بجلی پیدا کیے بغیر اربوں روپے کی وصولی، مالی بحران شدید ہونے کا خدشہ

توانائی کے شعبے میں کام کرنے والے اداروں کے مطابق: 'کوئلہ اور تھرمل بجلی گھروں کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں ہونے والی ادائیگی سے بجلی کی لاگت اور قیمت کے ساتھ ساتھ پاکستان کے گردشی قرضوں میں بھی اضافہ ہوگا۔'

کراچی کو بجلی سپلائی کرنے والی  کمپنی کے الیکٹرک کے ٹیکنیشن بجلی کی تاروں کی مرمت میں مصروف ہیں (فائل تصویر: اے ایف پی)

پاکستان میں بجلی اور توانائی کے شعبے پر کام کرنے والے ادارے انسٹی ٹیوٹ فار انرجی سمیت دو عالمی اداروں انسٹی ٹیوٹ فار انرجی اکنامکس اینڈ فنانشل اینالسز (آئی ای ای ایف اے) اور ورلڈ ونڈ انرجی ایسوسی ایشن (ڈبلیو ڈبلیو ای اے)کی جانب سے مرتب کردہ علیحدہ تحقیقی رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 18ویں ترمیم کے بعد سندھ کو توانائی پالیسی بنانے کا اختیار نہ دینے، قابلِ تجدید توانائی منصوبوں کی بجائے تھر کے کوئلے پر توانائی کے مزید منصوبے لگانے جبکہ کرونا (کورونا) وبا کے نتیجے میں پیدا ہونے والی معاشی سست روی کے باعث بجلی کی مانگ میں مسلسل کمی سے خدشہ ہے کہ آنے والے وقت میں پاکستان شدید مالی بحران کا شکار ہوجائے گا۔ 

ان تحقیقی رپورٹس کے مطابق: 'کوئلہ اور تھرمل بجلی گھروں کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں ہونے والی ادائیگی اور بجلی کی طلب سے زائد توانائی پیداواری صلاحیت سے بجلی کی لاگت اور قیمت کے ساتھ ساتھ ملک کے گردشی قرضوں میں اضافہ ہوگا۔'

دونوں تحقیقی رپورٹوں میں سندھ کے قابلِ تجدید توانائی کے شعبے میں ممکنہ پیداواری استعداد کو استعمال کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔

الائنس فار کلائمیٹ جسٹس اینڈ کلین انرجی کی جانب سے 'پاکستان میں بجلی کا بحران اور سندھ میں قابلِ تجدید توانائی کے تقاضے' کے عنوان سے جمعے کو منعقد کی گئی آن لائن تقریب میں ان تحقیقی رپورٹوں کا اجرا کیا گیا۔

آئی ای ای ایف اے کی تحقیقی رپورٹ کے مصنف سائمن نکولس نے کہا: 'کرونا وبا سے پہلے پاکستان میں بجلی کے شعبے کو کیپیسٹی چارجز اور طلب سے زائد پیداواری صلاحیت کے مسائل درپیش تھے، تاہم حالیہ معاشی سست روی اور بجلی کی طلب میں کمی کے باعث اِن مسائل میں اضافہ ہوگا اور پاکستان کا مالی بحران شدت اختیار کرے گا مگر اس صورت حال میں کوئلے کے منصوبوں سے جڑی مالی سنگینی کے باوجود تھر میں شنگھائی الیکٹرک اور تھر انرجی لمیٹڈ کے دو نئے منصوبے لگانا نا قابل فہم ہے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت پاکستان پہلے ہی کیپیسٹی چارجز کی مد میں ہونے والی ادائیگیوں کی سنگینی سے بخوبی آگاہ ہے اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت لگائے جانے والے کوئلے کے منصوبوں میں کیپیسٹی چارجز کا مسئلہ حکومت چین کے سامنے رکھا گیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سائمن نِکولس نے کہا: 'وزیر اعظم عمران خان نے اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ بجلی پیدا کرنے والے اداروں کو کیپیسٹی چارجز کی مد میں 9 ارب امریکی ڈالر یعنی 1.5 ٹریلین روپے کی ادائیگی غیر دیرپا ہے، لہٰذا حکومت پاکستان نے سی پیک کے تحت 30 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے لگائے جانے والے 12GW  بجلی کے منصوبوں کے حوالے سے آسان شرائط پر ادائیگیوں کی درخواست کی ہے۔'

دوسری جانب ڈبلیو ڈبلیو ای اے کی تحقیقی رپورٹ کے مصنف ذیشان اشفاق نے کہا کہ 'سندھ میں قابلِ تجدید توانائی بشمول شمسی توانائی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے والے پاکستان کے کل 72 فیصد منصوبے سندھ میں قائم ہیں، تاہم پاکستان کے توانائی کے شعبے کی انتظام کاری میں مرکزیت، قابل تجدید توانائی کی ترقی و ترویج میں گرڈ کا کمزور نظام، صوبائی حکومت کی محدود استعدادکار، اداراتی سطح پر باہمی ربط کے فقدان اور فیصلہ سازی میں صوابدیدی اختیارات کے استعمال جیسی رکاوٹوں کی وجہ سے صوبہ سندھ میں قابل تجدید توانائی فروغ نہیں پارہی ہے۔'

انہوں نے مزید کہا: 'دسمبر 2017 میں وفاقی حکومت کی کابینہ کمیٹی برائے توانائی نے ملک میں قابل تجدید توانائی کے تمام منصوبے روک دیے تاہم کوئلے اور آر ایل این جی سے چلنے والے بجلی کے منصوبوں کو کام کرنے کی اجازت دی گئی۔ اس فیصلے سے قابل تجدید توانائی کے روکے جانے والے منصوبوں میں سندھ کے فیڈ اِن ٹیرف میکینزم کے تحت چلنے والے قابل تجدید توانائی کے منصوبے شامل تھے۔'

 ذیشان اشفاق نے کونسل آف کامن انٹرسٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ متبادل و قابل تجدید توانائی کی پالیسی پاس کرانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے حکومت سندھ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ قابل تجدید توانائی پر صوبائی پالیسی بنائے۔

توانائی کے کیپیسٹی چارجز کیا ہیں؟

پاکستان میں حکومت پاکستان اور انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) یعنی نجی بجلی گھروں کے درمیان ایک معاہدہ ہے جس کے تحت ملک میں موجود بجلی گھر توانائی پیدا کریں یا نہ کریں حکومت پاکستان ان کو طے شدہ رقم ہر صورت میں ادا کرتی رہی گی۔ بجلی گھر یہ رقم پاکستانی روپوں میں جبکہ منافع امریکی ڈالروں میں وصول کریں گے، جس کی قیمت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔

جبکہ کیپیسٹی چارجز کا مطلب ہے کہ اگر کوئی پاور کمپنی 500 میگا واٹ کا پاور پلانٹ لگائے گی تو حکومت اس کو 500 میگا واٹ کے لحاظ سے رقم ادا کرے گی کیونکہ کمپنی نے اس صلاحیت کا انفراسٹرکچر لگایا ہے۔ اس کے بعد معاہدے کے تحت حکومت پاکستان اس بجلی گھر کو 500 میگا واٹ بجلی کی رقم ادا کرے گی، چاہے وہ کمپنی 500 میگا واٹ بجلی پیدا نہ بھی کرتی ہو۔ اس ادائیگی میں تاخیر پر حکومت لیکویڈیٹی چارجز ادا کرنے کے ساتھ فیول کی مد میں ایڈوانس ادائیگی بھی کرے گی۔

ملک کے بااثر انڈپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) یعنی بجلی گھر بجلی نہ بنا کر بھی حکومت پاکستان سے کیپیسٹی چارجز کی مد میں اربوں روپے ماہوار لیتے ہیں اور حکومت ہر ماہ ایک خطیر رقم نہ خریدی جانے والی بجلی پر ادا کرتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2013 سے 2018 کے درمیان ان طاقتور آئی پی پیز یعنی بااثر بجلی گھروں نے بجلی کی پیداوار کیے بغیر حکومت پاکستان سے ایک ہزار پانچ سو ساٹھ ارب روپے وصول کیے۔

یہ خیال کیا جارہا ہے کہ رواں سال صرف کیپیسٹی چارجز کی مد میں سالانہ ادائیگی تقریباً 6 کھرب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

 کچھ عرصہ قبل وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ آنے والے چند سالوں میں کیپیسٹی چارجز 15 کھرب ڈالر سے زائد ہوسکتے ہیں جو لوگوں کی قوت ادائیگی سے باہر ہوں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت