پشاور میں پی ڈی ایم کا جلسہ، کرونا ایس او پیز نظر انداز

پی ڈی ایم رہنماؤں کا دعویٰ تھا کہ پشاور جلسے میں کرونا ایس او پیز پر مکمل عمل ہو گا، لیکن جلسہ گاہ میں موجود انڈپینڈنٹ اردو کے نمائندے نے خود کیا دیکھا؟

پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ماسک نہیں پہنا  جبکہ بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز نے احتیاطی تدبیر اختیار کر رکھی تھی (انڈپینڈنٹ اردو)

ملک میں کرونا وبا کی دوسری لہر کے پیش نظر پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے قائدین پشاور میں جلسے سے پہلے بار ہا حکومت کی اعلان کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد کی یقین دہانی کراتے رہے لیکن آج جلسہ گاہ میں کہیں بھی احتیاطی تدابیر نظر نہیں آئیں۔

جلسے کے لیے صبح 11 بجے کا وقت مقرر تھا لیکن جلسہ تقریباً ایک بجے شروع ہوا۔ جلسہ گاہ تک جانے والے راستوں میں رکاوٹیں موجود تھیں جب کہ بعض جگہوں پر پولیس کی نفری تو بعض پر سیاسی پارٹیوں کے سیکورٹی رضاکار کھڑے نظر آئے۔

 جلسہ گاہ میں میڈیا اور وی آئی پیز کے لیے مختص مقام پر پولیس نے ہمیں جانے سے روک دیا، جس کے بعد جلسے کے منتظمین نے پولیس سے بات کر کے ہمیں اندر جانے کی اجازت دلوائی۔ جلسے میں عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن، جمعیت علمائے اسلام ف سمیت دیگر پارٹیوں کے کارکنان نے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے پی ڈی ایم کو کرونا وائرس کی پھیلاؤ کے خطرے کے پیش نظر جلسے کی باقاعدہ اجازت نہیں دی تھی تاہم پی ڈی ایم نے اجازت کے بغیر ہی جلسے کا اہتمام کیا۔

جلسے سے دو روز پہلے پشاور پریس کلب میں پی ڈی ایم کے صوبائی قائدین سے جب پوچھا گیا کہ جلسے سے کرونا وائرس پھیل سکتا ہے تو کیا انہوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کی ہیں؟ اس پر انھوں نے بتایا کہ جلسہ گاہ کے داخلی راستے پر ماسک اور سینیٹائزر کا بندوبست کیا جائے گا اور کسی کو بھی بغیر ماسک اور ہاتھوں کو سینیٹائز کیے اندر نہیں چھوڑا جائے گا۔

تاہم جلسے میں بہت کم لوگوں نے ماسک پہنا ہوا تھا حتٰی کے مرکزی سٹیج پر پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن بھی ماسک کے بغیر بیٹھے نظر آئے۔ اسی طرح آفتاب شیرپاؤ سمیت دیگر قائدین نے بھی ماسک نہیں پہنا۔

جلسے میں کتنے لوگ تھے؟

پشاور جلسے سے پہلے جمعیت علمائے اسلام ف بڑے جلسے کر چکی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں اور پشاور کے وہ صحافی، جو ایک عرصے سے مختلف سیاسی جلسے کور کر رہے ہیں، کے مطابق 11 جماعتوں کے اتحاد کے اس جلسے میں جمعیت علمائے اسلام ف کے اپنے جلسوں سے بھی کم لوگ تھے۔

پشاور کے سینیئر صحافی لحاظ علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو منتظمین کے حوالے سے بتایا کہ جلسے میں تقریباً 10 ہزار کے قریب لوگ تھے۔ لحاظ علی کے مطابق منتظمین کا دعویٰ تھا کہ حکومت نے جلسہ گاہ کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کیں لیکن انہوں نے خود کہیں رکاوٹیں نہیں دیکھیں۔

لحاظ نے بتایا کہ ’اس کی بنیادی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ جلسے کو کوئی اون نہیں کر رہا تھا۔ عوامی نیشنل پارٹی اور جمیعت علما اسلام اس جلسے کی میزبانی کے دعوے کر رہے تھے لیکن مختلف پارٹیوں کا متحدہ جلسہ ہونے کے باوجود کارکنان بڑی تعداد میں شریک نہیں ہوئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے کہا: ’یہ 11 پارٹیوں کا متحدہ جلسہ تھا اور ہم اس جلسے میں بہت زیادہ لوگوں کی شمولیت کی امید کرتے تھے تاہم جلسے میں لوگ بہت کم تھے۔‘

ڈان نیوز سے وابستہ سراج الدین سے جب پوچھا گیا کہ جلسے کے انتظامات کیسے تھے؟ تو انھوں نے جواب دیا کہ جلسے میں مختلف پارٹیوں کے منتظمین موجود تھے جس میں ان کے نجی سیکورٹی کے لوگ بھی تھے، ان کے درمیان مخلتف موقعوں پر تلخ کلامیاں بھی دیکھنے میں آئیں۔

سراج کے مطابق اس کی وجہ یہ تھی کہ پارٹیوں کے رضاکار یہی کوشش کر رہے تھے کہ ان کے پارٹی کارکنان کو ہر ممکن پروٹوکول دیا جائے۔ ’یہ بالکل عام سا جلسہ تھا جس طرح ایک پارٹی والے جلسہ کرتے ہیں۔ جلسے میں کارکنان کی تعداد اتنی نہیں تھی۔‘

 

موبائل سگنلز کی بندش اور میڈیا  کو مشکلات

جلسہ گاہ کی حدود میں موبائل سگنلز کو عارضی طور پر بند کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے میڈیا کے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی طرح وہ کارکنان جو سوشل میڈیا پر جلسے کو لائیو دکھانے کے شوقین تھے وہ بھی حکومت سے نالاں نظر آئے۔ کچھ رپورٹرز کو اپنی فوٹیجز ہیڈ آفس بھیجنے کے لیے جلسہ گاہ کی حدود سے باہر نکلنا پڑا جہاں موبائل سگنلز مل سکیں۔

اسی طرح مختلف پارٹیوں کے کارکنان بھی حکومت پر تنقید کرتے رہے کہ سوشل میڈیا پر جلسے کی کوریج کی وجہ سے حکومت نے موبائل سگنلز بند کیے ہوئے ہیں۔ عوامی نیشنل پارٹی کے کارکن محمد سلیم نے، جو صوابی سے جلسے میں شرکت کے لیے آئے تھے، انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ایک طرف حکومت جمہوریت کی بات کرتی ہے لیکن دوسرے طرف موبائل سگنلز بند کر کے جلسے کی سوشل میڈیا پر کوریج کو روک رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست