سیالکوٹ:ایئرپورٹ بنانے سے ایئرلائن کی منظوری تک کا سفر

صنعت کاروں کے مطابق انہوں نے سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ اور ایئر سیال بنا کر صنعتی کاروبار میں اضافہ کیا ہے، جس میں مزید وسعت لائی جائے گی۔

(تصویر: ویب سائٹ ائیر سیال)

پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کے صنعت کاروں نے مصنوعات کی برآمدات کے لیے مثالی اقدام اٹھاتے ہوئے اپنی مدد آپ کے تحت ایک بین الاقوامی ایئر پورٹ کے بعد اپنی ایئر لائن بھی منظوری کروالی ہے۔

سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ اور ایئر سیال دو الگ الگ رجسٹرڈ کمپنیاں ہیں، جن کے سرمایہ کار بھی الگ ہیں۔

صنعت کاروں کے مطابق انہوں نے پرائیویٹ ایئرپورٹ اور ایئرلائن بنا کر یہاں کے صنعتی کاروبار میں اضافہ کیا ہے اور ایسا ماڈل دنیا میں ابھی تک کہیں نہیں اپنایا گیا، جس میں مزید وسعت لائی جائے گی۔

ایئر سیال پر لاگت اور آپریشن میں تاخیر کی وجہ کیا رہی؟

انڈپینڈنٹ اردو نے اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ایئر سیال کمپنی کے مرکزی عہدیدار امین احسان سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ سیالکوٹ ایئرپورٹ کے ساتھ ہی ایئر سیال کمپنی بنانے کا فیصلہ ہوا تھا، تاہم بعض رکاوٹوں کے باعث اس کے آپریشن میں تاخیر ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے ابتدائی طور پر تین بڑے جہاز لیز پر لیے ہیں جبکہ تین سال پہلے لائسنس بھی حاصل کر لیا گیا تھا، جس پر چار ارب روپے خرچ ہوچکے ہیں۔ اس کمپنی میں سرمایہ کاروں کی تعداد 450کے قریب ہے اور کمپنی کا بورڈ آف ڈائریکٹرز حکمت عملی طے کرتا ہے۔

تاخیر کی وجہ بتاتے ہوئے امین احسان نے بتایا کہ 'گذشتہ چند سالوں سے جہاز دستیاب نہیں تھے اور جہازوں کے انجن میں خرابی کا مسئلہ بھی درپیش رہا۔ اس کے بعد کرونا لاک ڈاؤن شروع ہوگیا تو کئی ماہ اس کی وجہ سے تاخیر ہوئی، لیکن اب تمام تیاریوں کے بعد اجازت اور لائسنس کی تجدید کے لیے سمری کابینہ کو منظوری کے لیے پیش کی گئی، جس کے بعد رواں ماہ ایئر لائن کا آپریشن شروع ہوجائے گا۔ '

سول ایوی ایشن کے قوانین کے مطابق ایک سال تک کمپنی صرف اندرون ملک آپریشن چلائے گی اور اس کے بعد منظوری ملنے پر بین الاقوامی آپریشنز کی ابتدا کی جائے گی۔

کیا ایئر سیال کو حکومت رعایت دے رہی ہے؟

انڈپینڈنٹ اردو کو موصول دستاویزات کے مطابق ایئر سیال لائسنس جاری ہونے پر بھی تین سال گزرنے کے باوجود فضائی آپریشن شروع کرنے میں ناکام رہی اور اس کے لائسنس کی بار بار توسیع کرائی گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایئر سیال کو قانون کے مطابق لاگو ہونے والا 10 فیصد جرمانہ معاف کرکے تیسری مرتبہ لائسنس میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے، جبکہ فضائی آپریشن مقررہ مدت میں شروع نہ کرنے پر 10 فیصد سکیورٹی ڈیپازٹ کی رقم ضبط اور لائسنس منسوخ ہونا تھا۔

لائسنس کے مطابق ایئر سیال نے 5 ستمبر 2018 کو فضائی آپریشن شروع کرنا تھا۔حکومت نے 31 جنوری 2019 کو پہلی مرتبہ جبکہ 14 جنوری 2020 کو دوسری مرتبہ اس میں توسیع دی، بعدازاں ایوی ایشن ڈویژن نے کرونا وائرس کی وجہ سے اس میں 31 مارچ 2021 تک توسیع کی سفارش کردی۔

دوسری جانب ایوی ایشن ڈویژن کی جانب سے ایئر سیال کمپنی کو 10 فیصد جرمانہ بھی معاف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ ایوی ایشن ڈویژن کی سمری پر حتمی فیصلہ کرے گی۔

سیالکوٹ ایئرپورٹ اور ایئر سیال کے مقاصد

نجی کمپنی کے ذریعے بننے والے سیالکوٹ بین الاقوامی ایئرپورٹ کے چیئرمین قیصر بریار نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ 'سیالکوٹ اور گجرانوالہ ڈویژن صنعتی علاقے ہیں لیکن یہاں بننے والی مصنوعات کو ایکسپورٹ کرنا مشکل ہوتا تھا، کبھی لاہور یا اسلام آباد سے ایکسپورٹ کرانی پڑتی تھی جبکہ دوسرے ممالک سے خریداروں کے آنے اور باہر سے سامان لانے میں بھی دشواریاں تھیں، مگر سیالکوٹ ایئرپورٹ بننے سے وہ مسائل حل ہوگئے ہیں جبکہ اب ایئر سیال سے مزید سہولت ملے گی۔'

انہوں نے بتایا کہ پہلے پانچ سو ملین کی ایکسپورٹ تھی، جو اب سالانہ 2.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

قیصر بریار کے مطابق: 'اس ایئر پورٹ پر حکومت نے تخمینہ 18 ارب روپے لگایا تھا جبکہ ہم نے ایک ہزار ایکڑ رقبے پر ساڑھے تین ارب روپے میں ایئرپورٹ تعمیر کرلیا۔'

انہوں نے بتایا کہ سول ایوی ایشن صرف مانیٹرنگ کرتی ہے جبکہ مکمل آپریشنل اختیار ہمارا ہے۔ یہاں انٹرنیشنل فلائٹس بھی لینڈ کر سکتی ہیں اور کارگو بھی یہیں سے جاتا اور آتا ہے۔

قیصر بریار کے مطابق سیالکوٹ انٹرنیشنل ایئرپورٹ لمیٹڈ دنیا میں نجی شعبے کے تحت بننے والا پہلا ایئرپورٹ ہے۔

'اس منصوبہ میں سرمایہ کاروں کی تعداد 365 ہے اور انتظام چلانے کے لیے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور عہدیدار بنائے گئے ہیں۔ یہ مکمل آزاد کاروباری مقاصد کے لیے بنایا گیا ہے، جس سے پوری صنعتی برادری فائدہ اٹھا رہی ہے، لہذا دوسرے بڑے شہروں کے صنعت کاروں کو چاہیے کہ وہ بھی اس جانب سرمایہ کاری پر توجہ دیں، جس سے کاروبار کے ساتھ ساتھ ملکی خدمت بھی ہوتی رہے گی۔'

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان