ترکی زلزلہ: چار سالہ بچی کو 91 گھنٹے بعد ملبے سے زندہ نکال لیا گیا

چار سالہ آئڈا گیجگین کو علاج کے لیے ایج یونیورسٹی فیکلٹی آف میڈیسن میں داخل کیا گیا ہے۔

ازمیر میں 6.6 شدت کے زلزلے کے 91 گھنٹے بعد بھی ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کی کوششیں جاری ہیں جس میں ایک اور بچی کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔

زلزلے میں تباہ ہونے والی عمارتوں میں سے ایک روزا بی اپارٹمنٹ کے ملبے میں دبی آئڈا گیجگین نامی چار سالہ بچی کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔

ترکی اور یونان میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں اب تک ترکی میں ہلاکتوں کی تعداد سو تک پہنچ گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق آئڈا گیجگین کی والدہ تاحال ملبے کے نیچے ہیں۔

بچانے والے امدادی کارکنوں میں سے ایک نے بتایا کہ ’وہ خوبصورتی سے مسکرا رہی تھی۔ گویا ہم کبھی ملبے میں نہیں تھے، ہمیں خوشی ہوئی۔ دوستوں نے اس کی آواز سنی اور جب وہ باہر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ وہ چلتی پھرتی بچی ہے۔ اس نے ہمیں رولا دیا۔‘

اس سے قبل زلزلے کے آنے کے 65 ویں گھنٹے میں ایلف پیرینیک نامی بچے کو بھی زندہ بچا لیا گیا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل