والدہ کی وفات: شہباز شریف کو پرول پر رہا کرنے کا حکومتی فیصلہ

پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان کے مطابق حکومت نے بیگم شمیم کی وفات کے باعث شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو پرول پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شہباز شریف اپنی والدہ بیگم شمیم کے ہمراہ (تصویر سوشل میڈیا)

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختراتوار کو لندن میں انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 90 سال بتائی جاتی ہے

وہ رواں سال فروری میں لندن گئی تھیں، جہاں علیل ہونے کے باعث ان کا علاج جاری تھا۔ وہ لندن میں حسن نواز کے گھر نواز شریف کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔ مسلم لیگ ن کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل عطا اللہ تارڑ نے انڈپینڈنٹ اردو کو ان کی وفات کی تصدیق کی ہے۔

ان کی وفات کے حوالے سے پاکستان جمہوری تحریک (پی ڈی ایم) کے پشاور جلسے میں شریک ن لیگی رہنما مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کو پیغام بھجوا دیا گیا، جس کے بعد مریم نواز پشاور میں پی ڈی ایم جلسہ ادھورا چھوڑ کر لاہور واپس پہنچیں گی۔ عطا تارڑ نے بتایا کہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا تاہم امکان ہے کہ بیگم شمیم کی میت پاکستان لائی جائے گی اور ان کی تدفین بھی جاتی امرا میں ہو گی۔

کیا نواز شریف اور شہباز شریف والدہ کی تدفین میں شریک ہوں گے؟

اس سوال کا جواب دیتے ہوئے عطا تارڑ نے کہا کہ نواز شریف کے میت کے ساتھ  پاکستان آنے کا امکان نہیں، ابھی کئی چیزیں طے کی جا رہی ہیں، البتہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی پرول پر رہائی کے لیے قانونی عمل شروع کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتقال کے پیش نظر ن لیگ سیاسی سرگرمیاں معطل کر رہی ہے، جس کا باقاعدہ اعلان بعد میں کیا جائے گا۔

پنجاب کے وزیر جیل خانہ جات فیاض الحسن چوہان کے مطابق حکومت نے بیگم شمیم کی وفات کے باعث شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو پرول پر رہا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھر پاکستان تحریک انصاف کی رہنما مسرت جمشید چیمہ نے بیگم شمیم کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ اگر نواز شریف میت کے ساتھ واپس پاکستان آتے ہیں تو ان کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے گا، حالات کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا تاہم ابھی کوئی باقاعدہ حکمت عملی طے نہیں کی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے تحت حکومت اپنا مثبت کردار ادا کرے گی مگر امید کرتے ہیں کہ ن لیگ بھی اس معاملے پر سیاست نہیں کرے گی۔

واضع رہے میاں شریف کی وفات کے وقت بھی شریف خاندان جلاوطنی کے باعث سعودی عرب میں مقیم تھا اور نواز شریف اور شہباز شریف اپنے والد کی تدفین میں شامل نہیں ہوسکے تھے۔

نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی وفات بھی لندن میں ہوئی تھی، ان کی میت بھی پاکستان لائی گئی۔ اس وقت نواز شریف اور مریم نواز نیب کیسز میں سزا کے باعث جیل میں تھے، دونوں نے ضمانت پر رہائی کے بعد بیگم کلثوم نواز کی آخری رسومات میں شرکت کی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان