نیشنل ڈائیلاگ: غلطی بانجھ نہیں ہوتی

ہمیں سماج میں یہ بات ایک آدرش کی طرح راسخ کرنا ہو گی کہ قوموں کی زندگی میں آئین ایک مقدس دستاویز ہوتا ہے اور اس کی پامالی ایک غیر معمولی جرم ہے۔

پی ڈی ایم کے کارکنوں کا حکومت مخالف جلوس (اے ایف پی)

قومی بیانیے میں ’نیشنل ڈائیلاگ‘ پر طبع آزمائی جاری ہے۔ ڈر ہے یہ ہنگامہ کہیں مال غنیمت کی تقسیم کا پیش لفظ بن کر نہ رہ جائے۔ اشرافیہ اپنا اپنا حصہ لے کر پڑاؤ کو لوٹ جائے اور سب ہنسی خوشی رہنا شروع کر دیں۔

’اسلامی انقلاب‘ سے لے کر ’تبدیلی‘ تک اس سماج کو چشمِ ساقی نے جس طرح سیراب کیا ہے، ہمارے سامنے ہے۔ تو کیا عجب کہ اب کی بار بھی صراحی سے صرف پیاس ہی ٹپکے؟

یہ تحریر خود کالم نگار کی زبانی سننے کے لیے نیچے کلک کیجیے

 

جمہوریت ایک سنجیدہ معاملہ ہے اسے محض جمہوری گدی نشینوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ’نیشنل ڈائیلاگ‘ کو با معنی اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ضروری ہے اس کی جزئیات اور تفصیلات قوم کے سامنے رکھی جائیں۔ عوام کو صرف اشرافیہ کی مسکراہٹوں اور آرائش جمال سے اس ڈائیلاگ کی خبر نہ ہو بلکہ وہ اس کی صورت گری کے ایک ایک لمحے سے با خبر ہوں تا کہ یہ ڈائیلاگ محض حصول اقتدار کی فریب کاری کا میثاق بن کر نہ رہ جائے بلکہ یہ عوام کے روشن مستقبل کی ضمانت دے سکے۔

نیشنل ڈائیلاگ اگر محض اس نکتے تک محدود رہا کہ عمران کو گھر بھیج دیا تو برف زاروں میں پھول کھلنے لگیں گے اور کرپشن کے مقدمات ختم کر دیے جائیں تو صحراؤں میں چشمے پھوٹ پڑیں گے تو یہ فریب کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔ اس میں شک نہیں کہ جب مکالمہ ہوتا ہے تو مثالیت پسندی پر اصرار نہیں کیا جا سکتا۔

ہو سکتا ہے کسی درجے میں ان نکات پر بھی بات گوارا کر لی جائے لیکن عوام کا مسئلہ اب یہ نہیں کہ کوئی آ جائے یا کوئی چلا جائے، عوام کے درد کی دوا اب یہ ہے کہ مسائل کو پوری سنجیدگی کے ساتھ ان کے وسیع تناظر میں دیکھا جائے۔

نیشنل ڈائیلاگ کے آغاز سے پہلے دو کام ضروری ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس کی ابتدا مساوات کے اصول پر ہونی چاہیے۔ یہاں ہر ایک سے غلطیاں ہوئی ہیں اور ہر ایک کو اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہو گا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ تعزیر کا کوڑا صرف اہل سیاست کی پشت پر برسے اور باقی سب خود کو سرخرو سمجھ بیٹھیں۔ نہ یہ ہو سکتا ہے کہ اہل سیاست خود کو سرخرو سمجھیں اور دشنام کی روبکار دوسروں کے ہاں بھجوا دیں۔

اسی طرح یہ احساس بھی سب کے ہمراہ ہونا چاہیے کہ قومی زندگی میں ہر شعبہ اور ہر ادارہ اہم ہے۔ یہ بنیادی اصول طے ہونا چاہیے کہ نہ ہم جارج آرول کے ’اینیمل فارم‘ کے جانور ہیں اور نہ ہی ہم میں سے کوئی More Equal ہے۔ تمام ادارے پاکستان کے ادارے ہیں اور تمام شہری پاکستان کے شہری ہیں۔

دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ اس اعتراف کو کسی فریق کے خلاف فرد جرم نہ بنایا جائے۔ ایسا ہوا تو اس ساری مشق میں سے کوئی خیر نہیں نکلے گا۔ اس اعتراف کا عنوان صرف خیر خواہی اور اصلاح ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے کو گنجائش دی جائے گی تو بات بنے گی ورنہ دائروں کی یہ مسافت طویل ہو جائے گی۔

اس بنیادی اہتمام کے بعد اس نیشنل ڈائیلاگ کے نکات کے تعین کا مرحلہ آتا ہے۔ اس باب میں چند چیزیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں:

ڈائیلاگ کے ایجنڈے میں سر فہرست آئین کا احترام ہونا چاہیے۔ اس بات پر سب اتفاق کریں کہ اس ملک میں آج کے بعد جو ہو گا آئین کے مطابق ہو گا۔ سرخرو اسے سمجھا جائے گا جو اس ذمہ داری کی ادائیگی میں سرخرو ہو گا۔

ہمارے ہاں احترام ہو یا آگہی، آئین کے باب میں کسی بھی معاملے میں حساسیت نہیں پائی جاتی۔ ہمیں سماج میں یہ بات ایک آدرش کی طرح راسخ کرنا ہو گی کہ قوموں کی زندگی میں آئین ایک مقدس دستاویز ہوتا ہے اور اس کی پامالی ایک غیر معمولی جرم ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بعد میں پالیسی وضع کی جا سکتی ہے لیکن پہلے مرحلے میں کسی اگر مگر کے بغیر پوری قطعیت سے یہ بات طے کرنا ہو گی آئین کا احترام ہر ایک ہر حال میں کرے گا۔ اس نکتے پر اگر اتفاق نہیں ہوتا تو کسی ڈائیلاگ کی کوئی افادیت نہیں ہو سکتی۔

 آئین کی بالادستی پر اتفاق رائے کے بعد ادارہ سازی کا مرحلہ آتا ہے۔ نیشنل ڈائیلاگ اس وقت تک با معنی نہیں کہلایا جا سکتا جب تک وہ دو اداروں کے بارے میں بنیادی اصول طے نہ کر لے۔ ان میں سے پہلا ادارہ الیکشن کمیشن ہے۔ اس ڈائیلاگ میں یہ طے ہو جانا چاہیے کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا طریقہ کار کیا ہو گا۔ ہمارے انتخابی نظام میں خامیاں کہاں ہیں اور اصلاح کہاں کہاں درکار ہے۔ ہر جماعت دھاندلی کی شکایت کرتی ہے لیکن انتخابی نظام میں اصلاح کا کسی کے پاس کوئی منصوبہ نہیں۔ یہ ظاہر ہے ایک پیچیدہ عمل ہے لیکن کم از کم اس کی مبادیات طے کر لی جانی چاہییں۔

الیکشن کمیشن کے بعد دوسرا ادارہ عدلیہ ہے۔ طے کیا جائے کہ عدلیہ میں رجال کار کی تعیناتی کیسے ممکن ہو گی اور حقیقی معنوں میں آزاد عدلیہ کیسے وجود میں آئے گی۔ ایک ایسی عدلیہ جس پر کسی کو انگلی اٹھانے کا موقع نہ ملے اور جس کے احترام کے لیے کسی کو توہین عدالت کے قانون کا حوالہ نہ دینا پڑے بلکہ یہ احترام خانہ دل سے پھوٹے۔

ادارہ سازی کے بعد پالیسی سازی کا مرحلہ آتا ہے۔ بے شک پالیسی بنانا حکومت کا کام ہے لیکن کم از کم تین شعبے ایسے ہیں جنہیں محض کسی حکومت پر نہیں چھوڑا جا سکتااور ان کے لیے قومی پالیسی کی ضرورت ہے۔

پہلا شعبہ معاشی ہے۔ معیشت کے باب میں ہم کسی غیر یقینی صورت حال کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ہمارے معاشی اہداف بڑے واضح ہونے چاہییں۔ حکومتیں صرف ان میں جزوی اور انتظامی تبدیلیاں کرتی رہیں لیکن جوہری طور پر ہمیں طے کر نا ہو گا کہ اگلے بیس پچیس سال کے لیے ہماری پالیسی یہ ہے اور ترجیحات یہ ہیں۔ تاکہ سرمایہ کار کو اعتماد ہو اوروہ کسی غیر یقینی صورت حال کا شکار نہ ہو۔

احتساب کے ایک با معنی نظام پر بھی اتفاق رائے ضروری ہے۔ احتساب کا نہ ہونا بھی ایک المیہ ہے اور احتساب کے نام پر انتقام بھی ایک المیہ ہے۔ قومی قیادت کا یہ امتحان ہو گا کہ وہ ان دو انتہاؤں کے بیچ با معنی ڈھانچہ وضع کر دے۔

اور آخری بات یہ ہے کہ قومی قیادت ملک میں جمہوری کلچر کے فروغ کے لیے عملی اقدمات کرے۔ جمہوریت محض ایک طرز حکومت یا حصول اقتدارکا راستہ نہیں، یہ طرز زندگی ہے۔ نیشنل ڈائیلاگ کے شرکا جب مل بیٹھیں تو اس پر بھی غور فرما لیں کہ ان کی اپنی جماعتوں میں کتنی جمہوریت ہے؟

اگر ان امور پر غور کی جاتا ہے تو نیشنل ڈائیلاگ ایک مبارک مشق ثابت ہو سکتی ہے لیکن یہ نشست اگر محض حصول اقتدار کے امکانات تک محدود رہتی ہے تو یہ ایسے ہی ہے جیسے محبت کا پہلا خط مکمل ہو تو صفحے پر سیاہی گر جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ