ترکی کا نئی امریکی انتظامیہ سے پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ

ترک وزیر دفاع نے نئی امریکی انتظامیہ سے روسی دفاعی نظام کی خریداری کے تناظر میں ترکی پر پابندی لگانے کے فیصلے پر نظرثانی اور انقرہ کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترک وزیر دفاع ہولوسی آکار (اے ایف پی)

ترک وزیر دفاع نے نئی امریکی انتظامیہ سے روسی دفاعی نظام کی خریداری کے تناظر میں ترکی پر پابندی لگانے کے فیصلے پر نظرثانی اور انقرہ کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ درخواست ایک ایسے وقت پر سامنے آئی جب واشنگٹن نے واضح کر دیا ہے کہ انقرہ کی جانب سے روسی ٹیکنالوجی ترک نہ کرنے کی صورت میں پابندیوں میں نرمی نہیں برتی جائے گی۔

بدھ کی شب اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ترک وزیر دفاع ہولوسی آکار نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ کیا ترکی امریکی دباؤ پر روسی ایس 400 نظام کو ترک کرنے پر غور کرے گا یا نہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ اس مقام پر پہنچنے سے پہلے ’مشترکہ دانش مندی‘ کے ذریعے اس کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔

آکر نے یہ بھی کہا کہ ماسکو سے ایس 400 کی دوسری کھیپ حاصل کرنے پر بات چیت جاری ہے۔ امریکہ نے دسمبر میں CAATSA نامی اپنے قانون کے تحت چار اعلیٰ ترین ترک عہدے داروں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کا مقصد اپنے نیٹو اتحادی کو روسی اثر و رسوخ سے نکالنا ہے۔

ان پابندیوں میں ترک دفاعی صنعت کے برآمدی لائسنسوں پر پابندی لگانا بھی شامل ہے اور یہ پہلا موقع تھا جب امریکہ نے کسی نیٹو اتحادی کو سزا دینے کے لیے اس قانون کا استعمال کیا۔ اس کے علاوہ ترکی کو امریکی F-35 سٹیلتھ جیٹ طیاروں کی فروخت بھی روک دی گئی تھی کیوں کہ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ روسی ٹیکنالوجی ان کے لڑاکا طیاروں کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈال دے گی۔

ان پابندیوں کے باعث واشنگٹن اور انقرہ کے مابین اختلافات کی خلیج مزید وسیع ہو گئی، جن کے درمیان تعلقات شام اور دیگر مقامات پر ترکی کی فوجی کارروائیوں سمیت متعدد معاملات پر پہلے ہی تنازعات کا شکار تھے۔

آکر نے تعلقات میں اس تعطل کو دور کرنے کے لیے امریکہ میں آنے والی نئی انتظامیہ کو ترکی کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی تجویز پیش کی۔ ترکی کا موقف ہے کہ ایس 400 دفاعی نظام نیٹو یا F-35 کو متاثر نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا: ’ہم کہہ رہے ہیں کہ اس طرح تعلقات کو توڑا نہیں جا سکتا۔ آئیں بیٹھ کر بات کریں اور اس کا کوئی حل تلاش کریں۔‘

دوسری جانب امریکی حکام نے F-35 پروگرام میں دوبارہ شمولیت اور ایس 400 نظام کے خطرات کے حوالے سے ترکی کے ساتھ تبادلہ خیال کے امکان کو مسترد کردیا ہے۔ امریکی حکام نے یہ بھی کہا کہ جب تک ترکی کی سرزمین پر روسی دفاعی نظام موجود ہے یہ پابندیاں نہیں اٹھائی جاسکتیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ترک وزیر دفاع نے مزید کہا کہ نیٹو کے کسی اتحادی نے ترکی کو سازگار شرائط پر دفاعی نظام فروخت کرنے کی پیش نہیں کی جس کے بعد ترکی کے پاس روسی دفاعی نظام حاصل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا تھا۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا ترکی امریکی لڑاکا طیارے کے پروگرام سے ہٹائے جانے کے بعد روسی ساختہ جیٹ طیاروں کی خریداری پر غور کر رہا ہے، آکار نے کہا کہ ترکی F-35 پروگرام میں واپس جانا چاہتا ہے اور ساتھ ہی اپنا قومی لڑاکا جیٹ پروگرام تشکیل اور اپنے بیڑے میں شامل ایف 16 طیاروں کو جدید بنانا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا: ’ہم نیٹو کا حصہ ہیں اور ہم یورپی یونین اور امریکہ کے ساتھ کھڑے ہیں لہٰذا ہم اپنے دفاع اور سلامتی کے لیے یورپ کے ساتھ امریکہ اور نیٹو کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہتے ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا