دبلے پتلے مگر آزادی صحافت کے پہلوان چھاپڑا صاحب

یقیناً کراچی پریس کلب کے درودیوار بھی چھاپڑا صاحب کی موت پر نوحہ کناں ہوں گے کیونکہ ان کا پرانا ساتھی جو بچھڑ گیا ہے۔  

(تصویر- عبداللہ جان)

دبلے پتلے کمزور جسم مگر بلند اور کھنکدار آواز، بلا کی تیز یادداشت اور کمال ذہانت کے مالک بزرگ صحافی عبدالحمید چھاپڑا ہم میں نہیں رہے۔

ان کی موت سے صحافت کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچا لیکن آزادی رائے کے لیے ان کی جدوجہد اور لگاؤ لمبے عرصے تک یاد رکھے جائیں گے۔ 

عبدالحمید چھاپڑا سے، جنہیں چھوٹے بڑے سب چھاپڑا صاحب پکارتے تھے، راقم کی پہلی ملاقات 1993 راولپنڈی میں ہوئی، جب پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کے ایک اجلاس میں شرکت کے لیے پشاور سے آنا ہوا اور اس کے بعد آنے والے کئی برس تک چھاپڑا صاحب کی صحبت متواتر نصیب ہوتی رہی۔ 

صحافتی اور میڈیا کارکنوں کی نمائندہ تنظیموں میں چھاپڑا صاحب کو سننے کے بیشتر مواقع میسر آئے جبکہ نجی محفلوں میں بھی ان سے بحث مباحثوں کا شرف حاصل رہا۔ ہر جگہ وہ آزادی صحافت، صحافیوں اور دوسرے میڈیا ورکرز کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے نظر آئے۔ 

ان کی تقاریر اور گفتگو سنتے ہوئے ہمیشہ احساس ہوا کہ وہ کسی بھی موضوع پر بلا کی آسانی سے بول سکتے ہیں اور اظہار رائے کی آزادی اور میڈیا ورکرز کے حقوق تو ان کے پسندیدہ موضوعات تھے، جن سے متعلق تمام تفصیلات انہیں جیسے ازبر تھیں۔ 

چھاپڑا صاحب کی جس خوبی نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ ان کی یادداشت تھی۔ انہیں تاریخیں، مقامات، نام اور واقعات بالکل صحیح یاد رہتے تھے اور وہ اکثر ماضی کے واقعات چھوٹی سے چھوٹی تفصیلات کے ساتھ بیان کر کے سامنے والے کو حیران کر دیا کرتے۔ 

پی ایف یو جے کے اکثر اجلاس کئی کئی گھنٹے اور رات گئے تک جاری رہتے تھے جس دوران چھاپڑا صاحب کرسی میں بظاہر سو جایا کرتے تھے لیکن نام آتے ہی آنکھیں کھول کر اپنے مخصوص انداز میں جواب دیتے۔ ان کی دوران اجلاس نیند کارروائی میں کسی غلطی کی صورت میں بھی کھل جایا کرتی تھی۔

نوے کی دہائی کے اواخر میں اخباری کارکنوں کی تنخواہوں کا تعین کرنے کے لیے ساتواں ویج بورڈ تشکیل ہوا جس میں راقم کو اس وقت کے صوبہ سرحد سے میڈیا ورکرز کی نمائندگی کا شرف حاصل ہوا۔ چھاپڑا صاحب کراچی سے بورڈ کے رکن تھے جبکہ میڈیا ورکرز کے دوسرے نمائندوں میں لاہور سے مرحوم آئی ایچ راشد، کوئٹہ سے ماجد فوز (مرحوم) اور اسلام آباد/راولپنڈی سے پرویز شوکت شامل تھے۔ 

ویج بورڈ کے اجلاسوں میں چھاپڑا صاحب نے ہمیشہ مالکان اخبارات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی اور میڈیا ورکرز کے حقوق کے دفاع کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا۔  

آپ نے کئی برس تک پی ایف یو جے اور آل پاکستان نیوزپیپرز ایمپلائیز کنفیڈریشن (ایپنک) کی سربراہی کرتے ہوئے پاکستان کے صحافیوں اور دوسرے میڈیا ورکرز کی بااحسن نمائندگی کی جبکہ متعدد بار کراچی پریس کلب کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ 

ستر کی دہائی میں صحافیوں کی ملک گیر احتجاجی تحریک میں چھاپڑا صاحب نے سرگرمی سے حصہ لیا اور جیل کی صعوبتیں برداشت کیں۔ وہ صحافتی تنظیموں کو روایتی انداز میں چلانے کے قائل تھے۔ مجھے یاد ہے لاہور میں پی ایف یو جے کے انتخابات کے دوران وہ بعض امیدواروں کے بڑے بڑے پوسٹرز اور بینرز لگانے پر ناخوش تھے۔ وہ کہتے تھے: ’پی ایف یو جے صحافیوں کی تنظیم ہے نہ کہ سیاسی جماعت اور ہمارے انتخابات بغیر کسی نمودونمائش کے ہونا چاہیے تاکہ ہارنے والوں کی دل آزاری نہ ہو۔‘

چھاپڑا صاحب کمزور اور نحیف جسم رکھنے کے باوجود ایک دبنگ شخصیت کے مالک تھے اور اپنے عقائد اور نظریات پر ہمیشہ کسی چٹان کی طرح ڈٹے نظر آئے۔ اس کا ثبوت 1993 میں ان کے ہمراہ پی ایف یو جے کے ایک وفد میں پڑوسی ملک بھارت کے دورے کے دوران دیکھنے کو ملا۔ 

دورے کے دوران انہیں کشمیریوں کی آواز بنتے ہوئے دیکھا اور سنا۔ بھارت میں بیٹھ کر کشمیر سے متعلق بھارتی پالیسیوں پر تنقید ان کے بہادر اور نڈر انسان ہونے کی غمازی کرتا تھا۔  

صحافتی کیریئر کے دوران چھاپڑا صاحب کئی اخبارات اور رسائل کے ساتھ منسلک رہے جس میں روزنامہ مساوات سرفہرست تھا۔ لمبے عرصے تک بھارت سے چھپنے والے رسالے انڈیا ٹو ڈے کے لیے بھی لکھتے رہے۔ ایک مرتبہ مجھے انڈیا ٹوڈے میں چھپنے والا مضمون دکھاتے ہوئے بولے: ’تمھیں پتہ ہے ایک آرٹیکل لکھنے کے لیے ایک سو آرٹیکلز پڑھنا پڑتے ہیں‘ 

اردو کے علاوہ انگریزی اور گجراتی زبانوں پر بھی عبور رکھتے تھے اور کئی انگریزی روزناموں سے منسلک بھی رہے۔ ایک اچھے ٹریڈ یونینسٹ اور صحافی ہونے کے علاوہ وہ ایک اچھے انسان بھی تھے۔  ایک مرتبہ کراچی پریس کلب میں آپ سے ملاقات ہوئی تو مجھے کہا کہ کل دوپہر کا کھانا میرے ساتھ کھانا اور اگلے دن گھر سے دال چاول بنوا کر لائے جو ہم نے پریس کلب کے کیفے ٹیریا میں تناول کیے۔ 

آپ کے بڑے بھائی کو گردوں کا عارضہ لاحق ہوا تو چھاپڑا صاحب نے اپنا ایک گردہ انہیں عطیہ کر دیا۔ ایک گردہ ہونے کے باعث پانی بہت زیادہ پیتے اور ہر وقت پانی کی بوتل اپنے پاس رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ میرے دریافت کرنے پر فرمایا: ‘میں دن میں کم از کم 13 گلاس پانی پیتا ہوں۔’ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

منگل کی شام ہمارے کراچی سے ساتھی امر گرڑو نے واٹس ایپ گروپ میں چھاپڑا صاحب کی موت سے متعلق پیغام دیا جسے پڑھ کر کچھ دیر کے لیے میں سکتے میں آ گیا اور ان کے ساتھ  گزرا ہوا وقت جیسے فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے سے گزر گیا۔ 

چھاپڑا صاحب اکیاسی سال کی عمر میں اس جہان فانی سے کوچ کر گئے جس کے ساتھ پاکستان میں آزادئ صحافت کے لیے جدوجہد کا ایک باب بند ہو گیا لیکن وہ اپنے پیچھے کچھ ایسے اصول اور اقدار چھوڑ گئے ہیں جن پر موجودہ اور آنے والے وقتوں کے صحافی کے لیے عمل کرنا ضروری ہو گا۔ 

چھاپڑا صاحب کو کراچی پریس کلب سے خاص لگاؤ تھا جب بھی کراچی جانا ہوتا تو چھاپڑا صاحب سے ملاقات پریس کلب میں ہی ہوتی۔ 

کراچی سے ہمارے ایک صحافی دوست نے ایک مرتبہ کیا خوب کہا تھا: ’گھر والوں کا خیال نہ ہو تو چھاپڑا صاحب رات بھی پریس کلب میں ہی گزاریں۔‘یقیناً کراچی پریس کلب کے درودیوار بھی چھاپڑا صاحب کی موت پر نوحہ کناں ہوں گے کیونکہ ان کا پرانا ساتھی جو بچھڑ گیا ہے۔  

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان