امید ہے فرانس جلد میکروں سے جان چھڑا لے گا: اردوغان

ترک صدر طیب اردوغان نے فرانسیسی صدر پر لفظی وار کرتے ہوئے کہا: 'ایمانوئل میکروں فرانس کے لیے ایک پریشانی ہیں۔ ان کی حکومت میں فرانس ایک بہت مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ فرانس جتنا جلدی ممکن ہو ان سے جان چھڑا لے گا۔'

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان  (دائیں) اور  فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں (بائیں) کے مابین کچھ عرصے سے لفظی جنگ جاری ہے (تصاویر: اےا یف پی)

ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں کو 'ایک پریشانی' قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ فرانس جلد ہی 'ان سے جان چھڑا لے گا۔' دونوں رہنماؤں کے درمیان کچھ عرصے سے جاری لفظی جنگ میں یہ اردوغان کا میکروں پر تازہ ترین وار تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق استنبول میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ 'میکروں فرانس کے لیے ایک پریشانی ہیں۔ ان کی حکومت میں فرانس ایک بہت مشکل وقت سے گزر رہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ فرانس جتنا جلدی ممکن ہو ان سے جان چھڑا لے گا۔'

ترکی اور فرانس کے درمیان مشرقی بحیرہ روم اور نگورنو کاراباخ کے علاقے سمیت کئی تنازعات چل رہے ہیں۔

 یاد رہے کہ ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں پر 'اسلام مخالف' ایجنڈا رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترک صدر نے فرانسیسی صدر کی دماغی صحت پر بھی سوال اٹھایا تھا جس کے بعد فرانس نے ترکی میں تعینات اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا۔

16 اکتوبر کو فرانس میں تاریخ کے ایک استاد کے سر قلم کرنے کے واقعے کے بعد فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے مذہبی شدت پسندوں کے خلاف جنگ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

قتل ہونے والے استاد نے اپنی کلاس میں آزادی اظہار پر کی جانے والی بحث کے دوران اپنے طلبہ کو پیغمبر اسلام کے توہین آمیز خاکے دکھائے تھے۔

اس سے قبل رواں برس اگست میں  بحیرہ روم میں اتحادی ممالک کے ساتھ جنگی مشقوں کے آغاز پر ترکی نے فرانس کو خبردار کیا تھا کہ وہ 'بدمعاشی' نہ کرے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا