ترکی آذربائیجان میں ’جنگجوؤں‘ کی موجودگی کی وضاحت کرے: فرانس

برسلز میں سربراہی اجلاس کے بعد ایک خطاب میں میکرون نے کہا کہ ترکی نے غیر ملکی جنگجوؤں کو آذربائیجان بھیج کر ’سرخ لکیر عبور کی ہے جو ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔‘

انہوں نے کہا: ’فرانس اس کے ردعمل میں ترکی سے اس نکتے پر وضاحت طلب کرتا ہے۔‘ (اے ایف پی)

 

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آرمینیا کے ساتھ متنازع خطے کاراباخ پر ہونے والی لڑائی کے دوران ’جہادی جنگجوؤں‘ کی آذربائیجان آمد کی وضاحت کرے۔

برسلز میں سربراہی اجلاس کے بعد خطاب میں فرانسیسی صدر نے نیٹو پر زور دیا کہ وہ اپنے اتحادی کے اقدامات کا جائزہ لے۔

میکرون نے کہا کہ ترکی نے غیر ملکی جنگجوؤں کو آذربائیجان بھیج کر ’سرخ لکیر عبور کی ہے جو ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔ میں نیٹو کے تمام شراکت داروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے رکن کے برتاؤ کا جائزہ لیں۔‘

انہوں نے کہا: ’فرانس اس کے ردعمل میں ترکی سے اس نکتے پر وضاحت طلب کرتا ہے۔‘

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان کاراباخ کے متنازع خطے میں جاری جھڑپوں کے دوران دونوں ہی ممالک نے ایک دوسرے پر غیر ملکی جنگجوؤں کو جنگ میں جھونکنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ 

آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف کے مشیر خارجہ حکمت نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ ’مشرقی وسطیٰ کے کچھ ممالک کے ’کرائے کے فوجی‘ آرمینین فوج کے شانہ بشانہ ہمارے خلاف لڑ رہے ہیں۔‘

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق روس کی وزارت خارجہ نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ شامی اور لیبیا سے تعلق رکھنے والے ’غیر قانونی مسلح گروہوں کے جنگجوؤں کو ناگورنو کاراباخ خطے میں بھیجا جا رہا ہے۔‘

روس نے دونوں ممالک سے تنازع میں ’غیر ملکی دہشت گردوں اور کرائے کے فوجیوں‘ کے استعمال کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

شامی باغی گروپ کے دو ذرائع نے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ترکی آذربائیجان کی حمایت کے لیے شامی باغی جنگجوؤں کو بھیج رہا ہے جب کہ ترکی اور آذربائیجان نے اس دعوے کی تردید کی تھی۔

اس سے قبل میکرون نے برسلز میں یورپی ممالک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کی تھی جس میں یورپی یونین کے رہنماؤں نے قبرص کے پانیوں میں گیس کی تلاش پر ترکی کو خبردار کرنے پر اتفاق کیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم فرانسیسی صدر متنازع  کراباخ خطے میں ہونے والے واقعات سے مشتعل دکھائی دیے جہاں آرمینینائی اور آزربائیجانی افواج کے مابین زبردست لڑائی جاری ہے۔

میکرون نے الزام لگایا کہ انٹلیجنس اطلاعات کے مطابق یہ معلوم ہوا ہے کہ شام کے شہر حلب سے ’جہادی گروہوں‘ کے 300 شامی جنگجو ترکی کے راستے آذربائیجان پہنچے ہیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ’ان جنگجوؤں کو جانا جا چکا ہے، ان کا پتہ لگایا جا چکا ہے اور ان کی نشاندہی کی جا چکی ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ وہ آنے والے دنوں میں ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان سے اس مسٔلے پر فون پر بات کریں گے۔

ادھر آرمینیا نے ترکی پر الزام لگایا ہے کہ وہ اپنے اتحادی آذربائیجان کی حمایت کے لیے ’کرائے کے فوجی‘ بھیج رہا ہے اور پیر کو برطانیہ میں قائم شامی مبصرین کی تنظیم برائے انسانی حقوق نے بتایا کہ انقرہ نے شمالی شام سے کم از کم 300 جنگجو آذربائجان روانہ کیے تھے۔

میکرون نے رواں ہفتے بھی آذربائیجان کی حمایت کرنے والے ترکی کے ’غیر ذمہ دار اور خطرناک‘ بیانات کی مذمت کی تھی۔

روئٹرز کے مطابق آرمینیا کے وزیر اعظم نیکول پاشینیان نے ترکی پر ’ایک بار پھر نسل کشی کے راستے پر پیش قدمی کرنے‘ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انقرہ کی فوج ناگورنو کاراباخ میں نسلی آرمینیائی فوجوں کے خلاف آذربائجان کی افواج کی براہ راست راہنمائی کر رہی ہے۔

اتوار کے روز سے جاری لڑائی میں درجنوں افراد کی ہلاکت اور سیکڑوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

اس لڑائی نے جنوبی قفقاز میں استحکام کو خطرے سے دوچار کر دیا ہے جو عالمی منڈیوں میں تیل اور گیس لے جانے والی پائپ لائنوں کی ایک اہم راہداری ہے۔

فرانس، روس اور امریکہ کے صدور نے جمعرات کو ناگورنو-کاراباخ میں فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا لیکن ترکی نے کہا ہے کہ تین بڑی طاقتوں کا امن اقدام میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔

آرمینیا کے وزیراعظم پشینیان نے ایک اخبار کو بتایا: ’موجودہ صورت حال (سنہ 2016 میں ہونے والی جھڑپوں کے مقابلے میں) بہت سنگین ہے۔ اس کا موازنہ 1915 میں ہونے والے واقعات سے کرنا زیادہ مناسب ہوگا جب 20 ویں صدی کی پہلی نسل کشی کے دوران 15 لاکھ سے زیادہ آرمینیائی باشندوں کو ذبح کیا گیا تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’ترک ریاست ایک بار پھر نسل کشی کے راستے پر گامزن ہے۔‘

ترکی جو نسل کشی کے ان الزامات کی تردید کرتا ہے ان تبصروں سے مزید مشتعل ہو سکتا ہے۔ ترکی نے تسلیم کیا ہے کہ پہلی عالمی جنگ کے دوران سلطنت عثمانیہ میں بسنے والے بہت سے آرمینیائی عثمانی افواج کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے تھے لیکن وہ ان اعداد و شمار، منظم ہلاکتوں اور نسل کشی کی تردید کرتا رہا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا