’طبیعیات کے قوانین سے بھی تیز‘ مستقبل کی پیش گوئی کرنے والی چِپ

محققین کا کہنا ہے کہ 1.2  ٹریلین ٹرانزسٹر سے بنی سیریبراس سی ایس ون چِپ مستقبل میں ہونے والے واقعات کی پیش گوئی ’طبیعیات کے قوانین سے بھی تیز‘ کر سکتی ہے۔

سیریبراس سی ایس ون نامی چِپ، جس میں 1.2  ٹریلین ٹرانزسٹر ہیں، نے ایک پاور پلانٹ میں ایندھن کے جلنے (combustion) کی سمیولیشن ایک سپر کمپیوٹر سے 200 گنا تیز کی۔(بشکریہ ؛ سیریبراس ویب سائٹ)

محققین کا کہنا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی کمپیوٹر چِپ پر کیے جانے والے حالیہ ٹیسٹس میں معلوم ہوا ہے کہ وہ مستقبل میں ہونے والے واقعات کی پیش گوئی ’طبیعیات کے قوانین سے وہی نتائج آنے کی رفتار سے بھی تیز‘ کر سکتی ہے۔

سیریبراس سی ایس ون نامی چِپ نے، جس میں 1.2  ٹریلین ٹرانزسٹر ہیں، ایک پاور پلانٹ میں ایندھن کے جلنے (combustion) کی سمیولیشن ایک سپر کمپیوٹر سے 200 گنا تیز کی۔ 462 سینٹی میٹر سکوائر کی یہ چِپ 10 لاکھ سے بھی زائد متغیروں کا تجزیہ، جس میں درجہ حرارت میں تبدیلی سے لے کر تھری ڈی ہوا کی ہل جل شامل تھی، اتنی تیزی سے کی کہ وہ حقیقی وقت سے بھی تیزی میں یہ دکھانے میں کامیاب ہوگئی کہ آگے کیا ہوگا۔

امریکہ کے ڈیپارٹمنٹ آف اینرجی کی نیشنل اینرجی ٹیکنالوجی لیبارٹری سے اشتراک میں بننے والی سیریبراس سی ایس ون کو ’دنیا کا طاقت ور ترین مصنوعی ذہانت والے کمپیوٹر سسٹم‘ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس میں لگے ٹرانزسٹرز کی تعداد حال میں اعلان کردہ نویڈیا اے 100 80 جی بی چِپ سے 22 گنا زیادہ ہے جو  جدید ترین سپر کپمیوٹروں کے لیے بنی ہے۔

ایک بلاگ پوسٹ میں سیریبراس نے لکھا: ’اس سے سائنسی کمپیوٹنگ کی کارکردگی میں اہم پیش رفت کے لیے راہ ہموار ہوئی ہے۔‘

بلاگ کے مطابق: ’سی ایس ون پہلا ایسا سسٹم ہے جس نے حقیقی وقت میں دس لاکھ سے زائد فلوئڈ سیلز کی سمیولیشن کرنے میں بہترین کارکردگی دکھائی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب سی ایس ون کو ایک پاور پلانٹ کی اس کے موجودہ آپریٹنگ حالات کے ڈیٹا کی بنیاد پر سمیولیشن کرنے کو دی جائے تو وہ آپ کو مستقبل میں ہونے والے واقعات اس سے بھی تیزی سے بتا دے گی جتنے وقت میں طبیعیات کے قوانین وہی نتائج بتائیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس پیش رفت کے حوالے سے ایک تحقیق گذشتہ ہفتے سپر کمیوٹنگ کانفرنس ایس سی 20 میں پیش کی گئی تھی۔ اس تحقیق کا ابھی دیگر سائنس دانوں اور ماہرین کے جائزے سے گزرنا باقی ہے۔

چِپ کی وسیع کمپیوٹنگ کی طاقت کو حقیقی دنیا کے مناظر (scenarios)کی سمیولیشن کرنے اور نیورل نیٹ ورکس کو ٹرین کرنے میں استعمال کیا جائے گا جسے فلائٹ ڈیک پر ہلی کاپٹر کو لینڈ کرنے کے لیے اس کے روٹرز کے گرد ہوا کے بہاؤ کے ماڈل کو نظر میں رکھتے ہوئے سب سے بہترین طریقے سمیولیٹ کرنا۔

کمپنی نے ایک اور چِپ کے بارے میں بھی کہا ہے جس میں 2.6  ٹریلین ٹرانسزٹر ہوں گے جس سے مزید پیچیدہ حقیقی دنیا کی سمیولیشن بن سکیں گی۔

اس سب سے ایک بار میٹرکس سٹائل کمپیوٹر سمیولیشنز کے بارے میں سوال اٹھ رہے ہیں جو حقیقت اور وجود کی نوعیت پر قیاس کرتے ہیں۔

2003 میں فلاسفر نِک بوسٹروم کی جانب سے پیش کردہ سمیولیشن ہائپوتھیسس کے مطابق مستقبل میں کرہ عرض کی حقیقی دکھنے والی سمیولیشن کو چلانے کے لیے بڑے پیمانے پر کمپیوٹنگ پاور استعال کی جائے گی۔

اس مفروضے کی تشہیر ٹیک ارب پتی ایلون مسک بھی کر چکے ہیں جن کا دعویٰ ہے یہ 99.99  فیصد  ممکن ہے کہ ہم جس کائنات میں رہ رہے ہیں وہ ایک کمپیوٹر سمیولیشن ہے۔

2016 میں ایک کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا:  ’چالیس سال پہلے ہمارے پاس پونگ تھے۔ اب چالیس سال بعد ہمارے پاس فوٹوریئلسٹک تھری ڈی سمیولیشن ہیں جنہیں کروڑوں لوگ ایک وقت میں کھیل رہے ہیں اور بہتر سے بہتر ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ آپ بہتری کی کوئی بھی شرح سوچ لیں، ان گیمز اور حقیقت میں فرق کر پانا ناممکن ہو جائے گا۔‘

حقیقی لگنے والی کائنات کی سطح پر سمیولیشنز کا بننا ابھی بہت دور ہے اور روائتی کمپیوٹروں کا استعمال کرتے تو ایسا ہونا ممکن نہیں۔ تاہم نہایت طاقت ور کوانٹم کمپیوٹروں سے ایس سمیولیشن بننے کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔

اگر ایسا کم پیمانے پر بھی ممکن نہیں ہوتا تو نظریاتی طور پر اس ٹیکنالوجی سے مستقبل کے بارے میں درست پیش گوئیاں کرنا تو ممکن ہوگا۔

فرانسیسی پولیمیتھ پیئر سائمن لیپلیس کی جانب سے پیش کردہ تھوٹ ایکسپیریمنٹ (سوچنے کا تجربہ) وجوہاتی یا سائنسی ڈیٹرمنزم (causal or scientific determinism) یہ کہتا ہے کہ ماضی اور مستقبل کے واقعات کا طبیعیات کے قوانین سے حساب لگایا جا سکتا ہے اگر کائنات میں ہر ایٹم کے عین مقام اور رفتار کا پتہ ہو ۔

لیپلیس کے شیطان نامی یہ تجربہ 1814 میں سامنے آیا تھا جس میں ایک ’ذہانت‘ پر قیاس کیا گیا تھا جو ’فطرت کو بنانے والی تمام اشیا کے تمام مقام کا حساب لگا کر ماضی اور مستقبل کا حال بتا سکتی ہو۔‘

اپنے Philosophical Essay on Probabilities میں لیپلیس نے لکھا: ’ایس ذہانت کے لیے کچھ بھی غیر یقینی نہیں ہوگا اور مستقبل ماضی کی طرح اس کی نظروں کے سامنے ہوگا۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی