پی ڈی ایم کا مستقبل ن لیگ، پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں

اگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنی سیاست میں تحمل تدبر اور مشاورت کو شامل نہیں کیا تو وہ اس پلیٹ فارم کو ڈبو دیں گے یا کم از کم اتنا ہی موثر کر پائیں گے جتنا گلگت بلتستان میں یہ اتحاد کارگر ثابت ہوا۔

 یہ سیاسی اتحاد کس طرف جائے گا اس کا انحصار اجتماعی دانش مندی کے ساتھ ساتھ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی سیاست پر ہے(اے ایف پی)

پی ڈی ایم اس وقت ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ اس کے پاس سیاسی تاریخ کو تبدیل کرنے کے مواقع بھی ہیں اور خود کو بےاثر ثابت کرتے ہوئے ملک میں موجود بحران کو طوالت دینے کا راستہ بھی موجود ہے۔

 یہ سیاسی اتحاد کس طرف جائے گا اس کا انحصار اجتماعی دانش مندی کے ساتھ ساتھ پاکستان مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی سیاست پر ہے۔ اس سلسلے میں گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات ایک بہترین مثال ہیں۔ سیاسی ہاتھ ضرور ہوا مگر کھلے عام دھاندلی کے شواہد موجود نہیں اور نہ ہی یہ کہا جا سکتا ہے کہ پی ڈی ایم نے ان انتخابات میں خود کو کارگر بنوانے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش بھی کی۔ 

پاکستان تحریک انصاف، ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے مقابلے میں مرکز میں ہونے کے باوجود کم نشستیں لے پائی۔ آزاد امیدوار ان دونوں جماعتوں کے سر پر تلوار کی طرح لٹک رہے تھے۔ اصل مقابلہ ان امیدواروں کے خلاف تھا جن کو جلسے جلوسوں میں جذباتی نعرے لگانے والوں نے مکمل طور پر نظر انداز کر دیا۔

اب ن لیگ کی طرف سے مقامی قیادت بے شک یہ گلہ کرتی رہی کہ پیپلز پارٹی نے ان کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ کر کے دونوں جماعتوں کی لٹیا ڈبوئی لیکن اصل مسئلہ ان جماعتوں کی قیادت کا تھا نہ کہ مقامی طور پر آپس کی مخالفت کا۔ 

اگر پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے یہ جماعتیں ہر حلقے میں انتخابی لائحہ عمل حقائق کے مطابق بناتیں تو ایک دوسرے کے لیے تقویت اور طاقت کا باعث بنتیں۔ آزاد امیدواروں پر توجہ دینے کا موقع ملتا۔ گلگت بلتستان کا سیاسی نقشہ خوش فہمی سے بھرے ہوئے جلسوں کی نظر نہ ہوتا۔ جتنی توانائی، وسائل اور تنظیمی کوشش پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے مریم نواز اور بلاول بھٹو کے جلسوں کو منعقد کروانے میں لگائی اس کا 20 فیصد اگر مربوط اور اتفاق رائے پر مبنی انتخابات لڑنے کی پلاننگ پر صرف کیا جاتا تو وہاں پر سیاسی دھچکا اتنا سخت نہ ہوتا۔ 

مریم نواز اور بلاول بھٹو کو انتخابی پلاننگ کرنی تھی پی ڈی ایم کے لیے گلگت بلتستان پہلا امتحان تھا۔ دونوں اس میں بری طرح ناکام ہوئے۔ اگلا مرحلہ کشمیر کے انتخابات کی صورت میں آنے والا ہے۔ اگر وہاں پر کیمروں کی موجودگی میں پریس کانفرنسز کرنے پر اکتفا کر کے گلگت بلتستان کا تجربہ دہرایا گیا تو مظفر آباد میں بھی ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے ساتھ یہی سب کچھ ہو گا۔ تحریک انصاف اور سردار عتیق مظفر آباد میں حکومت بنا لیں گے۔ 

کیا پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر موجود تجربہ کار سیاست دان جواں سال مگر نسبتا ناتجربہ کار قیادت کو عقل کا رستہ دکھا پائیں گے؟ اس کا اندازہ آپ کو آنے والے ہفتوں میں ہو جائے گا۔

 فی الحال تو پی ڈی ایم ایک عجیب و غریب سیاسی کیفیت میں مبتلا ہے۔ میثاق پاکستان جیسے مبہم اہداف کے لیے کمیٹیاں بنا کر وقت گزار رہے ہیں۔ بلکہ یوں کہیں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ پاکستان کو کسی میثاق کی ضرورت نہیں۔ 1973 کا آئین کافی ہے۔ نہ ہی کسی جمہوری معاہدے کی ضرورت ہے۔ پی ڈی ایم کا اپنا نام خود سے ایک جمہوری عہد ہے۔ یعنی پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ۔ اس اتحاد کو اصل میں ایک میثاق سیاست چاہیے جو عملی معاملات پر دور اندیشی سے عقل کا راستہ اختیار کروانے میں مدد گار ثابت ہو۔

میثاق سیاست میں تو سب سے پہلے یہ طے کرنا ہے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں اپنے سیاسی بیانیے کو کب تک انہی راستوں پر چلائیں گے جن پر وہ اس وقت قدم اٹھا رہے ہیں۔ 

بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان کے الیکشن ہارنے کے بعد ایک جذباتی واویلا کیا۔ جس سے اندازہ یہ ہوا کہ شاید وہ یہ توقع لگا بیٹھے تھے کہ ان کی لچک سے متاثر ہو کر ان کی جماعت کے ساتھ ہاتھ نہیں ہوگا۔ یہ غلط فہمی طویل عرصے تک شہباز شریف کو بھی رہی۔ آج کل ان سے ملنے کے لیے جو بھی جاتا ہے وہ یہ تاثر لے کے واپس آتا ہے کہ وہ اپنی اس سوچ پر پچھتا رہے ہیں۔

پیپلز پارٹی کو سندھ حکومت سے آگے کا سوچنا ہو گا اور اس سیاسی ماحول کو بھانپنا ہو گا جس میں ایک خطرناک خلا تو بن رہا ہے لیکن اس کو پر کرنے کے لیے کوئی مناسب متبادل ظاہر نہیں ہو پا رہا۔ فی الحال پاکستان پیپلز پارٹی دونوں طرف کھیل رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں وہ ہٹ وکٹ ہو چکی ہے۔ دوسری طرف سے رن آؤٹ ہو جائے گی اگر اس نے اپنی سیاسی روش نہ بدلی۔

 ن لیگ کا مسئلہ اس کے برعکس ہے۔ نواز شریف کے 'نام لیوا' بیانیے نے تہلکہ تو خوب مچایا۔ ہر طرف سے رابطے بھی ہونے لگے۔ درخواستوں اور دھمکیوں کے پیغامات بھی آنا شروع ہو گئے۔ دوسرے الفاظ میں وہ قومی سیاسی مرکزیت حاصل ہو گئی جو چند ماہ پہلے اپنی آخری سانسیں لیتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ مگر اس وقت ن لیگ میں بڑی سیاسی کنفیوژن یہ ہے کہ اگلے مرحلے میں کیا کرنا ہے۔ 

میاں محمد نواز شریف لندن سے بیٹھ کر کبھی کبھار من پسند مقامی قائدین سے بات کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے سیاسی مشاورت کر لی ہے لیکن اصل میں وہ اپنی پارٹی کے اندر ہونے والی مختلف قسم کی چہ مگوئیاں اور سرگوشیاں نہ تو سننا چاہتے ہیں اور نہ ان کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا مریم نواز سے رابطہ باپ بیٹی کا رابطہ ہے۔ وہ پارٹی مشاورت نہیں ہے۔

 مریم نواز تمام تر سیاسی اڑان کے باوجود اپنے والد کے پروں کے نیچے سے نہیں ہٹ سکتیں اور نہ ہی ہٹنا چاہتی ہیں۔ وہ وہی کریں گیں جو نواز شریف کر رہے ہیں۔ مریم نواز کی پاکستان میں موجودگی اور ان کے گرد گھومتی ہوئی ن لیگ کی سیاست نواز شریف کو پارٹی پر گرفت رکھنے کے حوالے سے اعتماد تو دے سکتی ہے لیکن پارٹی کے اندر ہونے والی بحث، اٹھنے والے سوالات، بڑھتی ہوئی پریشانی اور بعض جگہوں پر غصہ ان کی نظروں سے اوجھل ہی رہے گا۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نواز شریف قومی طور پر تو ووٹ کو عزت دینے کی بات کرتے ہیں لیکن پارٹی میں موجود مختلف رائے رکھنے والے ممبران جو اصل میں ووٹرز ہیں پر شک کا گرم تیل انڈیلتے رہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جماعتی معاملات کو انہوں نے اپنے خاندان کے ساتھ اس بری طرح نتھی کر دیا ہے کہ ہر جگہ انہی کا قصہ بیان ہوتا رہتا ہے۔

حنیف عباسی پر کیا گزری، جاوید ہاشمی کے دل کے پھپھولے کیا ہیں، خواجہ آصف کیوں بار بار ایک ہی بات کرتے ہیں، رانا تنویر کیوں ڈھیلے پڑے ہیں، قمر الاسلام کی کیسے گزر رہی ہے، خواجہ سعد اور سیلمان رفیق کو کیسے دھچکے پڑے، فواد حسن فواد نے اپنی زندگی کے قیمتی سال خواہ مخواہ جیل میں کیوں گزارے اور اب وہ شہباز اور نواز شریف کے بارے میں کیا سوچتے ہیں، احد چیمہ کسی بحث کا حصہ کیوں نہیں ہیں۔

یہ اور اس طرح کے درجنوں اور لوگ جو بدترین حالات میں سے گزرنے کے باوجود پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں یا جنہوں نے سیاست میں نہ ہونے کے باوجود نواز شریف کی سیاست کی قیمت چکائی اور اب سوچ رہے ہیں کہ کتنی بڑی غلطی کی۔

کبھی کسی پلیٹ فارم پر کھل کر بات اس وجہ سے نہیں کر پاتے کہ ان پر خواہ مخواہ کا شک کیا جائے گا۔ نواز شریف کو یہ سمجھنا ہو گا کہ وہ انقلابی نہیں انتخابی سیاست دان ہیں۔ انقلابیوں کے مکان ایکڑوں پر محیط نہیں ہوتے۔ نہ ہی ان کے کاروبار دنیا میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ انتخابی سیاست دان لائحہ عمل کے بغیر جنگل میں بھاگتا ہوا بے لگام گھوڑا ہے جس کی برق رفتاری پر ہونے والی واہ واہ اس کے لیے راستہ تلاش کرنے میں ذرہ برابر مدد گار ثابت نہیں ہوتی۔ 

جلسوں میں جرنیلوں کے نام لینے سے سیاسی اہداف حاصل نہیں ہوں گے۔ اگر نام لینا ایک سٹریٹجی کا حصہ ہے تو پھر اس سٹریٹجی کو پارٹی کے اندر زیر بحث لانا ہو گا اور اس کے اگلے مراحل پر پارٹی کو اعتماد میں لینا ہو گا۔ اس کو پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے لاگو کرنا ہو گا۔ 

اگر ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے اپنی سیاست میں تحمل تدبر اور مشاورت کو شامل نہیں کیا تو وہ اس پلیٹ فارم کو ڈبو دیں گے یا کم از کم اتنا ہی موثر کر پائیں گے جتنا گلگت بلتستان میں یہ اتحاد کارگر ثابت ہوا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ