خونی تصادم کے بعد آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان دوبارہ جھڑپیں

آرمینیا کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کی فورسز نے ان کے دیہات پر مارٹر داغے ہیں جبکہ آذربائیجان کے مطابق آرمینین فوج نے ان کے سرحدی دیہات پر گولہ باری کی ہے۔

آرمینیائی اور آزربائیجان کی فوجوں کے درمیان اکثر اس علاقے میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔(تصویر: اے ایف پی)

قفقاز خطے کے روایتی حریفوں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان کشیدگی میں کچھ توقف کے بعد جمعرات کو مشترکہ سرحد پر دوبارہ جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دونوں ملکوں کی وزارت دفاع نے ایک دوسرے پر جھڑپیں شروع کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

آرمینیا کا کہنا ہے کہ آذربائیجان کی فورسز نے ان کے دیہات پر مارٹر اور ہووٹزر داغے ہیں جبکہ آذربائیجان کے مطابق آرمینین فوج نے ان کے سرحدی دیہات پر گولہ باری کی ہے۔

دو روز قبل منگل کو آرمینیا اور آذربائیجان کی افواج کے درمیان ہونے والے خونی تصادم میں دونوں اطراف سے کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق منگل کو ہونے والی جھڑپ میں دونوں جانب سے بھاری توپ خانے اور مسلح ڈرونز کا استعمال کیا گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بحیرہ کیسپین اور بحرہ اسود  کے درمیان واقع ان دو ممالک کے درمیان متنازع سرحد پر تصادم اتوار سے جاری تھا۔

آذربائیجان نے تسلیم کیا کہ تین روزہ لڑائی میں اس کا ایک شہری اور 11 فوجی ہلاک ہوئے جب کہ آرمینیا کا کہنا ہے کہ اس کے چار فوجی منگل کو مارے گئے تھے۔

جنوبی قفقاز کے یہ ہمسایہ ممالک ایک متنازع علاقے ناگورنو کاراباخ پر قبضے کے لیے ایک دوسرے سے کئی سالوں سے برسرپیکار ہیں۔ یہ علاقہ 1994 کی جنگ کے خاتمے کے بعد آرمینیائی فوج کے کنٹرول میں ہے جس پر آزربائیجان کا بھی دعویٰ ہے۔ اس برسوں پرانے تنازع کو حل کرنے کی بین الاقوامی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔

آرمینیائی اور آزربائیجان کی فوجوں کے درمیان اکثر اس علاقے میں جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔

موجودہ تصادم 2016 کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا