ملکوں ملکوں گھومنے والا ’سرخ لباس‘ کیا پاکستان بھی آئے گا؟

برطانیہ کی ٹیکسٹائل آرٹسٹ کرسٹی میکلوڈ کے ’ریڈ ڈریس‘ پر گذشتہ دس برس کے دوران 28 ممالک کے 202 فن کاروں اور کاریگروں کے ہاتھ کا جادو چل چکا ہے، جس میں پاکستان بھی شامل ہے۔

اس پروجیکٹ کا آغاز 2009 میں  ہوا تھا (تصویر: بشکریہ  کرسٹی میکلوڈ)

اچھا لباس خواتین کی کمزوری ہے، چاہے وہ بازار میں نظر آئے یا انٹرنیٹ پر سکرولنگ کرتے ہوئے، دل کی دنیا اچانک ہی خوش ہوجاتی ہے۔

ایسا ہی کچھ گذشتہ دنوں بھی ہوا، جب فیس بک پر وقت گزاری کرتے ہوئے ایک ’سرخ لباس‘ پر نظر پڑی۔ دیکھنے میں تو وہ لباس دلچسپ تھا ہی لیکن اس سے جڑی کہانی اس سے بھی زیادہ دلچسپ لگی۔

اور یہی کھوج مجھے اس لباس کی تخلیق کار کرسٹی میکلوڈ تک لے گئی، جو برطانیہ کی کاؤنٹی سومرسیٹ میں مقیم ہیں اور اپنے منفرد پروجیکٹس کے ذریعے نہ صرف ٹیکسٹائل کی دنیا میں آرٹ کو فروغ دے رہی ہیں بلکہ دلکش کڑھائیوں اور دیگر طریقوں سے اسے ابلاغ کا ذریعہ بھی بنا رہی ہیں۔

اس کی سب سے بہترین مثال ان کا ’ریڈ ڈریس پروجیکٹ‘ ہے، جس میں 28 ممالک کے 202 سے زیادہ کاریگروں اور فن کاروں نے اپنے کڑھائی کے فن کا جادو جگایا ہے۔ ان میں پاکستان کے فن کار بھی شامل ہیں۔

2009 میں شروع ہونے والے اس عالمی ’سرخ لباس پروجیکٹ‘ پر کڑھائی کرنے والوں میں پاکستان کے ساتھ ساتھ فلسطین کے مہاجرین، کانگو میں خانہ جنگی کا شکار افراد، مصر کے صحرائے سینا میں پہاڑوں میں مقیم بدو خواتین، جنوبی افریقہ، کوسوو، روانڈا، کینیا، جاپان، پیرس، سویڈن، پیرو، بھارت، سعودی عرب، ویلز اور کولمبیا کے فن کار شامل ہیں۔

اس پروجیکٹ کے مقصد کے حوالے سے کرسٹی نے بتایا کہ وہ ایک ایسا آرٹ ورک تیار کرنا چاہتی تھیں، جس کے ذریعے کسی تعصب اور سرحدوں کی تقسیم کے بغیر مختلف شناختیں آپس میں یکجا ہو سکیں اور ایک ایسا پلیٹ فارم سامنے آئے، جہاں خواتین اپنے انداز میں اظہار خیال کرسکیں، خود کو بااختیار محسوس کریں اور ان کی آواز سنی جا سکے۔

کرسٹی نے بتایا: ’مجھے 2009 میں آرٹ دبئی فیئر کے لیے کوئی آرٹ ورک تیار کرنے کے لیے برٹش کونسل دبئی سے فنڈنگ ملی اور بس پھر وہیں سے آنے والے سالوں میں اس پروجیکٹ کے  سفر کی راہ ہموار ہوئی۔ اس دوران مجھے آرٹ کلیکٹرز اور کڑھائی کے شوقین افراد کی طرف سے کچھ نجی عطیات بھی ملے، لیکن آخری پانچ سالوں میں زیادہ تر کام کے لیے فنڈز میرے اپنے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بقول کرسٹی: ’افسوس کی بات ہے کہ ہر بار بجٹ نے مجھے اس لباس کے ساتھ سفر کرنے کی اجازت نہیں دی، لہذا لباس کے پینل (ٹکڑے) کاریگروں اور فن کاروں کو بھیج دیے جاتے تھے تاکہ وہ اس پر کام کریں اور پھر مجھے برطانیہ واپس بھیج دیں۔‘

کرسٹی نے بتایا کہ انہوں نے اس پروجیکٹ کو اکیلے ہینڈل کیا، تاہم آغاز میں اور اختتام پر انہیں لباس کی کٹنگ اور اسے یکجا کرنے کے لیے گیل فالکنر نامی پیٹرن کٹر سے مدد لینی پڑی اور لباس کے اضافی پینلز موصول ہونے کی وجہ سے گذشتہ دس سالوں میں اس لباس کے ٹکڑوں کو کئی بار علیحدہ کیا اور جوڑا جاتا رہا ہے۔

2019 میں اس لباس کی کڑھائی کا سفر اختتام پذیر ہوا۔ یہ کپڑا نہ صرف لاکھوں مختلف ٹانکوں، دھاگوں اور موتیوں سے مزین ہے، بلکہ اجتماعی آواز اور انفرادی کہانیاں بھی سب کو بتانے کا منتظر ہے۔

کیا یہ سرخ لباس پاکستان بھی آئے گا؟

اس سوال کے جواب میں کہ کیا یہ لباس پاکستان میں نمائش کے لیے بھیجا جائےگا، کرسٹی نے کہا: ’مجھے بہت خوشی ہوگی اگر ایسا ہو۔ پاکستان کی نمائندگی ثانیہ صمد نے کی ہے، لہذا وہاں لباس کی نمائش کرنا بہت مناسب ہوگا۔‘

ثانیہ صمد گذشتہ 15 برس سے نیویارک، امریکہ میں مقیم ہیں اور نیشنل کالج آف آرٹس، لاہور سے تربیت یافتہ ٹیکسٹائل ڈیزائنر ہیں۔ ان کے کام کے حوالے سے جاننے کے لیے ہم نے ان سے بذریعہ ای میل رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا: ’مجھے ویب سائٹ کے ذریعے اس پروجیکٹ کے بارے میں معلوم ہوا اور میں نے کرسٹی سے خود رابطہ کیا کیونکہ مجھے حیرت ہوئی کہ اس میں پاکستان کی کوئی نمائندگی نہیں ہے، جس پر کرسٹی نے مجھے اس پروجیکٹ میں شامل ہونے کی پیش کش کی۔‘

بقول ثانیہ: ’ریڈ ڈریس کا تجربہ بہت دلچسپ تھا۔ میرے لیے یہ پروجیکٹ کڑھائی کے ذریعے ایک عالمی یادداشت کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔‘

اس لباس میں ثانیہ کا خوبصورت کام بھارتی مصنفہ اروندھتی روئے کے ناول ’دا منسٹری آف اٹموسٹ ہیپینس‘ (The Ministry of Utmost Happiness ) اور زہرہ نگاہ کی نظم ’سمجھوتے‘ سے متاثر ہے۔

بقول ثانیہ اروندھتی کے ناول اور زہرہ نگاہ کی نظم میں شامل الفاظ نے انہیں یہ آرٹ ورک بنانے کے لیے حوصلہ دیا۔ ’میرے آرٹ ورک میں قمیص کی شبیہہ خواتین کے لیے استعارہ ہے جبکہ کڑھائی والی تصویر میں ایک جنت کی تصویر کشی کی گئی ہے جہاں خواتین کے ساتھ عزت کے ساتھ سلوک کیا جائے گا اور صنف کی بنیاد پر کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔‘

ثانیہ نے مزید بتایا کہ انہوں نے اس میں پاکستانی، امریکی اور برطانوی پرچموں کی تصاویر بھی بنائی ہیں، جو ان ممالک کی عکاسی کرتے ہیں جہاں وہ مقیم رہی ہیں۔

ساتھ ہی انہوں نے اس لباس کی پاکستان آمد کے حوالے سے بھی امید ظاہر کی۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین