آرمینیا کے ساتھ تصادم، آذربائیجان کا ’کرفیو، مارشل لا‘ نافذ کرنے کا اعلان

آذربائیجان نے آرمینیا کے ساتھ تازہ تصادم کے بعد جنگی صورت حال کے پیش نظر دارالحکومت باکو اور متعدد دیگر شہروں میں مارشل لا اور کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان ان بدترین جھڑپوں سے خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کا امکان پیدا ہو گیا ہے (اے ایف پی/ آمینیا وزارت دفاع)

آذربائیجان نے آرمینیا کے ساتھ تازہ تصادم کے بعد جنگی صورت حال کے پیش نظر دارالحکومت باکو اور متعدد دیگر شہروں میں مارشل لا اور کرفیو نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

صدارتی محل  کے ترجمان حکمت حاجیئیف نے صحافیوں کو اس حوالے سے بتایا کہ ’باکو اور کئی دوسرے شہروں اور اضلاع، جو متنازع خطے ناگورنو کاراباخ کے قریب ہیں، میں رات نو بجے سے صبح چھ بجے تک مارشل لا اور کرفیو نافذ کیا جائے گا۔‘

دوسری جانب عہدیداروں نے بتایا کہ اتوار کو آذربائیجان کی فوج کے ساتھ لڑائی کے دوران ناگورنو کراباخ میں 16 آرمینین جنگجو مارے گئے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق متنازع خطے کی وزارت دفاع کے مطابق ’ابتدائی اعدادوشمار کے مطابق لڑائی شروع ہونے کے بعد سے (کاراباخ فوج کے) 16 اہلکار ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔

ادھر آذربائیجان کے پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق ’بھاری گولہ باری کے نتیجے میں آذربائیجان کے ایک گاؤں میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔‘

جبکہ آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پشینان نے آذربائیجان کے ساتھ تازہ جھڑپ میں ترک مداخلت پر عالمی برادری کو خبردار کیا ہے۔

آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تازہ ترین سرحدی جھڑپوں کے بعد قفقاز خطے کے ان دونوں روایتی حریفوں کے درمیان جنگ کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

آذربائیجان اور آرمینیا کی فورسز کے مابین اتوار کو ہونے والے تصادم میں دونوں جانب شہری اور فوجی ہلاکتوں کی اطلاعات ہیں تاہم تاحال ایک بچے کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔

اس تازہ صورتحال کے بعد پاکستان میں بھی بڑی تعداد میں لوگ آذربائیجان کے ساتھ اظہار یکجہتی ککا اظہار کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اتوار کو دن بھر ٹوئٹر پر ’آذربائیجان از ناٹ الون‘ کا ہیش ٹیگ پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ بنا رہا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان نے آذربائیجان پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

آذربائیجان اور آرمینیا ایک متنازع سرحدی علاقے ناگورنو کاراباخ پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

تازہ تصادم کے بعد اتوار کو قوم سے ٹیلیویژن خطاب میں آذربائیجان کے صدر الہام علیئیف نے آرمینیائی فوج کو شکست دینے کا عزم کیا۔

علیئیف نے کہا کہ ’ہمارا مقصد انصاف کی فتح ہے اور ہم یہ (جنگ) جیتیں گے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ آذربائیجان کی فوج اپنی سرزمین کے لیے لڑ رہی ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق آرمینیا اور ناگورنو کاراباخ خطے کی انتظامیہ نے علاقے میں مارشل لا نافذ کر کے فوجیوں کو متحرک کرنے کا حکم دیا ہے۔

آرمینین وزیر اعظم نیکول پشینیان نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں افواج سے کہا کہ ’اپنی مقدس سرزمین کے دفاع کے لیے تیار ہوجائیں۔‘

آرمینیا نے اتوار کو دعویٰ کیا کہ آذربائیجان نے خطے کی شہری آبادی اور بستیوں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور بچے کی ہلاکت ہوئی۔

جبکہ آذربائیجان کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے آرمینیا کی جنگی سرگرمیوں کو روکنے اور اپنی آبادی کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹینکوں، توپ خانے، میزائلوں، ہوائی طاقت اور ڈرونز کا استعمال کرتے ہوئے ’جوابی کارروائی‘ کی ہے۔

آذربائیجان کے صدارتی محل کے ترجمان نے کہا کہ ’تصادم میں ان کے شہریوں اور فوجی اہلکاروں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔‘

کراباخ کے محتسب نے بھی خطے میں ’شہری ہلاکتوں‘ کا دعویٰ کیا ہے۔

پس منظر اور عالمی برادری

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 1990 کی ایک جنگ میں نسلی آرمینیائی علیحدگی پسندوں نے باکو کے اس خطے پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس جنگ میں 30 ہزار افراد مارے گئے تھے۔

دونوں حریفوں کے درمیان یہ تنازع 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے بدترین تنازعات میں سے ایک ہے جس کو حل کرنے کے لیے مذاکرات 1994 میں جنگ بندی معاہدے کے بعد بڑی حد تک معطل رہے ہیں۔

فرانس، روس اور امریکہ نے امن کی کوششوں میں دونوں حریفوں کے درمیان کئی بار ثالثی کرائی ہے لیکن امن معاہدے کے لیے آخری اہم کوشش 2010 میں ختم ہوگئی تھی۔

تازہ ترین کشیدگی کے بعد دنیا بھر سے دونوں ممالک پر جنگ سے گریز کرنے کے مطالبات سامنے آ رہے ہیں۔

روس اور فرانس نے دوںوں ممالک سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

ماسکو کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’ہم فریقین سے فوری طور پر جنگ بندی اور صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے بات چیت شروع کرنے پر زور دیتے ہیں۔‘

آذربائیجان کے حلیف ترکی نے حالیہ کشیدگی کا ذمہ دار آرمینیا کو قرار دیتے ہوئے باکو کو اپنی ’مکمل حمایت‘ کی یقین دہانی کرائی ہے۔

ترک صدر رجب طیب اردگان کے ترجمان ابراہیم کلن نے ٹویٹر پر کہا: ’ہم آرمینیا کی جانب سے آذربائیجان کے خلاف حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں، آرمینیا نے شہری مقامات پر حملہ کرکے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بحیرہ کیسپین اور بحرہ اسود  کے درمیان واقع ان دو ممالک کے درمیان متنازع سرحد پر تصادم جولائی سے جاری تھا۔

آذربائیجان نے تسلیم کیا کہ تین روزہ لڑائی میں اس کا ایک شہری اور 11 فوجی ہلاک ہوئے جب کہ آرمینیا کا کہنا ہے کہ اس کے چار فوجی مارے گئے تھے۔

جنوبی قفقاز کے یہ ہمسایہ ممالک ایک متنازع علاقے ناگورنو کاراباخ پر قبضے کے لیے ایک دوسرے سے کئی سالوں سے برسرپیکار ہیں۔ یہ علاقہ 1994 کی جنگ کے خاتمے کے بعد آرمینیائی فوج کے کنٹرول میں ہے جس پر آزربائیجان کا بھی دعویٰ ہے۔ اس برسوں پرانے تنازع کو حل کرنے کی بین الاقوامی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔

آرمینیائی اور آزربائیجان کی فوجوں کے درمیان اکثر اس علاقے میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

موجودہ تصادم 2016 کے بعد سے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ثابت ہوا ہے۔

رواں سال جولائی میں بھی اسی طرح کے تصادم میں بحیرہ کیسپین اور بحرہ اسود  کے درمیان واقع ان دو ممالک کے درمیان متنازع سرحد پر تصادم میں دونوں جانب 15 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا