علاقائی کشیدگی اور پاکستان کا روابط کا مرکز بننے کا ادھورا خواب

پاکستان کا منفرد جغرافیائی محل وقوع اسے علاقائی رابطہ کاری اور تجارت کا اہم مرکز بنا سکتا تھا مگر افغانستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدہ تعلقات نے اس امکان کو محدود رکھا۔

2016 کی اس تصویر میں نیوی کا ایک اہلکار گوادر میں پورٹ پر تعینات ہے (اے ایف پی)

پاکستان کی پالیسیوں اور سوچ پر اس کے منفرد محل وقوع، جو جنوبی، وسطی اور مغربی ایشیا کے سنگم پر واقع ہے، کا گہرا اثر ہے۔

پاکستان کا بحری جغرافیہ بھی اسے جزیرہ نما عرب کے خلیجی عرب ممالک کے ساتھ ساتھ مشرقی افریقہ کے ممالک کے ساتھ بھی جوڑتا ہے۔ تاہم علاقائی جیوپولیٹکس کی پیچیدگیاں اور بالخصوص مشرقی اور مغربی ہمسایوں کے ساتھ کشیدہ دوطرفہ تعلقات، پاکستان کی اس صلاحیت کو محدود کر رہی ہیں جو اسے بین العلاقائی رابطہ کاری اور تجارتی راہداریوں میں ایک اہم مرکز بنا سکے۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی کشیدگی میں حالیہ اضافہ ایک بار پھر اس سٹریٹجک الجھن کو عیاں کر گیا ہے۔

قیام پاکستان کے وقت اس کے پڑوس کا ماحول اور عالمی سیاست کی تصویر آج کے مقابلے میں بالکل مختلف تھی۔ سرد جنگ کا آغاز ہو چکا تھا اور امریکہ اور سوویت یونین دونوں براعظموں میں اپنے اثر و رسوخ کے دائرے بڑھانے اور اپنے اپنے سیاسی بلاکس کے لیے اتحادی تلاش کرنے میں سرگرم تھے۔

اس تناظر میں پاکستان کا جغرافیہ اس کے لیے اہم مواقع لے کر آیا۔ ملک کے ٹوٹنے کے بعد بھی پاکستان جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی جیوپولیٹکس میں ایک کلیدی کھلاڑی کے طور پر اپنی اہمیت برقرار رکھے رہا۔

1979  میں پیش آنے والے واقعات، جن میں افغانستان پر سوویت حملہ، ایران کا انقلاب اور اسرائیل و مصر کے تعلقات کی بحالی شامل ہیں، نے خطے کی جیوپولیٹیکل بساط کو یکسر بدل دیا۔ ان تمام تبدیلیوں نے پاکستان کو، خصوصاً اس کے جغرافیے کی بدولت، ایک نہایت اہم علاقائی کھلاڑی بنا دیا۔

اس کے بعد پاکستان ’افغان جہاد‘ اور سوویت یونین کے پھیلاؤ کو روکنے کی وسیع تر کوششوں میں ایک فرنٹ لائن ریاست بن گیا۔ اس دور کے پاکستانی پالیسی سازوں نے صورت حال کو مہارت سے استعمال کرتے ہوئے اپنے جغرافیے سے سیاسی اور معاشی فوائد حاصل کیے۔

سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی وہ جیوپولیٹیکل مواقع بھی ختم ہو گئے جو پاکستانی ریاستی حکمت عملی کا محور بن چکے تھے۔ بدقسمتی سے پاکستان کی حکمران اشرافیہ نہ تو اس بدلی ہوئی حقیقت کو تسلیم کر سکی اور نہ ہی تیزی سے بدلتی دنیا اور خطے کے مطابق خود کو ڈھالنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے۔ اس کے برعکس ’سٹریٹجک ڈیپتھ‘ جیسے تصورات پاکستان کے جیوپولیٹیکل نقطہ نظر پر حاوی رہے۔

سوویت یونین کے خاتمے اور وسطی ایشیائی ریاستوں کی آزادی سے پاکستان کے لیے وسطی ایشیا سے رابطے کے نئے امکانات پیدا ہونے تھے مگر افغان خانہ جنگی میں مختلف فریقوں کی حمایت کے باعث یہ سیاسی مواقع کبھی عملی شکل اختیار نہ کر سکے۔

نائن الیون حملوں اور افغانستان پر امریکی یلغار کے بعد پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن ریاست بن کر ابھرا۔ کابل میں اس تبدیلی کے نتیجے میں بدقسمتی سے کچھ ایسے پاکستان مخالف عناصر کو بھی تقویت ملی جو طالبان حکومت کی حمایت پر پاکستان سے نالاں تھے۔ اگرچہ پاکستان نے افغانستان کے مختلف نسلی اور سماجی گروہوں کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے لیے کچھ سافٹ پاور اقدامات کیے، مگر مجموعی پالیسی بدستور سکیورٹی کے زاویے سے تشکیل پاتی رہی۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں، خصوصاً گوادر بندرگاہ کی ترقی، کا مقصد یہ تھا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بین العلاقائی تجارت کو فروغ دیا جا سکے۔ تاہم افغانستان میں عدم استحکام اور کابل کے ساتھ پاکستان کے کشیدہ تعلقات اس خواب کی تکمیل میں رکاوٹ بنے رہے۔

عمران خان کی حکومت کے دور میں جیو اکنامکس کا بیانیہ ضرور پیش کیا گیا، مگر ان بنیادی سیاسی مسائل کے حل کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا جو اس تصور کو حقیقت بنانے میں حائل تھے۔ 2021 میں طالبان کے افغانستان پر دوبارہ اقتدار کو بھی علاقائی رابطہ کاری کے لیے سازگار ماحول کی امید کے طور پر دیکھا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ابتدا میں دونوں جانب مثبت پیش رفت ہوئی اور ازبکستان افغانستان پاکستان (یو اے پی) ریلوے منصوبے اور وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا بجلی منصوبہ (کاسا-1000) جیسے منصوبوں پر کام شروع ہوا تاہم تحریک طالبان پاکستان کے سرحد پار حملوں میں اضافے اور طالبان کی جانب سے ان کے خلاف کارروائی سے انکار کے باعث دوطرفہ کشیدگی بڑھی اور یہ علاقائی رابطہ کاری کا عمل عملاً ٹھپ ہو کر رہ گیا۔

اکتوبر میں طالبان فورسز کے ساتھ شدید سرحدی جھڑپوں کے بعد پاکستان نے موثر طور پر افغانستان کے ساتھ اپنی سرحد بند کر دی ہے۔

یوں پاکستان کی سکیورٹی حکمت عملی ایک بار پھر اس کے علاقائی رابطہ کاری کے خوابوں سے جڑ گئی ہے۔ جیو اکنامکس کا منصوبہ عملی طور پر ختم ہو چکا ہے اور پاکستانی فیصلہ ساز ایک بار پھر تلخ جیوپولیٹیکل حقیقتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ صورت حال اس امر کا تقاضا کرتی ہے کہ پاکستان کے طاقت کے مراکز وسطی ایشیا سے جڑنے کے لیے نئے اور زیادہ حقیقت پسندانہ متبادل تلاش کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپنے وسیع تر بحری ہمسایہ خطے میں شراکت داروں کے ساتھ مضبوط تعلقات استوار کرنے اور اپنی بحری بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے وسائل مختص کرنے کی ضرورت ہے۔

صرف زمینی راستوں پر مبنی رابطہ کاری اور تجارتی نظام سے ہٹ کر تنوع پیدا کر کے ہی پاکستان اپنے مشرقی اور مغربی ہمسایوں کے ساتھ دائمی کشیدگی کو معاشی اثرات سے کم کر سکتا ہے۔

بشکریہ: عرب نیوز

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر