آذربائیجان، آرمینیا کے مابین کشیدگی کا پس منظر

1991 میں سویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد آرمینیائی علیحدگی پسندوں نے جنہیں یریوان کی حمایت حاصل تھی سرگرمیاں شروع کیں۔ اس جنگ نے 30 ہزار افراد کو ہلاک اور سینکڑوں ہزاروں کو بے گھر کیا۔

آذربائیجان نے ان علاقوں کے خلاف فضائی اور زمینی حملوں کا آغاز کیا جو بین الاقوامی سطح پر جمہوریہ کے علاقے کا ایک حصہ ہیں، لیکن قریب 30 سالوں سے آرمینیائی فوج کے قبضے میں ہیں (اے ایف پی/ آرمینیائی وزارت دفاع)

آرمینیا اور آذربائیجان نے حالیہ برسوں میں اتوار کا دن انتہائی پریشان کن گزارا۔ ایک بار پھر جنگ کے بادل قفقاز پر چھائے ہوئے ہیں۔

یہ کہانی اس وقت شروع ہوئی جب اتوار کی صبح آذربائیجان نے اُن علاقوں کے خلاف فضائی اور زمینی حملے شروع کیے جو بین الاقوامی طور پر جمہوریہ کے علاقے سمجھے جاتے ہیں لیکن قریب 30 سالوں سے آرمینیائی فوج کے زیر قبضہ ہیں۔

آذربائیجان کے عہدے داروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے فضولی صوبے میں قارخان بگلی، گرونڈ، گارڈریز اور عبد الرحمن اولیا کے گاؤں کو ’آزاد‘ کرایا ہے۔ یہ خبر آذربائیجان کے ایک ٹی وی میزبان نے جوش و خروش سے سنائی۔

صوبہ فضولی کا نام سولہویں صدی کے مشہور شاعر سے لیا گیا ہے، جنہوں نے آذربائیجانی، ترک اور فارسی زبان میں شاعری کی۔ وہ عراق میں کربلا سے تھے جو ان دنوں میں عثمانیوں کے زیر حکمرانی تھا۔ فضولی آذربائیجان کے 10 سرکاری صوبوں میں سے ایک ہے، لیکن اس کے بیشتر علاقے پر 1993 سے آرمینیا نے قبضہ کیا ہوا ہے۔

یہ علاقہ ’جمہوریہ آرٹسخ‘ کے زیر قبضہ ہے، جسے آرمینیا نے ناگورنو-کاراباخ کا خطہ قرار دیا ہوا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک (خود آرمینیا بھی نہیں) اس جمہوریہ کی آزادی کو تسلیم نہیں کرتا ہے، حالانکہ امریکہ میں آرمینیائی لابی نے کچھ امریکی ریاستوں اور لاس اینجلس شہر کے اس سے سرکاری تعلقات قائم کروائے ہیں۔ باکو افواج کے آزاد کرائے گئے بیشتر دیہات ویران ہیں۔

ابتدائی اشارے یہ ہیں کہ باکو 1990 کی دہائی میں کھوئے ہوئے علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ تھامس ڈی وال ایک برطانوی مصنف اور یورپ میں بین الاقوامی امن برائے کارنیگی اینڈومنٹ کے سینیئر تجزیہ کار نے لکھا کہ ’ان کے خیال میں یہ کام ایک ایسے وقت میں سرانجام دینے کا ہے جب عالمی برادری کی توجہ اس پر مرکوز نہیں ہے۔ امریکہ  انتخابی مہم میں مصروف ہے، یورپ کی سلامتی اور تعاون کی تنظیم کا کوئی رہنما نہیں ہے اور ابھی سرد موسم نہیں آیا ہے۔‘

لندن میں واقع چیتھم ہاؤس کے ماہر لارنس بریورز نے ٹویٹ کیا کہ اتوار کی جھڑپ کا دونوں ممالک کے مابین سن 2016 کی چار روزہ جنگ سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ’اس مرتبہ اس کا پیمانہ بڑا ہے۔‘

علاقائی جنگ کا خطرہ

اس طرح کے تنازعات میں دونوں طرف سے پروپیگینڈا کی جنگ ہمیشہ کی طرح گرم ہے۔ آرمینیائی وزارت دفاع کے ترجمان نے روسی سخوئی 30 طیارے تعینات کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ملک کے وزیر اعظم نیکولا پشینیان نے، ایک جمہوری قانونی حیثیت کے حامل لوگوں کے ذریعہ منتخب ہونے والی قوم پرست شخصیت، پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک لہجے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یریوان شاید پہلی بار جمہوریہ آرٹسخ کی آزادی کو تسلیم کرے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کے ملک نے دو ہیلی کاپٹر، تین ڈرون اور تین آرمینیائی ٹینک تباہ کر دیئے ہیں اور فوج کو تیار رہنا کا حکم دیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آذربائیجان کے صدر الہام علیئف نے کہا کہ ’ہم اپنے شہدا کے خون کو روندنے نہیں دیں گے۔ ہم اپنے علاقے کا دفاع کر رہے ہیں اور ناگورنو - کاراباخ کا تعلق آذربائیجان سے ہے۔‘

پشینیان نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’تمام آرمینیائی باشندوں کو اپنی تاریخ، اپنے وطن، اپنی شناخت، اپنے مستقبل اور اپنے حال کا دفاع کرنے کے لیے متحد ہونا چاہیے۔ ہم اپنے آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے لوگوں اور فوج کا دفاع کرنے سے باز نہیں آئیں گے۔‘

پی ایچ ڈی کے ایک طالب علم آرٹک بیگلرین نے، جو خود ساختہ جمہوریہ کا عہدے دار بھی ہے ٹویٹر پر دعوی کیا ہے کہ آذربائیجان میں ہونے والے حملوں میں ایک ماں اور ایک بچہ ہلاک ہوا ہے۔ انہوں نے زخمیوں کی تصاویر جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’آذربائیجان نے جان بوجھ کر عام شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔‘ ان کے بقول شہریوں پر حملے خود ساختہ جمہوریہ آرٹیکس کے دارالحکومت سٹیپناکارٹ میں ہوئے۔ انہوں نے ایسی اطلاعات بھی دیں جن میں یہ دعوی کیا گیا تھا کہ شامی افواج انہیں ترکی کے اسلام پسند گروہوں کی حمایت حاصل ہے آرمینیا پر حملوں میں حصہ لیا تھا۔

دوسری طرف علیئف کے معاون اور صدارتی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کے محکمہ کے سربراہ حکمت حاجییوں نے ٹویٹ کیا کہ ’شہری ہلاک اور زخمی ہوئے‘ اور ’متعدد شہری مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو تباہ کردیا گیا۔‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ باکو ’جارحیت اور طاقت کے استعمال کے لیے آرمینیائی سیاسی - فوجی قیادت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ آذربائیجان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے باکو عدالتی عہدے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ آرمینیائی فوج کے حملے میں ایک کنبے کے پانچ افراد ہلاک اور 19 زخمی ہوگئے ہیں۔

آرمینیائی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’ہم آزربائیجان کی فوجی سیاسی قیادت کی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ یہ قیادت اپنی جارحیت کے نتائج کی پوری ذمہ دار ہوگی۔‘

ناگورنو کاراباخ

باکو اور یریوان کے درمیان نگورونو کاراباخ کا متنازعے علاقہ ہے۔ سابق ​​سوویت یونین نے 1921 میں نسلی آرمینیائی علاقہ آذربائیجان کے ساتھ ضم کر دیا تھا۔

1991 میں سویت یونین کے ٹوٹ جانے کے بعد آرمینیائی علیحدگی پسندوں نے جنہیں یریوان کی حمایت حاصل تھی سرگرمیاں شروع کیں۔ اس جنگ نے 30 ہزار افراد کو ہلاک اور سینکڑوں ہزاروں کو بے گھر کیا۔

روس، امریکہ اور فرانس کی جانب سے 1994 میں جنگ بندی کے باوجود وقتاً فوقتاً جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ تازہ جھڑپ سے قبل اس سال جولائی میں بھی لڑائی میں دونوں جانب سے 17 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

اپریل 2016 میں لڑائی میں 110 افراد لقمہ اجل بنے۔

بغاوتیں اور خاندانی وراثت

چوتھی صدر سے آرمینیا ایک مسیحی ملک ہے جو سویت یونین سے آزادی پانے کے بعد سے سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔   

آرمینیا کا روس کے ساتھ اتحاد ہے لیکن روسی افواج براہ راست اس تنازعے میں شریک نہیں ہیں۔ ماسکو نے بھی کسی حد تک اعتدال پسند ہونے کی کوشش کی ہے اور باکو کے ساتھ قریبی تعلقات بھی بنائے ہیں۔ اسی لیے تازہ جھڑپ کے بعد ماسکو نے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ نیٹو اور خطے کے دوسرے ممالک جیسے کہ ایران نے بھی وہی پوزیشن لی۔

2018 کی بہار میں سڑکوں پر احتجاج موجودہ وزیر اعظم نکول پشینیان کو اقتدار میں لے کر آیا۔ انہوں نے بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات اٹھائے اور مقبول عدالتی اصلاحات متعارف کروائیں۔

مسلمان اکثریتی آذربائیجان واحد خاندان کے زیرتسلط کے آمرانہ کنٹرول میں 1993 کے بعد سے رہا۔ خفیہ ایجنسی کے جی بی کے سابق افسر حیدر علیئف نے اکتوبر 2003 تک آہنی پکڑ کے ذریعے اقتدار پر کنٹرول رکھا۔ انہوں نے اپنی موت سے چند ہفتے قبل اقتدار اپنے بیٹے الہام کے حوالے کیا۔

باپ کی طرح الہام نے بھی ان کے مخالفین کو کچلا اور 2017 میں اپنی بیوی مہربان کو ملک کا پہلے نائب صدر بنایا۔

ایران کا کردار

 باکو اور یریوان میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ ٹیلیفون پر گفتگو کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے ’جنگ بندی اور عداوتوں کو فوری ختم کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار میں مذاکرات کے آغاز پر بھی زور دیا۔‘ انہوں نے ٹوئٹر پر کہا کہ ’ناگورنو - کاراباخ میں خوفناک تشدد پر ایران کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ ہمارے پڑوسی ہماری ترجیح ہیں اور ہم مذاکرات میں مدد کے لیے تیار ہیں۔ اب خطے کو امن کی ضرورت ہے۔‘

ایران کا اس معاملے میں ایک خاص مقام ہے اور اس کی ایک پیچیدہ تاریخ بھی رہی ہے۔ ایران کا ایک منفرد مقام ہے۔ 1992 میں رفسنجانی کی صدارت کے دوران جب تہران نے مغرب کے ساتھ تناؤ کم کیا تو آرمینیا اور آذربائیجان کے صدور جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق ’تہران اعلامیہ‘ جاری کرنے ایران آئے تھے۔ لیکن اگلے ہی روز آرمینیائی فوج نے آذربائیجان کے قلب میں واقع شوشا شہر پر حملہ کر دیا۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی وجہ سے متعدد سازشی نظریات نے جنم لیا۔

اس واقعے کے بعد ’تہران کے بیان‘ بےمعنی ہوگئے۔

تاہم ، ان تمام سالوں میں ایران یریوان کے قریب رہا ہے۔ جولائی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے مابین حالیہ تنازعے میں باکو نے تہران پر آرمینیا کو اسلحہ بھیجنے اور اس معاملے میں روس کے ساتھ تعاون کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ آزاد ذرائع کے ذریعہ بھی اس دعوے کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس سلسلے میں ایرانی عہدے داروں نے یہ دعوے کئے ہیں کہ ایران کاراباخ جنگ میں خفیہ طور پر آذربائیجانیوں کی مدد کر رہا تھا۔ اس سلسلے میں سب سے اہم ریمارکس مجلس کے رکن سید حسن امیلی اور اردبیل میں آیت اللہ خامنہ ای کے نمائندے نے دیے، جن کا کہنا تھا کہ ایران نے ’ایک انٹرمیڈیٹ پالیسی‘ اختیار کی تھی لیکن اسی دوران باکو کی حمایت میں ’مزاحمتی گروپ‘ تشکیل دیئے گئے تھے۔ پاسداران انقلاب کے اس وقت کے کمانڈر محسن رضائی نے بھی 2013 میں کہا تھا کہ کاراباخ جنگ میں مارے گئے ایرانی فوجیوں کو باکو میں دفن کیا گیا تھا۔

ترکی نیا کھلاڑی

ترکی نے جس کے قفقاز میں علاقائی اہمیت حاصل کرنے کی خواہش ہے تیل سے مالا مال اور ترکی بولنے والے آذربائیجان کا ساتھ دیا ہے۔ ان کے اتفاق کی بنیاد آرمینیا سے متعلق بداعتمادی ہے۔ انقرا اکثر ناگورنو کاراباخ کے معملے میں آذربائیجان کے حق میں بیانات جاری کرتا رہتا ہے۔ پاکستان بھی آذربائیجان کی حمایت کرتا ہے۔

جمہوریہ آذربائیجان کے قیام کے بعد سے ترکی نے فطری طور پر دنیا کے سب سے بڑے ترک بولنے والے ملک کی حیثیت سے اپنے ساتھ رکھنے کی کوشش کی ہے۔ نوے کی دہائی میں ترکی کے ساتھ آذربائیجان ترک بولنے والے ریاستوں کی تعاون کونسل کے بانیوں میں سے ایک تھا جس کے آج پانچ مستقل ممبر ہیں (بشمول ازبکستان، قازقستان، کرغزستان) اور دو مبصر ارکان (ہنگری اور ترکمانستان)۔

حالیہ برسوں میں ترک صدر رجب طیب اردوغان نے اپنے ہی ملک میں ترک قوم پرستوں کے ساتھ زیادہ اتحاد کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ترکی آذربائیجان کے ساتھ پچھلے تنازعات کی نسبت بہت مضبوط ہے اور آرمینیا کے لیے ایک خطرہ ہے۔ اردوغان نے آرمینیا کو ’خطے میں امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ‘ قرار دیا ہوا ہے۔ کئی اعلی عہدے دار بھی باکو کے دفاع میں بات کرتے ہیں۔ صدر کے مواصلات کے محکمہ کے سربراہ فخرالدین الٹون نے ٹوئٹر پر انگریزی میں لکھا کہ ’ہم آذربائیجان میں ہر قسم کے جارحیت کے خلاف اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ آرمینیا کو حملوں سے قبل اس پر غور کرنا چاہیے۔ جنگ اور عدم استحکام سے خطے کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔‘ انہوں نے اور دیگر نے قوم پرست موضوعات کے ساتھ تصاویر اور ویڈیوز بھی جاری کی ہیں۔

یقینا ترکی اور آذربائیجان کی قربت نہ صرف نسلی وجہ ہے بلکہ بنیادی سٹریٹجک وجوہات بھی ہیں۔ آذربائیجان میں تیل اور گیس کے بہت بڑے وسائل ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موسم گرما کے تنازع کے دوران آرمینیا نے متنازع خطے پر حملہ نہیں کیا۔

یریوان کی ترکی سے مخاصمت کی ایک وجہ پہلی جنگ عظیم میں عثمانیہ دور خلافت کے دوران پندرہ لاکھ آرمینیائی باشندوں کا قتل عام بھی ہے۔ تیس سے زائد ممالک اسے نسل کشی قرار دیتے ہیں تاہم انقرہ اس سے متفق نہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ ترکی اس نئے میدان میں مذاکرات کی میز ترتیب دے سکتے ہیں یا نہیں۔ تب تک قفقاز کے پہاڑوں پر جنگی بادل منڈلاتے رہیں گے۔

تیل

آذربائیجان نے حالیہ دنوں میں تیل سے آمدن کو اپنی شبہہ تبدیل کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کرنا شروع کیا ہے۔

باکو نے بڑی سپانسرشپ ڈیلز بشمول یورو 2020 فٹبال چیمپین شپ کی ہیں تاہم یہ مقابلہ کرونا وائرس کی وجہ سے ملتوی کر دیا گیا تھا۔

باکو 2016 سے فارمولہ ون گرینڈ پری ریس تواتر کے ساتھ منعقد کروا رہا ہے۔

آذربائیجان نے یورپی ممالک کو روس کی جگہ توانائی فراہم کرنے کے متبادل کے طور پر پیش کیا ہے۔

غیرملکی آرمینیائی

بین الاقوامی سٹیج پر آرمینیا سے باہر اس کے کئی بااثر شہری آباد ہیں جو عثمانیہ دور میں فرار ہوئے تھے۔ ان میں ریئلٹی ٹی وی سٹار کم کارڈیشن، آنجہانی گلوکار چارلس ازناور اور پاپ سٹار اور اداکارہ شیر شامل ہیں جو اپنے جڑیں آرمینیا سے جوڑتی ہیں۔

 کارڈیشین نے خود کو آذربائیجان کی نسل کشی کے خلاف غیرسرکاری سفیر کے طر پر متحرک ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ