پاکستان نے بھارت کو دن کی روشنی میں جواب دیا: ڈی جی آئی ایس پی آر

’بھارتی پائلٹ کی واپسی پاکستان کی امن کے لیے بھرپور ذمہ داری اور جنگی صلاحتیوں کا نتیجہ تھی۔ ساری دنیا نے پاکستان کے اس عمل کو سراہا اور تعریف کی۔‘

(سکرین گریب)

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد بین الاقوامی سرحدوں کی خلاف ورزی کی جس پر انہیں بھرپور جواب دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے میں تمام سول اور ملٹری انتظامیہ یکجا تھی اور پاکستان نے بھارت کو دن کی روشنی میں جواب دیا۔

پاکسانی فوج کے میڈیا ونگ آئی ایس پی آر کے سربراہ  نے مزید کہا ہے کہ بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی واپسی بین الاقوامی معاہدوں کو مد نظر رکھتے ہوئے امن کی خواہش کے پس منظر میں کی گئی تھی۔ 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فروری 2019 میں پاکستانی افواج نے دشمن کی کاروائیوں کا بھر پور جواب دیا تھا۔ 

انہوں نے کہا: We gave them a bloody nose which is still hurting.’ ‘ 

(انہیں منہ کی کھانی پڑی اور یقینا انہیں اب بھی تکلیف ہو رہی ہو گی۔) 

انہوں نے کہا کہ ’بھارتی پائلٹ کی واپسی پاکستان کی امن کے لیے بھرپور ذمہ داری اور  جنگی صلاحتیوں کا نتیجہ تھی۔ ساری دنیا نے پاکستان کے اس عمل کو سراہا اور تعریف کی۔‘

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی واپسی کو کسی بھی دوسری چیز سے جوڑنا نہایت ہی گمراہ کن اور افسوس ناک امر ہو گا۔ 

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایسی باتوں کے قومی سلامتی کے امور پر منفی اثرات ہو تے ہیں۔ ’ایسے بیانات سے دشمن فائدہ اٹھا سکتا ہے اور یہ ہمیں انڈین میڈیا میں نظر بھی آ رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ انڈین میڈیا مذکورہ بیانات کو فروری 2019 میں ہندوستان کی شکست کو کم دکھانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ 

’ہمیں پوری ذمہ داری سے آگے بڑھنا چاہیے۔ افواج پاکستان اندرونی اور بیرونی خطرات سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ان پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ افواج پاکستان کو وطن عزیز کے خلاف ہر قسم کی سازش ناکام بنانے اور دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ 

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستانی افواج کی لیڈرشپ اور رینک اینڈ فائل ایک اکائی ہے اور ان میں کسی قسم کی دراڑ کا ڈالا جانا بلاکل بھی ممکن نہیں ہے۔ 

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی تھی جس میں مختلف اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق اسلام آباد میں اس ملاقات کے دوران پاکستان فوج کے پیشہ ورانہ امور اور داخلی اور خارجی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

دوران ملاقات پاکستان میں تشدد کو ہوا دینے کی کوششوں سے متعلق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پوری قوم دشمن کی بزدلانہ کارروائیوں کے خلاف متحد ہے۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان