پاکستان میں پاور بریک ڈاؤن: ابتدائی تحقیقات میں سات ملازمین معطل

معطلی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ’تمام ملازمین پلانٹ مینیجر ٹو کے ماتحت کام کرتے تھے۔ ان کی غیر ذمہ داری اور بے توجہی کے باعث بجلی بند ہوئی۔ ای اینڈ ڈی قوانین 1978 کے تحت ان ملازمین کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیتے ہوئے انہیں نوکری سے معطل کیا گیا ہے۔‘

(اے ایف پی)

سینٹرل پاور جنریشن کمپنی لمیٹڈ(سی پی جی سی ایل) نے گزشتہ روز ملک بھر میں اچانک جانے والی بجلی کی ابتدائی تحقیقات کے بعد کمپنی کے سات ملازمین کو معطل کردیا۔

ملازمین میں ایڈیشنل پلا نٹ مینیجر سہیل احمد، جونئیر انجینیر دیدار علی چنا، فورمین علی حسن گھلو، آپریٹر ایاز حسین ڈاہر، آپریٹر سعید احمد، اٹینڈنٹ سراج احمد میمن اور الیاس احمد شامل ہیں۔

معطلی کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق ’تمام ملازمین پلانٹ مینیجر ٹو کے ماتحت کام کرتے تھے۔ ان کی غیر ذمہ داری اور بے توجہی کے باعث بجلی بند ہوئی۔ ای اینڈ ڈی قوانین 1978 کے تحت ان ملازمین کے خلاف ڈسپلنری ایکشن لیتے ہوئے انہیں نوکری سے معطل کیا گیا ہے۔‘

پاکستان میں سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب اچانک سے بجلی کی ٹرانسمیشن لائنز ٹرپ کر جانے کے نتیجے میں ملک کے کئی شہر مکمل تاریکی میں ڈوب گئے جس کے بعد اب تک کچھ علاقوں میں بجلی بحال کر دی گئی ہے جبکہ کچھ میں اب بھی بحالی کا کام جاری ہے۔

اسلام آباد میں اتوار کی صبح پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے بتایا کہ اب تک اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور اور فیصل آباد ریجن میں بجلی بحال ہو گئی ہے جبکہ جھنگ، میانوالی اور ملتان میں تاحال بجلی بحالی کا کام جاری ہے۔

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے ملک میں پاوور بریک ڈاؤن کے حوالے سے کہا ہے کہ سسٹم کو مکمل بحال کرنے میں مزید کچھ گھنٹے لگیں گے۔

عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص جگہ پر بجلی کی فریکونسی کم ہوئی جس کی وجہ سے پورے سسٹم  نے خود کو بند کرنا شروع کر دیا۔

وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے بتایا ہے کہ رات 11 بج کر 41 منٹ پر گدو پاور پلانٹ میں خرابی آئی جس کی وجہ سے دس ہزار 302 میگا اوٹ سسٹم سے آؤٹ ہوگئے۔

’خرابی کی وجہ سے ملک کی ہائی ٹرانسمیشن میں ٹرپنگ کی وجہ سے ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں سسٹم کی فریکونسی 50 سے صفر پر آئی۔‘

مگر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ تاحال یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا یہ خرابی کس وجہ سے آئی۔

عمر ایوب نے بتایا کہ فالٹ پورے ملک کے پاور پلانٹس میں نہیں آیا تھا بلکہ ایک مخصوص علاقےمیں آیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ گدو کے علاقےمیں دھند کےباعث اب تک خرابی کی اصل وجہ معلوم نہیں کی جاسکی ہے۔

’دھند ختم ہونے کے بعد ہی فالٹ کی اصل وجہ اور جگہ معلوم ہوسکے گی۔‘

جن شہروں میں بجلی اچانک بند ہوئی ان میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، راولپنڈی، جہلم، گجرات، ملتان، فیصل آباد، اور کوئٹہ سمیت کئی دیگر شہر شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر اب بھی صارفین کی جانب سے بجلی بحال ہونے کی تصدیق کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ترجمان این ٹی ڈی سی کا کہنا تھا کہ بجلی بریک ڈاؤن کی تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے گئی ہے۔

ترجمان کے مطابق ‏فریکونسی کے گرنے کی وجہ سے پاور پلانٹس بند ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ گڈو تھرمل پاور سٹیشن سندھ کے ضلع کشمور میں دریائے سندھ کے کنارے پر واقع ہے جس کا شمار پاکستان کے بڑے پاوور سٹیشنز میں ہوتا ہے۔

وزارت توانائی کے اس موقع پر ذرائع ابلاغ سے کے نمائندوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’برائے مہربانی صرف مصدقہ اور ترجمان پاور ہی کی خبروں کو چلائیں تاکہ کسی بھی قسم کی افواہ کو پنپنے کو موقع نہ ملے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بجلی اچانک بند ہو جانے کے باعث ملک میں تمام موبائل نیٹ ورکس پر بھی لوڈ بڑھ گیا جس کی وجہ سے صارفین کو اس کے استعمال میں دشواری کا سامنا ہے۔

اس طرح سے بجلی کے اچانک بند کے بعد سے سوشل میڈیا پر مختلف قسم کی افواہیں بھی گردش کرتی رہیں جبکہ ساتھ ہی ساتھ بعض صارفین اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طنز و مزاح کا سلسلہ شروع کر دیا۔

خیال رہے کہ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا بلکہ 2018 میں بھی ملک بھر میں بجلی کا بڑا بریک ڈاؤن ہو گیا تھا۔

یہ واقعہ مئی میں پیش آیا تھا جب گدو مظفر گڑھ لائن اور دیگر پلانٹس میں خرابی کے کئی شہروں میں بجلی کا بریک ڈائون ہونے سے بجلی کا ملک بھر میں طویل بحران پیدا ہوا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان