اسلام آباد ہائی کورٹ میں تعینات ہونے والے دو نئے جج کون ہیں؟

اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت ججز کی تعداد سات ہے جن میں سے تین ایڈیشنل جج ہیں، دو مزید ججز کی تعیناتی کے بعد یہ تعداد نو ہو جائے گی۔

(کولاج)

جوڈیشل کمیشن پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھاتے ہوئے دو نئےایڈیشنل ججز کا اضافہ کیا ہے، طارق محمود جہانگیری اور بابر ستار کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج تعینات کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

اب معاملہ ججز پارلیمانی کمیٹی میں جائے گا جو آٹھ اراکین پر مشتمل ہے وہاں سے حتمی منظوری کے بعد وزارت قانون باضابطہ نوٹیفیکیشن جاری کرے گی۔

دونوں ججوں کو ایک سال کے لیے ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا ہے۔ سال بعد اُن کی کارکردگی کی بنیاد پر مستقل کرنے فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر ججز پارلیمانی کمیٹی چودہ دن میں کسی نتیجے پر نہیں پہنچتی تو جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کو حتمی تصور کیا جائے گا۔

جمعرات کو دن دو بجے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی زیرصدارت جوڈیشل کمیشن کا اجلاس ہوا۔ جس میں ایڈیشنل ججز کے ناموں کی منظوری دی گئی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں اس وقت ججز کی تعداد سات ہے جن میں سے تین ایڈیشنل ججز ہیں۔ دو مزید ججز کی تعیناتی کے بعد ہائی کورٹ کے ججز کی تعداد نو ہو جائے گی۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے قیام کے وقت ججز کی تعداد سات ہی تجویز کی گئی تھی لیکن حال ہی میں پارلیمانی کمیٹی نے ججز کی تعداد سات سے بڑھا کر دس کرنے کی سفارش کی تھی۔ تاکہ انصاف کی فراہمی کو تیز کیا جا سکے اور مقدمات زیر التوا نہ رہیں۔

طارق محمود جہانگیری

ہزارہ ڈویژن خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے طارق محمود جہانگیری 1992 سے اسلام آباد بار کے رکن ہیں اور انہوں نے بی اے ایل ایل بی کے بعد اپنی وکالت کا آغاز کیا اور بتدریج تجربے کی بنیاد پر ہائی کورٹ اور پھر سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔

پچپن سالہ طارق محمود جہانگیری فوجداری و دیوانی مقدمات کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ کچہری وکالت کے دوران 2005 میں ڈسٹرکٹ بار کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ جب کہ 2009 اور 2010 میں ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کے فرائض بھی سرانجام دے چکے ہیں۔ اس کے بعد 2011-2013 میں ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ 2016 میں اسلام آباد بار کے صدر جب کہ 2017 میں ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد رہ چکے ہیں۔ طارق محمود جہانگیری اسلام آباد میں واقع قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ قانون میں گزشتہ پانچ سال سے تدریسی فرائض بھی سرانجام دے رہے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

طارق محمود جہانگیری احتساب عدالت میں مسلم لیگ ن کے رہنما احسن اقبال کے وکیل کے طور پہ بھی پیش ہوتے رہے ہیں۔

طارق جہانگیری کے زمانہ طالب علمی کے دوست اور سابق جج شاہ خاور نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ زمانہ طالب علمی میں طارق جہانگیری کی سیاسی وابستگی پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ تھی۔ لیکن گزرتے وقت کے ساتھ وہ میچور اور متوازن شخصیت کے حامل بن کر اُبھرے ہیں اور وکالت میں طویل جدوجہد کے بعد آج اس مقام تک پہنچے ہیں اور وہ مضبوط جمہوری سوچ رکھتے ہیں۔

بابر ستار

اسلام آباد کے رہائشی پینتالیس سالہ بابر ستار مشہور وکیل ہونے کے ساتھ ساتھ کالم نگار ہیں اور نجی ٹی وی چینل پر پروگرام میں تجزیہ بھی کرتے رہے ہیں۔
بابر ستار نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے1997 میں انٹرنیشنل ریلیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے وکالت کی بیچلر ڈگری جب کہ ہارورڈ سکول آف لا سے ایل ایل ایم یعنی قانون کی ماسٹر ڈگری بھی حاصل کی۔ بابر ستار کارپوریٹ اور ٹیکس سیکٹر کے اچھے وکیل سمجھے جاتے ہیں۔ مختلف مقدمات میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی ، پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اور ایس ای سی پی کے بھی وکیل رہ چکے ہیں۔

واضح رہے بابر ستار جسٹس قاضی فائز عیسی کیس میں اُن کی قانونی ٹیم کا حصہ بھی رہے ہیں جبکہ صحافی مطیع اللہ جان کیس توہین عدالت کیس میں بھی بابر ستار بطور وکیل پیش ہوئے۔

بابر ستار ٹویٹر پر پونے چار لاکھ فالوورز کے ساتھ کافی فعال نظر آتے رہے ہیں اور سول سپرمیسی پہ یقین رکھتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان