فلائے دبئی کی پہلی کمرشل پرواز اسرائیل پہنچ گئی

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے بعد دونوں شہروں کے درمیان یہ پہلی کمرشل پرواز تھی۔

(ٹوئٹر- اوفیر گینڈل مین)

فلائے دبئی نے جمعرات سے اسرائیل کے لیے براہ راست پروازوں کا آغاز کیا ہے اور اس سلسلے کی پہلی پرواز کچھ دیر پہلے اسرائیل میں لیئڈ ہوئی ہے۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات معمول پر آنے کے بعد دونوں شہروں کے درمیان یہ پہلی کمرشل پرواز تھی۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کے ترجمان اوفیر گینڈل مین کی ٹویٹ میں انہوں نے پہنچنے والے مسافروں کو خوش آمدید کہا ہے۔

قبل ازیں انہوں نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی بتایا کہ 'اسرائیلی وزیر اعظم فلائے دبئی کی پہلی پرواز کو خؤش آمدید کہنے کے لیے بین گورین ائیرپورٹ پر موجود ہوں گے۔'

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات تعلقات کے معمول پر آنے کے اس عمل کو کرونا سے متاثرہ معیشت کی بحالی کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور دبئی میں سیاحوں کی بڑی تعداد کی آمد بھی متوقع ہے۔

فلائے دبئی کے سی ای او غیث الغیث کا ایک مہینہ قبل اس سروس کے اعلان کے موقع پر کہنا تھا کہ 'دونوں ممالک کے درمیان پروازوں کا آغاز معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرے گا۔'

دبئی کی یہ فضائی کمپنی تل ابیب کے لیے دن میں دو پروازیں چلائے گی جبکہ اسرائیلی فضائی کمپنیاں ای ون اے ون اور اسرائیر اگلے مہینے سے دونوں شہروں کے درمیان پروازیں شروع کریں گی۔

ابوظہبی کی اتحاد ائیرویز کا کہنا ہے کہ تل ابیب کی لیے اس کی پروازیں مارچ 2021 سے شروع ہوں گی۔

دونوں ممالک اس سے قبل ایک دوسرے کے شہریوں کے لیے ویزا شرط ختم کرنے کے معاہدے پر بھی دستخط کر چکے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد ہونا باقی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے بعد بحرین اور سوڈان بھی اسرائیل سے تعلقات قائم کر چکے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا