راجن پور میں پاکستان کا ’پہلا بوٹ کلینک‘

انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کی جانب سے ان لوگوں تک کشتی کے ذریعے سہولیات فراہم کی جائیں گی، جن کے لیے ہسپتال آنا یا صحت کی معیاری سہولیات تک رسائی مشکل ہے۔

مقامی آبادی تک کشتی کے ذریعے صحت کی  تمام سہولیات پہنچائی جائیں گی (تصاویر:انڈس ہیلتھ نیٹ ورک)

جنوبی پنجاب کے ضلع راجن پور میں پاکستان کے پہلے بوٹ کلینک نے کام شروع کردیا ہے۔ اس بوٹ کلینک کا آغاز انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کی جانب سے کیا گیا تاکہ وہ مقامی آبادی جن کے لیے ہسپتال آنا یا صحت کی معیاری سہولیات تک رسائی مشکل ہے، ان تک کشتی کے ذریعے تمام سہولیات پہنچائی جائیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے گلوبل ہیلتھ ڈائریکٹوریٹ کے ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر عادل اختر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’راجن پور اور اس سے ملحقہ علاقوں کی ایک لاکھ سے زائد آبادی میں 47 فیصد مرد اور 53 فیصد خواتین ہیں۔ بیشتر آبادی صحت کی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، لہذا بوٹ کلینک اس کمی کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’اس بوٹ کلینک میں مریضوں کا علاج بالکل مفت کیا جائے گا جبکہ وہ مریض جنہیں مزید علاج کی ضرورت ہوگی انہیں نزدیک ترین ہسپتال منتقل کیا جائے گا۔‘


ڈاکٹر عادل نے بتایا کہ بوٹ کلینک اس وقت دریائے سندھ کے تین ڈاکنگ پوائنٹس پر کام کر رہا ہے اور سال کے آخر تک مزید آٹھ ڈاکنگ پوائنٹس پر بھی کام شروع کر دیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کشتی میں تشخیص اور علاج کے لیے لیب کلیکشن پوائنٹ اور فارمیسی کی سہولت بھی موجود ہے۔ یہاں صحت عامہ کی سہولیات بھی فراہم کی جائیں گی جیسے حفاظتی ٹیکے، غذائی پروگرام، خاندانی منصوبہ بندی، پیٹ کے کیڑوں، ہیپٹائٹس اور ذہنی صحت کے ساتھ مشاورت کی خدمات بھی شامل ہوں گی۔‘


دوسری جانب انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے سی ای او ڈاکٹر عبدالباری نے بتایا: ’اس بوٹ کلینک پر ہم نے فیملی میڈیسن اور صحت عامہ کو اکٹھا کیا ہے۔ ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم علاج کے ساتھ ساتھ بیماریوں سے بچاؤ اور تحفظ پر بھی زور دیں۔ اس کلینک کو کامیاب بنانے کے لیے ہم نے کمیونٹی میں کام کرنے والی ٹیموں کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کیا ہے تاکہ لوگوں کو بہتر خدمات فراہم کی جاسکیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی تصویر کہانی