کے لوگوں کو جون سے ماسک پہننے کی تاکید کر رہا ہے - کئی ممالک میں اس سے پہلے ہی ماسک کو لازمی قرار دے دیا گیا تھا۔ جولائی میں ’جرنل آف دی امریکی میڈیکل اسوسی ایشن‘ نے ایک سائنسی رپورٹ میں چہرا ڈھانپنے کو کووڈ 19 کے خلاف جنگ میں ’اہم ہتھیار‘ قرار دیا تھا۔

اس رپورٹ کے بعد امریکہ کے ٹاپ ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے ڈائریکٹر رابرٹ ریڈ فیلڈ نے کہا تھا کہ چہرے کو ڈھانپنا  ’ہمارے پاس وائرس کے پھیلاؤ کو سست کرنے اور  اسے روکنے کے لیے سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔‘ تاہم اس سب کے باوجود ایک بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں جو اینڈریو کی طرح ماسک پہننے سے انکار کرتے ہیں۔ اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں کی اکثریت مرد ہے۔

مئی میں مڈل سیکس یونیورسٹی لندن اور کیلیفورنیا کی برکلی یونیورسٹی کے دو محققین کے 2459 افراد کے ایک سروے میں یہ سامنے آیا کہ خواتین کے مقابلے میں نہ صرف مردوں میں چہرے کے ماسک پہننے کا رجحان کم تھا بلکہ وہ اس بات پربھی اتفاق کرتے تھے کہ ’ماسک پہنا قابل شرم تھا یہ درست نہیں تھا اور کمزوری کی علامت تھا۔‘ اسی تصور کا سٹریمنگ سروس ’فوکس نیشن‘ کی میزبان ٹومی لہرن نے بھی بظاہر اس وقت اظہار کیا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جو بائیڈن ’اپنے ماسک کے ساتھ ایک پرس بھی لے کر چلا کریں۔‘

عوامی صحت کے مسائل پر کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم قیصر فیملی فاؤنڈیشن کے ذریعے کی جانے والی ایک تحقیق میں یہ بھی پتا چلا ہے کہ 68 فیصد خواتین گھر کے باہر ماسک پہنتی ہیں جبکہ اس کے مقابلے میں مردوں میں یہ شرح 49 فیصد تھی۔ ان اعدادوشمار کے کئی دستاویزی شواہد موجود ہیں جس سے کچھ لوگوں نے ماسکس کو ’چہرے کے کنڈومز‘ قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ 

ڈنمارک کے ادارے انٹرنیشنل میڈیا سپورٹ میں جینڈر اور پروگرام ڈیولمنٹ کی مشیر ایما لیگنرڈ بوبرگ کا کہنا ہے کہ ’یہ وہ رجحان ہے جو ہم نے پچھلے وبائی امراض میں بھی دیکھا ہے کہ مرد خواتین کے مقابلے میں حفاظتی تدابیر اختیار کرنے میں زیادہ ہچکچاہٹ محسوس کرتے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ یہ باقی اعداد و شمار اور تحقیقوں کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے جس میں  پتہ چلتا ہے کہ خواتین کے مقابلے میں مردوں کا سیٹ بیلٹ پہنتے یا بیمار ہونے پر اپنے ڈاکڑ سے مشورہ کرنے کا امکان کم ہوتا ہے۔ گذشتہ تحقیقوں سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مردوں میں لاپرواہی سے گاڑی چلانے کا رجحان زیادہ ہوتا ہے چاہے وہ تیز رفتاری ہو یا نشے میں گاڑی چلانا۔

وسکانسن میں لارنس یونیورسٹی میں صنفی تعصب اور امتیازی سلوک کے ماہر پیٹر گِلک کا کہنا ہے کہ مرد روز مرہ کی زندگی میں زیادہ سے زیادہ خطرہ مول لینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ پیٹر اس کی وجہ نقصان دہ صنفی دقیانوسی تصورات کو قرار دیتے ہیں جو مردوں کو طاقت کو اہم سمجھنا اور کمزور سمجھے جانے سے گزیز کرنا سکھاتے ہیں۔ 

 انہوں نے ’دی انڈیپنڈنٹ‘ کو بتایا کہ ’مردوں کو معاشرتی طور پر غالب اور خودمختار ہونا سکھایا جاتا ہے۔ یہ ساری خصوصیات پدرسری روایات کو برقرار رکھتی ہیں جو مردانگی کو ایک پرفارمنس کی طرح پیش کرتی ہیں۔ ان وجوہات کی بنا پر ماسک پہننے کو کچھ مردوں میں کمزوری ظاہر کرنے جیسا سمجھا جا سکتا ہے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ کیسے اس وائرس سے عوامی سطح پر خوف سے خوفزدہ ہیں، جس سے ایسا لگتا ہے کہ وہ بہادر نہیں۔‘

اس سب میں پھر تعجب کی بات کوئی نہیں ہے کہ محققین نے مردانہ صنف کے اصولوں کو ہی مردوں کی صحت پر منفی اثر ڈالنے کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

کرونا سے متاثر ہونے اور ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ ظاہر کرنے کے خواہاں تھے کہ انہیں کسی ماسک کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کا ہسپتال سے واپس آنے کے بعد وائٹ ہاؤس کی سیڑھیوں پر ماسک ہٹانا وہ لمحہ تھا جس نے سال 2020 کے وبائی مرض کے سیاسی تھیٹر کا بالکل ٹھیک خلاصہ کیا۔ ٹرمپ نے اپنے سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے اس خیال کو ظاہر کیا کہ ماسک پہننا کمزوری کی علامت ہے۔ 29 ستمبر کو صدر نے جو بائیڈن کے خلاف ہونے والی بحث میں بائیڈن کے بارے میں کہا ’میں ان کی طرح ماسک نہیں پہنتا۔ جب بھی آپ انہیں دیکھیں گے، ان کو ماسک پہنے دیکھیں گے۔ وہ لوگوں سے دو سو فٹ دور کھڑے بول رہے ہوں گے اور انہوں نے پھر بھی ماسک پہن رکھا ہو گا۔‘ اس سب کا مطلب یہ ظاہر کرنا ہے کہ ماسک نہ پہننے والے ٹرمپ اپنے مخالف سے زیادہ طاقتور ہیں۔ اس ہفتے کے شروع میں صدر نے اس خیال کو ایک بار پھر تقویت بخشی جب انہوں نے ٹویٹ کے ذریعہ ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما نینسی پیلوسی کو چھیڑا کہ ’نینسی، پارلر میں اپنا ماسک پہن لو۔‘

پیٹر گلک کا کہنا ہے کہ دائیں بازو کی سیاست کی دقیانوسی مردانگی کے اصولوں کی پیروی کرنے کی ایک طویل تاریخ ہے۔ ’کنزرویٹوز سماج میں بڑے پیمانے پر مردانہ استحقاق اور غلبے کے خاتمے کے احساس پر زیادہ ردعمل ظاہر کرتے نظر آرہے ہیں۔  اور اس وجہ سے وہ ان مرد رہنماؤں کی طرف دیکھتے ہیں جو مردانہ تصورات کو قبول کرتے نظر آتے ہیں۔  جن مرد رہنماؤں کا وہ انتخاب کرتے ہیں وہ اپنے مردانہ تصوارات کے بہت بڑے محافظ سمجھے جاتے ہیں اور اسی طرح وہ ماسک پہننے کے مخالف بن جاتے ہیں۔‘

پیٹر کے اس نظریے کی حمایت ایک تحقیق بھی کرتی ہے۔ جون میں پیو ریسرچ سینٹر کی ایک تحقیق میں سامنے آیا کہ 76 فیصد ڈیموکریٹ ووٹرز نے کہا کہ انہوں نے ’باہر یعنی سٹورز اور دوسرے کاروباری مقامات پر‘ ماسک پہنے رکھا جبکہ ان کے مقابلے میں ایسا کرنے والے ری پبلکنز کی تعداد 53 فیصد تھی۔

جب آپ سماج کے صنفی اصولوں کو کنزروٹزم کے ساتھ جوڑتے ہیں تو اس طرح کی سوچ میں اضافہ ہوتا ہے۔ بوبرگ کا مزید کہنا ہے: ’ماسک پہننے سے گریز کرنا مردانگی کے راسخ اصولوں کا نتیجہ ہے۔ سیاسی طور پردائیں بازو کی طرف جھکاؤ رکھنے والے افراد آزادی کو بنیادی اصول سمجھتے ہیں۔ تاہم بائیں بازو کی سوچ رکھنے لوگ غیر محفوظ افراد کے تحفظ اور دیکھ بھال میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس سے یہ وضاحت ہوسکتی ہے کہ دائیں بازو کی سوچ کے مرد بائیں بازو کے برعکس سیاسی طور پر کیوں ماسک پہننے کو ان کی مردانگی کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

زیادہ تر ایسا لگتا ہے کہ جو لوگ ماسک نہیں پہنتے وہ صاف انکار کرنے کی بجائے ماسک نہ پہہنے کے اپنے فیصلے کو سائنس سے جوڑنے کو کوشش کرتے ہیں مگر ان کی سوچ کی بنیاد زیادہ تر غلط معلومات پر مبنی ہے۔ شیفیلڈ سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ ایویل کا کہنا ہے کہ ’کرونا وائرس ایک معمولی سی بیماری ہے۔‘ وہ سمجھتے ہیں کہ کرونا وائرس سے ان کو کوئی خطرہ نہیں ہے لہذا انہیں ماسک کی ضرورت نہیں۔ ویلز کے علاقے انگلسی سے تعلق رکھنے والے 42 سالہ جو* کا کہنا ہے کہ ’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ماسک کام کرتے ہیں۔‘ اس کے شواہد پیش کرنے کی میری درخواست کے سوال کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسی طرح  لندن سے تعلق رکھنے والے 44 سالہ ٹام* نے کہا ’کووڈ 19 سے صرف 0.06 فیصد آبادی متاثر ہو گی۔‘  وہ بھی اپنے اس دعوے کے پیچھے تحقیقی شواہد پیش کرنے میں ناکام رہے۔

وہ لوگ جنہوں نے ایسی جگہ ماسک نہیں پہنا جہاں ان کو لازمی قرار دیا گیا ہے ان پر سو پاؤنڈز یا اس سے زیادہ جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ برطانیہ میں پبلک ٹرانسپورٹ پر ماسک پہننے سے انکار کرنے والے لوگوں کو لگ بھگ 400 جرمانے کیے گئے ہیں (اعداد و شمار میں جنس کے اعتبار سے تقسیم نہیں کی گئی)۔ لیکن جرمانے کا ڈر بھی لوگوں کو ماسک نہ پہننے سے نہیں روک رہا۔ لندن میں اٹھارہ سالہ ٹم کا کہنا ہے: ’مجھے [دوسروں کے سامنے] ایک مثال پیش کرنا ہوگی کہ اکثریت لوگوں کو لیے کووڈ سے خوفزدہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘ ایویل کا مزید کہنا تھا: ’میں جرمانے کے بارے میں کم پریشان ہوں، اور زیادہ اس حقیقت پر کہ حکومت کو سماجی فیصلوں پر بھی اختیار حاصل ہو چکا ہے یعنی اس بات کے فیصلے کا کہ ہم کیا پہن سکتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کیا ان مردوں کو اس بات کا کوئی احساس نہیں ہے کہ وہ ماسک پہننے سے انکار کر کے کووڈ 19 سے بڑھتی ہوئی ہلاکتوں میں حصہ ڈال رہے ہیں؟ ایویل کہتے ہیں: ’کیا کسی نے سوچا ہے کہ ماسک پہننے سے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے؟ مارچ میں ماسک پہننا لازمی قراد دینے سے پہلے کے مقابلہ میں ہمارے پاس اب زیادہ کیسز ہیں۔ تو یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ماسک انفیکشن کو کم کرنے کا ایک موثر طریقہ ہیں؟‘

اس بات سے جڑے خطرات کو دیکھنا بہت آسان ہے۔ نہ صرف مرد کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کا زیادہ امکان رکھتے ہیں بلکہ بے شمار تحقیقات سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ان کی موت کا بھی زیادہ امکان ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق یورپ میں کووڈ 19 سے متاثر ہو کر انتہائی نگہداشت وارڈ میں داخل ہونے والوں میں 70 فیصد مرد تھے، اور مردوں کی اموات تمام ہلاکتوں کا 57 فیصد ہیں۔ دریں اثنا ’بریٹش میڈیکل جرنل‘ میں مارچ میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا ہے کہ چین، ایران اور جنوبی کوریا میں مردوں میں کوود 19 کی ہلاکتوں کا تناسب زیادہ ہے۔ مزید برآں گلوبل ہیلتھ ففٹی ففٹی کے ذریعے جمع کردہ اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ دوسرے ممالک کی کثیر اکثریت میں مرد مستقل طور پر خواتین سے زیادہ تعداد میں کرونا وائرس سے ہلاک ہو رہے ہیں۔

بدقسمتی سے ایسا نہیں لگتا ہے کہ جلد ہی اس رویے میں کوئی تبدیلی ممکن ہے۔ خاص طور اس وقت تک نہیں جب آپ اس حقیقت پر غور کریں کہ عالمی رہنما وائرس کو کمزور ثابت کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کووڈ سے صحت یاب ہونے کے بعد ٹرمپ انتخابی مہم کی ریلیوں میں شریک ہوئے جن میں نہ انہوں نے ماسک پہنا ہوتا ہے نہ زیادہ تر شرکا نے۔ برازیل کے صدر جئیر بولسونارو پر غور کریں جنہوں نے کرونا وائرس کو ’ہلکا سا فلو‘ قرار دیا تھا۔ امریکی مزاح نگار اور پوڈ کاسٹ کے میزبان جو روگن نے حال ہی میں کہا ہے کہ ’صرف [گالی] ہی ماسک پہنتی ہیں۔‘

 لیکن شاید اس کا حل ہمارے خیال سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ کم سے کم ’لاس اینجلس ٹائمز‘ کے ایک حالیہ مضمون سے تو ایسا ہی لگا ہے۔ اخبار نے تجویز دی ہے کہ اگر ہم چہرے کے ماسک زیادہ ’مردانہ انداز‘ کے بناتے ہیں تو شاید مرد ان کو پہننے کی طرف زیادہ مائل ہوسکتے ہیں۔


*نوٹ: رپورٹ میں شامل کچھ افراد کے نام بدل دیے گئے ہیں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی صحت