پارلیمنٹ حملہ کیس: وزیر اعظم عمران خان بری، دیگر وزرا طلب

وزیر اعظم عمران خان کے وکیل نے بریت کی درخواست پر تحریری دلائل پیش کیے تھے کہ عمران خان کو ایک جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔

2014 میں پارلیمنٹکے باہر احتجاج کے شرکا (اے ایف پی)

اسلام آباد میں انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) نے پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملہ کیس میں وزیر اعظم عمران خان کو بری کردیا ہے۔ 

عدالت نے وزیر اعظم کی بریت کی درخواست پر دلائل سننے کے بعد تین دن قبل فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ 

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی بھی اس مقدمے میں ملزم تھے۔ عدالت نے آئینی استثنیٰ کے باعث ان کے خلاف کارروائی کو روک دیا تاہم مقدمے میں دیگر نامزد ملزمان پر الزام عائد کیا جائے گا۔ 

مقدمے کے دیگر ملزمان میں وفاقی و صوبائی وزرا شاہ محمود قریشی، اسد عمر، علیم خان، شوکت یوسفزئی اور دیگر شامل ہیں جنہیں 12 نومبر کو طلب کیا گیا ہے۔  

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وزیر اعظم عمران خان کے وکیل نے بریت کی درخواست پر تحریری دلائل پیش کیے تھے کہ عمران خان کو ایک جھوٹے اور بے بنیاد مقدمے میں ملوث کیا گیا ہے۔ وکیل کے مطابق عمران خان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی گواہی دی گئی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ چونکہ یہ ایک سیاسی مقدمہ ہے جس میں سزا کا کوئی امکان نہیں اس لیے وزیر اعظم عمران خان کو بری کردیا جانا چاہیے۔ 

یاد رہے کہ پراسیکیوٹر نے عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے ان کی بریت کی درخواست کی مخالفت کی تھی لیکن وزیر اعظم بننے کے بعد اس کی حمایت کی۔  

وزیر اعظم عمران خان پارلیمنٹ اور پی ٹی وی معاملے میں مفرور رہے ہیں اور فی الحال ضمانت پر باہر ہیں۔ 

صدر ڈاکٹرعارف علوی، وفاقی وزرا شاہ محمود قریشی، پرویز خٹک، اسد عمر، شفقت محمود، صوبائی وزیر علیم خان اور جہانگیر ترین کو بھی پی ٹی وی پارلیمنٹ حملہ کیس میں ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ 

یاد رہے کہ اگست 2014 میں اسلام آباد میں تحریک انصاف نے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف جبکہ پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایک احتجاج کے دوران اپنے کارکنوں کی ہلاکت کے خلاف دھرنا دیا۔ 

اس دوران دونوں جماعتوں کے کارکنوں نے پولیس رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی اور وزیر اعظم ہاؤس کو بھی نقصان پہنچا تھا۔

مشتعل کارکنوں اور پولیس کے مابین جھڑپوں میں تین افراد ہلاک اور 560 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ 

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان