نواز شریف کی ایک اور واپسی؟

نواز شریف یا تو سیاست میں موجود خلا کو اپنے رابطوں کے ذریعے پر کر سکتے ہیں اور یا پھر حزب اختلاف کی ٹوٹ پھوٹ کو دور سے بیٹھ کر دیکھتے ہوئے افسردگی طاری کر کے گزارا کر سکتے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ نواز شریف کی تیز ہوتی سرگرمیوں کی وجہ شہباز شریف کی ہومیو پیتھک کارکردگی ہے ( سوشل میڈیا)

ادھر میاں محمد نواز شریف دوبارہ سے سیاسی جان پکڑ رہے ہیں اور ادھر حکومت کی جان پر بن رہی ہے۔ چہل قدمی والی تصویر سے عیاں ہے کہ وہ جسمانی طور پر چاک و چوبند ہیں۔

خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگلے مراحل میں ان کا وہ علاج جو گذشتہ چند ماہ کی تشویشناک صورت حال کے باعث ممکن نہیں ہو پا رہا تھا اب شروع ہو گا۔ علاج کا یہ مرحلہ کتنا طویل ہو گا اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں۔ بہرحال اس دوران نواز شریف کی جانب سے اپنے سیاسی وزن اور وجود کے استعمال کے بارے میں کوئی ابہام نہیں۔

نواز شریف کے اشارے اب صرف تصویری اور تحریری نہیں۔ حقیقی ہیں۔ دو سال تک حزب اختلاف کی جماعتوں سے قطع تعلق کے بعد ٹیلی فونک رابطہ بحال ہو گیا ہے۔ اپنے دھرنے کے دوران مولانا فضل الرحمن نے پوری کوشش کی مگر نواز شریف نے دستک کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس مرتبہ خود فون کر کے مولانا کی شکایات کے ازالے کا وعدہ کیا ہے۔

بلاول بھٹو کے ساتھ بات چیت بھی اس نئی روانی کا ایک عکس ہے۔ بہت کم لوگوں کو علم ہے کہ مریم نواز کی نیب کے سامنے پیشی کے معاملے میں میاں نواز شریف کی براہ راست ہدایات کار فرما تھیں۔ اس کے بعد گرفتار ہو جانے والے کارکنان اور ایک صوبائی اسمبلی کے رکن کے گھروں میں پھول اور فون کے ذریعے رابطے ایسے اقدامات ہیں جو نواز شریف چند ماہ پہلے تک اٹھانے سے مکمل طور پر گریزاں تھے۔

سیاسی طور پر متحرک ہونے کی وجوہات کئی ہیں۔ بیشتر کا تعلق مجبوری سے ہے۔ سیاسی خاموشی اختیار کرنے کے بعد ن لیگ کی باگ ڈور شہباز شریف کے حوالے کرنا ایک لازمی امر تھا۔ اس وقت یہ سمجھا گیا تھا کہ چھوٹا بھائی بڑے بھائی اور اپنی جماعت کے لیے کسی نہ کسی طریقے سے نئے مواقع پیدا کر لے گا۔ شہباز شریف کی ہر خواہش چارو ناچار تسلیم کی گئی۔

تسلیم نہ کرنے کی صورت میں یہ الزام سر پر سوار رہتا کہ میاں نواز شریف کا سخت مزاج ان کے مسائل کی جڑ ہے۔ ویسے بھی اپنی خاموشی سے مریم نواز پر آئی ہوئی سختی وقتی نرمی میں تبدیل ہو رہی تھی تو یہ کڑوا گھونٹ مہنگا نہیں تھا۔ مگر دو سال کے بعد خفت اور ہزیمت اٹھانے کے باوجود ن لیگ کی کشتی منجھدار میں پھنسی ہوئی ہے۔

ساحل پر لانے والا کپتان شہباز شریف اب خود اپنے اور اپنے بچوں کے مفادات محفوظ رکھنے کے قابل نہیں ہیں۔ پارٹی کو نئے حالات سے مطابقت دلا کر سیاسی قوت دینا شہباز شریف کے بس کا روگ نہیں۔ اب اگر میاں نواز شریف دوبارہ سے اپنی سیاسی سرگرمیاں شروع نہیں کرتے تو ن لیگ لڑکھڑا لڑکھڑا کر تھک جائے گی اور اس کے ساتھ منسلک بہت سے مقامی سیاست دان اپنے سیاسی مستقبل کو ممکنہ تاریکی سے بچانے کے لیے ادھر ادھر دیکھنے لگیں گے۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ اگرچہ نواز شریف کی تیز ہوتی سرگرمیوں کی وجہ شہباز شریف کی ہومیو پیتھک کارکردگی ہے۔ لیکن جوں جوں بڑا بھائی پارٹی کے معاملات میں دوبارہ سے دلچسپی لے رہا ہے تو چھوٹے بھائی پر دباؤ مزید بڑھایا جا رہا ہے کہ وہ لندن میں وہی ماحول برقرار رکھے جو آج سے چند ماہ پہلے تھا۔

شیخ رشید جو اپنی حکومت سے زیادہ مقتدر حلقوں کی سیاسی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں بار بار احتساب کے ڈھول کی تاپ کو تیز کر کے شہباز شریف کو باور کروا رہے ہیں کہ میاں نواز شریف اگر متحرک ہوئے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان شہباز اور ان کے خاندان کو ہو گا۔

نواز شریف بہرحال ان نازک خاندانی مفادات کے غلام نہیں رہ سکتے۔ چھوٹے بھائی نے اگر بچنا ہوتا تو ابھی تک بچ گیا ہوتا۔ دو سال مقتدر حلقوں کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے کافی تھے۔ اس عرصے میں اگر کوئی نتیجہ حاصل نہ ہوا تو مستقبل اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ بھائی کو سنبھالا دینے سے کہیں زیادہ پارٹی کو قیادت فراہم کرنا ضروری ہے۔

پنجاب کے بعض حلقوں میں یہ بات چیت جاری ہے کہ اگر شہباز شریف اپنے مفادات کے لیے پارٹی کو دو سال تک ساکت رکھ سکتے ہیں تو انہوں نے وفاداری کا کون سا اسٹام لکھ کر دیا ہوا ہے۔ بہتے پانی میں وہ بھی ہاتھ دھو لیں گے تو کوئی قیامت نہیں آئے گی۔ اس ماحول کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے نواز شریف کے پاس پارٹی کارکنان اور مقامی و صوبائی لیڈران سے رابطہ دوبارہ سے بحال کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مولانا فضل الرحمن جیسی اہم سیاسی جماعتوں کی ناراضی مجبوری کا ایک اور پہلو ہے۔ سیاسی طور پر وہ تمام باتیں جو ن لیگ کی قیادت کرنا نہیں چاہتی یا کر نہیں سکتی، مولانا کے پلیٹ فارم سے ہو رہی تھیں۔ مولانا فضل الرحمن کو پیپلز پارٹی اور ن لیگ دونوں نے ایک اہم موڑ پر لا کر چھوڑ دیا۔ حالت یہ بنی کہ ق لیگ کی کمزور سی ضمانت پر اکتفا کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کو خفت آمیز پسپائی اختیار کرنی پڑی۔ کیوں کہ وہ زیرک سیاست دان ہیں لہذا اپنے اندر اٹھنے والے ابال کو زبان پر لانے سے گریز کیا۔

کئی ملاقاتوں میں اپنی مایوسی اور غصے کا مسلسل اظہار کر چکے ہیں۔ اس وقت ان کو شہباز شریف کی قیادت سے کوئی خاص ردعمل نہیں مل رہا۔ نہ ہی مستقبل میں یہ کیفیت تبدیل ہوتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے۔ اگر نواز شریف اپنے ٹیلی فون کی لائنیں نہیں کھولتے تو اپوزیشن جماعتیں کبھی متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گی۔ پیپلز پارٹی نے گفتار سے جو جہاد کیا ہے، اپنے کردار سے اس کی نفی کر کے ابھی سے عملی سیاست میں پچھلی نشست پر براجمان ہو چکی ہے۔

نواز شریف یا تو سیاست میں موجود خلا کو اپنے رابطوں کے ذریعے پر کر سکتے ہیں اور یا پھر حزب اختلاف کی ٹوٹ پھوٹ کو دور سے بیٹھ کر دیکھتے ہوئے افسردگی طاری کر کے گزارا کر سکتے ہیں۔

مگر سب کچھ مجبوری کے تحت نہیں کیا جا رہا۔ اس میں موقع شناسی بھی ہے۔ موجودہ علاقائی حالات میں نواز شریف اگر سیاسی طور پر متحرک نہیں ہوتے تو ان کی حالات شناسی پر سوالیہ نشان اٹھ جاتے۔ ن لیگ کی فرنٹ سیٹ دوبارہ سے سنبھالنا باموقع بھی ہے اور عمل مجبوری بھی۔ اب اگر اس کے بعد نواز شریف دوبارہ سے سیاسی سکتے میں چلے گئے تو پھر مشکل ہی مشکل ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ