لنڈے بازار سے کپڑوں کی خریداری: چند ضروری باتیں

لنڈے میں دو قسم کے سٹال ہوتے ہیں۔ چھانٹی مطلب سلیکٹڈ اے کلاس، مکس مطلب ذمہ داری گاہک کی، اور اگر کوئی کہے کہ بھائی جان جو کچھ ہے آپ کے سامنے ہے تو وہاں سے چپ کر کے آگے نکل لیں۔ 

(اے ایف پی)

لنڈے کے کپڑے پہننا ہمارے یہاں بے عزتی والی بات سمجھی جاتی ہے۔ ہم لوگ چھوٹے تھے تو کوئی کلاس ویلو (بڑے ہونے پر پتہ چلا کہ یہ کلاس فیلو ہوتا ہے) کسی بھی وقت اس طعنے کی زد میں آ سکتا تھا۔

لنڈا ای اوئے، ایک بچہ پکارتا اور سارے اس غریب کو چھیڑتے رہتے۔ نیلی جینز پر سفید سلائی ہونا، شرٹ کے کالر نارمل فیشن سے زیادہ ہونا، کپڑوں کی فٹنگ درست نہ ہونا، لنڈے کی چیزوں کے لیے بہت سی نشانیاں خود اپنے طور پہ طے کر لی گئی تھیں۔

(اگر آپ لنڈے سے کپڑے خریدنے کے لیے راہنما اصول پڑھنے آئے ہیں تو سیدھے تھوڑا سا نیچے دیکھیے، الگ سرخی لگی ہے، وہیں سے پڑھ لیجیے۔ ورنہ یہ تھوڑی تکلیف ہو گی پندرہ بیس لائنوں کی۔ شکریہ)

میرے ماں باپ کے لیے بھی لنڈا ایک طعنہ تھا۔ امی ہمیشہ ہم دونوں بھائیوں کو ٹشن ٹائٹ تیار کیے رکھتی تھیں، بڑے ہونے پہ بس ایک شکایت ہوئی کہ بابا دونوں کے ایک جیسے کپڑے کیوں بناتے ہو یار؟ تو کپڑے عید، بقرعید، شادی بیاہ یا موسم کے حساب سے بنتے تھے اور اپنی حیثیت کے مطابق نئے لیے جاتے تھے۔

میں پہلی بار لنڈے بازار شاید کسی دوست کے ساتھ گیا تھا۔ آوارہ گرد تو شدید تھا، جس عمر کا بھی سوچوں، گھر میں بند ہونا یاد نہیں لیکن، لنڈے پہلی بار کسی کے ساتھ ہی گیا تھا کیونکہ مطلوبہ مہارت میسر نہیں تھی۔ اس وقت میری کمر 28 تھی اور 32 کی پتلون اٹھا کے لے آیا۔ رینگلر کی جینز تھی، ملتان تک اس وقت لیوائز یا رینگلر صرف ریڑھیوں پہ ہی پہنچ سکتے تھے، پتہ نہیں سائز سے چار انچ بڑی اور پھر کچھ پنکش جامنی سے رنگ کی جینز میں نے لی کس چکر میں؟ شاید برانڈ دیکھ کے اندھا ہو گیا تھا۔

گھر لے آیا۔ امی نے دیکھا تو جیسے مرے ہوئے چوہے کو دم سے پکڑ کے اٹھانا پڑا ہو، اس کراہت سے دو انگلیوں میں پکڑ کے جینز پوچے والے کپڑے کے ساتھ پھینک دی، کہا جب دھلیں گے کپڑے تو یہ علیحدہ سے دھلوا لوں گی۔ بڑا افسوس ہوا۔ دھل گئی، چار پانچ انچ بڑی پتلون کوئی شریف آدمی کیسے پہن سکتا ہے، تھی بھی چٹی گرمی اور وہ موٹی جینز ۔۔۔ بس دو چار بار گھر والوں کو یہ دکھانے کے لیے کہ بھئی میرا فیصلہ صحیح تھا، وہ جینز پہنی اور پھر گھٹنوں پہ سے کاٹ کے نیکر بنا لی۔ قسم سے وہ بھی نہیں پہنی گئی، آگ لگ جاتی تھی۔ آخر وہ کہیں دے دلا دی، جان چھوٹی۔ 

تو جب تک امی ابو کے ہاتھ میں رہا، اس گلی جانا مشکل تھا، چھٹ گیا تو بس چھٹتا چلا گیا۔ 

لیدر جیکٹس کا تازہ تازہ فیشن آیا، بڑی کلاس سمجھی جاتی تھی۔ اس زمانے میں بھی دس پندرہ ہزار سے کم اچھی جیکٹ مشکل ہی ملتی تھی۔ پشاور گیا تو وہاں خدا جانے کس بازار میں تھا، ایک میلہ لگا ہوا جیکٹوں کا، جیسے خرگوش گاجر کے کھیت میں ہوتا ہے کہ ایک کچری، اسے چھوڑا دوسری پہ لپکا، اس پہ دانت مارا پھر تیسری پہ، گھوم کے پھر پہلی گاجر ۔۔۔ تو بس یہ حال تھا اپنا۔ وہاں سے پانچ آٹھ سو کی ایک کالی جیکٹ خرید لی۔ اب یہ کوئی چورانوے پچانوے کا سین چل رہا ہے، چودہ پندرہ برس عمر تھی، وہ جیکٹ چار پانچ سال ہنڈائی اچھی طرح۔ اس کے بعد لیدر جیکٹ اتنی آرام دہ کوئی نہیں ملی۔ اب تو خیر کوٹ یا جیکٹ میں کندھے ایسے کھنچتے ہیں جیسے کسی جنگلی جانور کو کلف والی قمیص پہنا کے کھڑا کر دیں۔ پہلی کامیاب لنڈا شاپنگ غالبا یہی جیکٹ تھی۔ 

پھر اصل ضرورت تب پڑی جب نوکری شروع ہوئی۔ بڑے عرصے تک سیلز اینڈ مارکیٹنگ میں رہا۔ خدا کا شکر ہے ملٹی نیشنل نوکریاں تھیں بس ایک مسئلہ تھا۔ باؤ بن کے جانا پڑتا تھا۔ روز صاف قمیص، ٹائی، کھڑی دھار کی پتلون، چمکتے جوتے، اچھی بیلٹ، شیوڈ منہ اور چمکتے بال چاہیے ہوتے تھے۔ اصل حسنین جمال تو یہ ہے جو اب نظر آتا ہے، وہ والا بے چارہ کیا کرتا؟ 

شیو کا حل یہ نکالا کہ داڑھی رکھ لی، پتلون کاٹن کی پہننی شروع کر دی، جوتے پاکستان میں بہترین اور سستے ملتے ہیں، ان کا بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا، بالوں پہ ایک قطرہ سرسوں کا تیل پانی میں ملا کر نہاتے ہی لگا لیا، وہ بھی کام پورا۔ جو چیز مہنگی تھی وہ ڈریس شرٹ، ٹائی اور بیلٹ تھی۔

خاندانی بیلٹ تب بھی دو ہزار سے اوپر ملتی تھی، اچھی ڈریس شرٹ بھی اسی گیڑے میں، اور ٹائیاں تو خیر فیشن کے ایک سال بعد پاکستان پہنچا کرتی تھیں، ریٹ پھر بھی آسمانوں پہ۔ جہاں دن میں دو بار شرٹ بدلنی پڑے وہاں کیسے بندہ اتنی شرٹیں لائے گا؟ 

بھائی پہنچ جاتا ہر سیزن کے شروع میں لنڈا بازار، چن کے چھانٹی کا مال لیتا، تین ہزار میں چھ سات اعلی نسلی قمیصیں آ جاتیں۔ جتنا دھو لو، جتنا استری کر لو، نہ کالر میں بلبلہ آنا ہے نہ اس نے چمکنا ہے۔ یار جے سی پینی، سینٹ مائیکل، پولو ۔۔۔ یہ کبھی دیکھی ہیں چمکتی ہوئی؟ یہ تو کمبخت وہ ہیں جو دھل کے اور نکھر جاتی ہیں۔ تو بس عیاشی لگ گئی۔ ٹائیاں تو ایسے کہ بھلے پچاس خرید لیں، نہ ہونے کے برابر قیمت، بلکہ جھاکا ہی تھا کہ ہاں بھئی اب بیچتے ہیں تو کچھ دام تو لگائیں گے۔ یہی معاملہ بیلٹ کا تھا۔ چار سے پانچ سو میں دو سے تین سال نکالنے والی بیلٹ بھی مل جاتی تھی۔ 

کوٹ کا تو یہ ہے کہ آج بھی لنگھدے ٹپدے کبھی نظر آ جائے کوئی اچھا پیس تو باقاعدہ ایسے مچلتا ہوں کہ بس اللہ جانتا ہے، پھر یہ سوچ کے روکتا ہوں اپنے آپ کو کہ بھائی جی ایک گھنٹے سے زیادہ آپ پہن نہیں سکتے اب، کتنے کوٹ جمع کریں گے! 

پچھلے آٹھ دس برس میں یہ ہوا کہ پاکستان میں برینڈز بڑی تیزی سے آئے ہیں۔ اب میں پچاس یا ستر پرسنٹ آف والی سیل کا انتظار کرتا ہوں۔ اب کپڑے بھی آرام دہ پہنتا ہوں، ٹراؤزر، شرٹ، نرم سا کوئی اپر، تو وہ ان سب دکانوں پہ ایک سے ایک مل جاتے ہیں۔ کچھ یہ معاملہ ہے کہ ہر سیزن کی سدا بہار چیزوں کا آئیڈیا ہو گیا ہے تو زیادہ بھاگ دوڑ نہیں کرنا پڑتی۔ ایک بار کچھ بھی لیا اور کافی عرصہ کھینچ لیا۔ 

سیلز مارکیٹنگ کی نوکری پہ ٹشن میں جانے کے لیے اس بازار عزیز کا جتنا تجربہ ہوا، وہ سب نچوڑ بس یہ چند لائنیں ہیں۔ کچھ معاملے لکھے نہیں جا سکتے جیسے گردن سے ویسٹ کا سائز لینا، وہ کبھی ویڈیو بنائی تو اس میں بتا دوں گا۔ 

لنڈے سے خریداری کے لیے چند ضروری باتیں

  • فیشن برانڈ کے نام پر مت جائیں، جو بھی لیں عین اپنے سائز کا لیں۔ ہم لوگ اکثر برانڈ دیکھ کے چیز اٹھا لیتے ہیں کہ بعد میں فٹنگ کروا لیں گے، بعد میں جینوئن کام کرنے والے درزی سو میں سے ایک آدھ ہی ملتے ہیں۔
  • قمیصیں کہیں سے بھی لیں کلف والی مت اٹھائیں۔ کلف ان کپڑوں کو لگایا جاتا ہے جو شدید گھس چکے ہوں یا جن میں جان باقی نہ ہو۔ ریڑھی ہو یا دوکان، ان سے پوچھیں گے تو وہ آپ کو بغیر کلف والی قمیصیں دکھا دیں گے۔ ان کی قمیت نسبتا زیادہ ہو گی لیکن کوالٹی دس گنا بہتر ہو گی۔
  • مردانہ قمیص میں کاج الٹے ہاتھ ہوتے ہیں اور بٹن سیدھے ہاتھ، کسی بھی مشکوک شاپنگ سے بچنے کے لیے اس فارمولے کو یاد رکھیں۔
  • پتلون خریدتے وقت لکھی ہوئی ویسٹ کا اعتبار نہ کریں۔ انچی ٹیپ سے اپنی کسی یادگار پینٹ کا سائز لیں، اسے لکھیں اور اگر پہن کے ٹرائے نہیں کرنا چاہتے تو پوری ناپ کے پتلون خریدیں۔ جینز، کاٹن پینٹ، ڈریس پینٹ یا سکس پاکٹ، ان سب کی فٹنگ الگ ہوتی ہے۔ جو چیز لینی ہو اس کا ناپ گھر سے لے کے جائیں۔ 

    مزید پڑھ

    اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

     

  • جینز میں خاص طور پہ فلائے کا سائز ضرور دیکھیں۔ مطلب بٹن سے زپ کے اینڈ کی سلائی تک۔ جو آپ کی پسندیدہ جینز ہے اس کے اچھے ہونے میں یہ ناپ بڑی اہمیت رکھتا ہے، اگلی سب اسی حساب سے لیں۔ 
  • بیلٹ جتنی باریک لیں گے اتنی کم استعمال ہوئی ملے گی۔ گوروں میں پتلی بیلٹ نفیس لوگ استعمال کرتے ہیں جن کے پاس بہت سی بیلٹیں ہوتی ہیں۔ آپ تک پہنچتے پہنچتے ان کا مال بچ جاتا ہے۔ چوڑی بیلٹ زیادہ تر ہم آپ جیسے غریب غربے پہنتے ہیں جو اچھی طرح قیمت وصول کر کے چیز آگے دیتے ہیں۔ 
  • لیدر جیکٹ کو اپنی ہلکے رنگ کی قمیص پہ رگڑ کے دیکھ لیں۔ رنگ چھوڑ دے تو پالش ہے، پرہیز فرمائیں۔ 
  • سوئٹر لیتے ہوئے صرف پہن کر دیکھیں تو لیں ورنہ تنگ نکلے گا یا کھلا۔ گوروں کی فٹنگ بڑی عجیب ہوتی ہے۔ بازو عام طور پہ ان کے ہم سے لمبے ہی ہوتے ہیں۔ اگر بر نکلا ہوا ہے تو سوئٹر نہ ہی لیں، صاف کرنے کے بعد بھی مہینے میں ویسا ہی ہو جائے گا۔
  • کاٹن کی پینٹ کوشش کریں لنڈے سے نہ لیں، اس کا اچھا فٹ پاکستان میں بہت سستا اور بہترین مل جاتا ہے۔
  • ڈریس پینٹ میں تھوڑی سی محنت کریں تو آئرن لیس بھی مل جائے گی، دادا کریز بنائے پوتا چلائے۔ ویری اکنامکل! 
  • کوٹوں میں چینی جاپانی لاٹ کا مال ڈھونڈیں۔ وہ ٹراپیکل ہوتے ہیں۔ برطانیہ فرانس والے کوٹ صرف دسمبر جنوری کے ہیں، وہ چینیوں والے سات آٹھ مہینے کسی بھی فنکشن میں پسینے کے بغیر پہنے جا سکتے ہیں۔ ان کے سائز اور باڈی شیپ بھی ہم جیسی پائی گئی ہے۔ ہاف استر کوٹ کہہ کر مانگیں۔ ان میں پیڈنگ کم ہوتی ہے، سلم فٹ دیتے ہیں اور گرمی سردی چل جاتے ہیں۔ 
  • تھری پیس سوٹ بھی مل جاتے ہیں بس گورا سائز کا مرا ہو اور قسمت ہو۔ ٹرائے کیجیے۔
  • کارڈرائے کی پتلون یا کوٹ مت خریدیں، اس کے گھسے ہونے کا گھر آ کے پتہ چلتا ہے۔ اس میں ٹھیک سائز کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔
  • جتنی مرضی سستی چیز خریدیں اسے پہلا ڈرائی کلین اور استری کسی نامی جگہ سے کروائیں۔ کپڑا ایک دم بولے گا کہ جائیداداں لگیاں نیں! 
  • ٹی شرٹ، پولو شرٹ، موزے، بنیان، انڈروئیر، ٹوپی، جوتے ۔۔۔ اگر مالک نے استطاعت دی ہے تو یہ نئے ہی خریدیں۔ مفلر کبھی نیا مت لیں۔ سال میں کل ملا کے تین دن ضرورت پڑتی ہے اور خالص سوئس بھیڑ کی اون کا مفلر بھی سو روپے کا مل جاتا ہے۔ 
  • جو چیز سمجھ نہیں آ رہی مت لیں۔ نہ اس نے دھل کے ٹھیک ہونا ہے نہ درزی نے مرضی والا کام کرنا ہے، چھوڑ دیں! 
  • اتوار بازار کا لنڈا سب سے سستا اور بہترین ہوتا ہے۔ وہاں چھانٹی کا مال نہیں ہوتا۔ ڈھونڈنا پڑے گا لیکن محنت میں عظمت ہے۔
  • لنڈے میں دو قسم کے سٹال ہوتے ہیں۔ چھانٹی مطلب سلیکٹڈ اے کلاس، مکس مطلب ذمہ داری گاہک کی، اور اگر کوئی کہے کہ بھائی جان جو کچھ ہے آپ کے سامنے ہے تو وہاں سے چپ کر کے آگے نکل لیں۔ 

لوگوں سے چھپانے کی ضرورت نہیں ہے۔ لباس آپ کے سائز کا ہو، تمیز سے پہنا ہو تو جہاں کا بھی ہے وہ آپ کے لیے ہی بنا تھا۔ ویسے بھی جدید دنیا میں اس کا نام لنڈا بازار نہیں ہے۔ 

اب یہ کپڑے پری لوڈ کہلاتے ہیں اور ان کی دوکانیں تھرفٹ سٹورز ہوا کرتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ