سونے کے ورق سے خطاطی کرنے والا نوجوان

واصل شاہد نے اپنے ہاتھ میں موجود عقیق کی انگوٹھی دکھاتے ہوئے کہا ’یہ جو میں نے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ہوئی ہے یہ بنیادی طور پر ایک انگوٹھی نہیں ہے بلکہ ایک اوزار ہے۔‘

واصل شاہد خطاطی کے قدیم فن کو نئے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔

سونے کے ورق سے خطاطی کرنا، اس میں جیومیٹری کے حساب سے پیچیدہ تلازمات شامل کرنا اور بالخصوص معکوس ثلث ان کی اس نمائش میں نمایاں خصوصیات ہیں۔

واصل شاہد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اپنے اس کام کا آغاز انہوں نے رنگوں کے ساتھ کیا تھا۔

’قلم کے ساتھ بھی خطاطی کی اور پھر یہ سفر آگے بڑھتا چلا گیا، بڑھتا چلا گیا۔ پچھلے دس سال سے میں نے سونے کے ورق کے ساتھ کام کرنا شروع کر دیا۔ یہ تجربہ میرے لیے بہت ہی خوبصورت تھا اور مجھے سب سے زیادہ پذیرائی بھی اس سے ملی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا کہنا تھا کہ سونے کا ورق اتنا باریک ہوتا ہے کہ آپ جب اسے ہاتھ میں پکڑتے ہیں تو یہ ٹوٹنے لگتا ہے پھر خطاطی کے لفظوں کے مطابق اس کی کٹائی کرنی پڑتی ہے۔

انہوں نے اپنے ہاتھ میں موجود عقیق کی انگوٹھی دکھاتے ہوئے کہا ’یہ جو میں نے ہاتھ میں انگوٹھی پہنی ہوئی ہے یہ بنیادی طور پر ایک انگوٹھی نہیں ہے بلکہ ایک اوزار ہے۔‘

’جب میں سونے کا ورق اپنے خطاطی کے فن پاروں پر لگا لیتا ہوں تو اس کے ساتھ رگڑ کر اس عقیق کے پتھر سے اسے بالکل ملائم کر لیتا ہوں۔ اس کے علاوہ کوئی چیز اس مقصد میں کام نہیں آتی۔‘

’ایک فن پارہ بنانے کا عمل تقریباً ایک ماہ تک چلتا ہے۔ اس نمائش 23 فن پارے پیش کیے گئے ہیں۔اور یہ سارا کام خط ثُلث میں ہے۔ خط ثلث کا اس وجہ سے انتخاب کیا ہے کہ روضۂ رسول ﷺ پر جو جالی مبارک ہے وہاں جس خط میں محمد رسول ﷺ سے لکھا ہوا ہے، وہ خط ثُلث میں ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی فن