جنسی جرائم، بغاوت: ترک مبلغ کو ایک ہزار سال قید کی سزا 

ترکی کی ایک عدالت نے ٹیلی ویژن کی مشہور شخصیت اور مبلغ عدنان اوکتار کو جنسی جرائم سے لے کر بغاوت اور فتح اللہ گولن کی مدد کرنے تک کے دس علیحدہ مقدموں میں 1075 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔

64 سالہ مذہبی شخصیت عدنان اوکتار کو 200 ساتھیوں کے ہمراہ 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا-(اے ایف پی فائل)

ترکی کی ایک عدالت نے ٹیلی ویژن کی مشہور شخصیت اور مبلغ عدنان اوکتار کو دس علیحدہ مقدموں میں ایک ہزار سال سے زائد قید کی سزا سنا دی ہے-

ترکی کے آزاد میڈیا آوٹ لیٹ ’دوار‘ کے مطابق عدالت ذرائع نے بتایا کہ عدنان اوکتار کو 11 جنوری کو 1075 سال اور تین ماہ قید کی سزا سنائی-

ان پر ایک جرائم پیشہ تنظیم کی بنیاد رکھنے، اس کی سربراہی کرنے، سیاسی اور فوجی بغاوت اور امریکہ میں مقیم مذہبی شخصیت فتح اللہ گولن کی مدد کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں-

ترکی فتح اللہ گولن پر سال 2016 میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کا الزام عائد کرتا ہے-

عدنان اوکتار پر بچوں کے جنسی استحصال، جنسی استحصال، حبس بے جا، تشدد، تعلیم سے محروم رکھنے، ذاتی معلومات کو ریکارڈ کرنے اور دھمکانے کے الزاامت میں مجرم قرار دیا گیا-

64 سالہ مذہبی شخصیت عدنان اوکتار کو 200 ساتھیوں کے ہمراہ 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا- انہیں بچوں کے اغوا اور ان کے جنسی استحصال کے الزامات میں گرفتار کیا گیا تھا- 

گرفتاری سے قبل عدنان اوکتار ’اے نائن‘ نام کا ٹیلی ویژن چینل چلاتے تھے جس پر وہ اسلامی اقدار کے بارے میں پروگرام کی میزبانی کرتے تھے- کئی مواقع پر وہ نوجوان لڑکیوں کے ساتھ رقص کرتے ہوئے ویڈیوز بھی نشر کرتے تھے-

وہ ان لڑکیوں کو اپنی ’بلیاں،‘ جبکہ نوجوان لڑکوں کو اپنے ’شیر‘ قرار دیتے تھے-

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عدنان اوکتار کے ایک ساتھی ترکان یاوش کو بھی اس تنظیم کا فعال عہدیدار ہونے، بچوں کے جنسی استحصال، ناجائز ذرائع سے دولت جمع کرنے اور سرکاری دستاویزات میں جعل سازی کرنے پر211 سال کی سزا سنائی گئی ہے-

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عدنان اوکتار تخلیق اور قدامت پسند اقدار کی تبلیغ کرتے تھے اور ان کے گرد خواتین مختصر لباس میں تیز موسیقی پر رقص کر رہی ہوتی تھیں، جن میں سے کئی ظاہری طور پر پلاسٹک سرجری کروا چکی تھیں-

کئی ماہ تک جاری رہنے والے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت کو حیران کن جنسی جرائم کی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا- ترک میڈیا نے اس مقدمے کو بہت تفصیل سے کور کیا-

اوکتار نے دسمبر میں سماعت کے دوران حج کو بتایا تھا کہ ان کی ایک ہزار کے قریب گرل فرینڈز تھیں-

اے ایف پی کے مطابق اکتوبر میں ایک سماعت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ’میرے دل میں خواتین کے لیے محبت کا دریا بہہ رہا ہے- محبت ایک انسانی خوبی ہے- یہ ایک مسلمان کی خوبی ہے-‘

ایک اور موقعے پر ان کا کہنا تھا: ’میں طاقت سے بھرپور ہوں-‘

اوکتار کو 1990 کی دہائی میں اس وقت شہرت حاصل ہوئی تھی جب ان کے گروہ کے کئی جنسی سکینڈلز منظر عام پر آئے تھے-

ان کے چینل اے نائن نے 2011 میں کام کرنا شروع کیا تھا اور ترکی کے مذہبی رہنماوں کی جانب سے اس کی مذمت کی گئی تھی-

ترک میڈیا کے نگران ادارے آر ٹی یو کے کی جانب سے اس پر کئی بار جرمانہ بھی کیا گیا تھا جبکہ اوکتار کے گروہ کے خلاف پولیس کارروائی کے بعد اسے بند کر دیا گیا ہے-

مقدمے کی سماعت کے دوران خود کو سی سی کے مخفف سے شناخت کروانے والی ایک خاتون نے عدالت کو بتایا کہ اوکتار نے انہیں اور کئی خواتین کو بار بار جنسی بدسلوکی کا نشانہ بنایا-

سی سی نے عدالت کو بتایا کہ اوکتار کے ہاتھوں ریپ کا شکار کئی خواتین کو مانع حمل ادویات لینا پڑیں- ان کا مزید کہنا تھا کہ اوکتار کے گروہ میں شمولیت کے وقت ان کی عمر 17 سال تھی-

اوکتار کی رہائش گاہ سے ملنے والی 69 ہزار مانع حمل گولیوں کے حوالے سے سوال پر اوکتار کا کہنا تھا کہ یہ جلد کی بیماری اور بےقاعدہ ماہواری کا علاج کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی تھیں-

ترک حکام نے استنبول کی ایشیائی حصے میں موجود اوکتار کے گھر کو بھی منہدم کر دیا ہے۔ اوکتار اسے سٹوڈیو کے طور پر بھی استعمال کرتے تھے- 2018 میں ان کے تمام اثاثے بھی ضبط کر لیے گئے تھے۔

اوکتار ڈارون کے نظریہ ارتقا کو مسترد کرتے ہیں اور انہوں نے ہارون یحییٰ کے قلمی نام سے 770 صفحات پر مشتمل ایک کتاب ’دی ایٹلس آف کری ایشن‘ بھی لکھی تھی۔

 

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا