کوئٹہ میں ’سونے کے تار‘ سے لباس بنانے والی خاتون

تبسم کو بھی اس وبا کے دوران گھر بیٹھے خیال آیا کہ کیوں نہ ایسا کام کیا جائے جو نہ صرف ثقافت کو سامنے لائے بلکہ بعض کے لیے روزگار کا باعث بھی بنے۔

بلوچستان جو قدیم تہذیبوں کا مسکن رہا ہے وہاں مختلف اقوام کی ثقافت نے بھی اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

یہاں کی خواتین آج بھی زمانہ قدیم سے کشیدہ کاری کے فن سے آشنا ہیں۔ جو اپنے لباس پر خود کشیدہ کاری کرتی ہیں اور انہیں فروخت بھی کرتی ہیں۔

افغانستان سے ہجرت کر کے آنے والے افغان مہاجرین جن میں ازبک، تاجک، پشتون، ترکمان، ہزارہ شامل ہیں نہ صرف خود یہاں آئے بلکہ اپنی ثقافت بھی ساتھ لائے۔

تبسم شیرزاد کا تعلق بھی افغانستان سے ہے۔ وہ پیشے کے لحاظ سے شعبہ طب سے تعلق رکھتی ہیں لیکن اس کے ساتھ وہ کپڑوں کی ڈیزائننگ میں بھی مہارت رکھتی ہیں۔

کرونا کی وبا آنے کے بعد جہاں لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا وہیں گھروں میں موجود بعض لوگ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی سامنے لائے۔

تبسم کو بھی اس وبا کے دوران گھر بیٹھے خیال آیا کہ کیوں نہ ایسا کام کیا جائے جو نہ صرف ثقافت کو سامنے لائے بلکہ بعض کے لیے روزگار کا باعث بھی بنے۔

وہ کہتی ہیں کہ چونکہ کشیدہ کاری ہماری ثقافت کا حصہ ہے اور ایک مخصوص دھاگہ جسے زرتار کہا جاتا ہے اس سے بھی ہم لباس کو خوبصورت بنانے کا کام لیتے ہیں۔

’میں نے اس خیال کو عملی جامہ پہنانا شروع کیا اور اس پر کام شروع کر دیا جو ابھی تک جاری ہے۔‘

تبسم نے نہ صرف اپنی ثقافت کو لوگوں تک پہنچانے پہنچایا بلکہ اس کو ایک برانڈ بھی بنا دیا ہے۔

’میرا مقصد جہاں اس کو دیگر قوموں تک پہچانا تھا وہیں میں آزادی سے کام کرنے والی خواتین کو بھی ایک پلیٹ فارم  دینا چاہتی تھی۔‘

زرتار کو زمانہ قدیم میں شاہی خاندانوں کے لباس میں استعمال کیا جاتا تھا جو بعد میں عام لوگوں تک پہنچا اور اس کا سفر اب تک جاری ہے۔

تبسم بتاتی ہیں کہ زرتار کی تاریخ جہاں بہت قدیم ہے وہیں یہ بہت سی اقوام کی ثقافت کا حصہ بھی ہے۔ جن میں تاجک، ترکمان، پشتون شامل ہیں۔

’ازبک لوگ اس سے ٹوپیاں بناتے ہیں، لباس میں استعمال کرتے ہیں، پشتون فراک بناتے ہیں، ترکمان اپنی خصوصی تقریبات میں جیسے شادی وغیرہ میں استعمال کرتے ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تبسم نے بتایا کہ ہماری ثقافت کا یہ حصہ اب کوئٹہ میں بھی فیشن کا حصہ بن چکا ہے۔

اس کو زرتار کیوں کہا جاتا ہے؟

اس بارے میں تبسم نے بتایا کہ یہ اصل میں فارسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی سونے کی تار کے ہیں۔ ’اسے پھر ایک طریقے سے اکٹھا کیا جاتا ہے جسے چرمئے کہتے ہیں۔ چرمئے سے تکیے اور بیڈ شیٹ وغیرہ پر کام کیا جاتا ہے۔‘

زرتار کے دھاگے کی خصوصیت یہ ہے کہ ایک تو اس کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ یہ کافی خاص مانا جاتا ہے۔

تبسم نے بتایا کہ جو پرانے زمانے میں زرتار کا کام شاہی درباروں میں شاہی خاندان کے افراد کے لباس میں استعمال ہوتا تھا اس پر سونے کے پانی کی پالش لگاتے تھے اس لیے اس کا نام زرتار پڑ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ چونکہ ہم نے اس برانڈ کو حال ہی میں سامنے لائے ہیں اس لیے ہم نے اپنے برانڈ کی قیمتیں کم رکھی ہیں۔ تاہم اس میں کم سے ہائی ریٹ تک کی قیمتیں ہیں۔

زرتارسے کام کرنے والی خوایتن کا کہنا ہے کہ اس کی خوبی یہ ہے یہ کہ ہر کپڑے میں استعمال ہوسکتا ہے جبکہ ایسے دھاگے ہیں جو مخصوص کپڑوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ جیسے قندھاری سلائی جو صرف لیلن کپڑے پر ہی استعمال ہوتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین