نیورالنک: دماغ کو کمپیوٹر سے جوڑنے والی چِپ کی رونمائی

مسک کا کہنا ہے کہ سکے کے حجم جتنی نیورالنک چِپ سے آپ نہ صرف اپنے فون اور کمپیوٹر سے جڑ جائیں گے بلکہ مستقبل میں یادوں کو محفوظ اور ری۔پلے کرنے کے قابل بھی ہو جائیں گے۔

یہ چِپ 'سکے کے حجم کے برابر' ہے اور کھوپڑی کے کسی بھی ٹکڑے کی جگہ لگائی جا سکتی ہے۔(اے ایف پی /نیورالنک)

ایلون مسک نے ایک متحرک دماغ کو کمپیوٹر سے منسلک کرنے کا عملی مظاہرہ کیا ہے جس ٹیکنالوجی سے انہیں امید ہے کہ یہ انسانوں اور مصنوعی ذہانت کو جوڑنے کا اہم ذریعہ بن سکے گی۔ 

ارب پتی بزنس مین کے نیورو ٹیکنالوجی سٹارٹ اپ ’نیورالنک‘ کے زیراہتمام ایک لائیو پروگرام کے دوران مسک نے ایک چِپ دکھائی جس کو براہ راست ایک سور کے دماغ میں پلانٹ کیا گیا تھا

سپیس ایکس اور ٹیسلا جیسی کمپنیوں کے مالک نے پہلے بھی خبردار کیا تھا کہ اگلے پانچ سالوں میں خطرہ ہے کہ مصنوعی ذہانت انسانوں کو پیچھے چھوڑ جائے گی۔

’نیورالنک‘ کی ٹیکنالوجی اپلیکیشن کا ابتدائی استعمال دماغی امراض اور بیماریوں کے علاج میں ہو گا۔  مسک کا کہنا ہے:  ’اس آلے کو آسانی سے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی میں پلانٹ کرنے سے اہم مسائل حل ہوجائیں گے۔‘

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس (مصنوعی ٹیکنالوجی) کی حتمی صلاحیت تقریباً لامحدود ہے جس کی ایک مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا ڈرائیور کے بغیر چلنے والی ٹیسلا گاڑی کو اپنے ذہن کے ذریعے ہی طلب کرنا ممکن ہوگا۔ 

مسک نے کہا: ’آپ اس سے اندھے پن کو دور کرسکتے ہیں، آپ فالج کا علاج کرسکتے ہیں اور آپ بہرے پن جیسے مسائل حل کرسکتے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا: ’مستقبل میں آپ یادوں کو محفوظ اور ری۔پلے کرنے کے قابل ہوسکیں گے۔ یہ ’بلیک مرر‘ کی قسط کی طرح ہے۔ بلآخر آپ انہیں کسی نئے جسم یا روبوٹ باڈی میں ڈاؤن لوڈ کرسکیں گے۔‘

یہ چِپ 'سکے کے حجم کے برابر' ہے اور کھوپڑی کے کسی بھی ٹکڑے کی جگہ لگائی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

مسک نے کہا: ’یہ آپ کی کھوپڑی میں چھوٹی تاروں کے ساتھ کہیں بھی فٹ آ سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے مجھ میں ابھی ’نیورالنک‘ لگا ہو اور آپ کو اس بارے میں پتہ بھی نہ چلے۔ شاید میں نے یہ لگا رکھا ہو۔‘

مسک نے دعویٰ کیا کہ اس میں ایک دن تک چلنے والی بیٹری موجود ہے اور ڈیوائس براہ راست اسے لگانے والے کے سمارٹ فون سے منسلک ہو جائے گی۔

’نیورالنک‘ کے 2019 ایونٹ کے دوران دکھائے گئے ایک پروٹو ٹائپ ورژن کے برعکس یہ نئی ڈیوائس مکمل طور پر وائرلیس ہے اور انڈکشن (induction) کا استعمال کرتے ہوئے چارج ہو سکتی ہے۔

جب تازہ ورژن کا سور پر تجربہ کیا گیا تو وہ اس کے دماغ کی سرگرمی کو پڑھنے کے قابل تھا جب کہ اس سے سور کے دماغ کو دیرپا نقصان بھی نہیں پہنچا۔

مسک نے کہا: ’نیورالنک‘ ڈیوائس کو قابل عمل بنانے کے لیے نئی بھرتیاں کی جا رہی ہیں اس وقت کمپنی کی ویب سائٹ پر ایک درجن سے زیادہ اسامیوں کی فہرست شائع کی گئی ہے۔

تاہم اس بارے میں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا کہ یہ ڈیوائس صارفین کے لیے کب تک دستیاب ہوگی حالانکہ اس کی قیمت کسی اچھے سمارٹ فون سے زیادہ نہیں ہوسکتی۔

مسک نے کہا: ’پہلے یہ بہت مہنگا پڑے گا لیکن پھر اس کی قیمت میں تیزی سے کمی آجائے گی۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم قیمت کو چند ہزار ڈالر تک کرنا چاہتے ہیں۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی