تیونس مظاہرے: تین دن میں 240 سے زائد نوجوان گرفتار

کرونا وبا کے باعث نافذ کرفیو کے باوجود اتوار کو دوسری رات بھی جاری رہنے والے مظاہروں میں رات ہوتے ہی نوجوان گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر پولیس اور نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر پتھر اور پٹاخے پھینکتے نظر آئے۔ 

 داخلی سکیورٹی فورسز کےمطابق گرفتار شدہ افراد نے توڑ پھوڑ کی اور دکانوں اور بینکوں کو لوٹنے کی کوشش کی۔(تصاویر : اے ایف پی)

افریقی ملک تیونس کے دارالحکومت اور دوسرے شہروں میں مسلسل تین راتوں سے پرتشدد احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد 240 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں زیادہ تر کی عمریں 20 سال سے کم ہیں۔

العریبیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق داخلی سکیورٹی فورسز کے ترجمان ولید حکمہ نے بتایا ہے کہ گرفتار شدہ افراد نے توڑ پھوڑ کی اور دکانوں اور بینکوں کو لوٹنے کی کوشش کی۔

تیونس میں غربت، بدعنوانیوں اور بے انصافیوں کے خلاف عوامی انقلاب ’عرب بہار‘ برپا ہوئے ایک عشرہ ہونے کو ہے لیکن سابق مطلق العنان صدر زین العابدین کی حکومت کے خاتمے کے دس سال بعد بھی شمالی افریقہ میں واقع اس مسلم عرب ملک کی معیشت میں بہتری نہیں آئی ہے۔

البتہ اس دوران اس نے جمہوریت کی جانب ضرور پیش قدمی کی ہے۔ گذشتہ دس سال کے دوران متعدد مرتبہ صدارتی اور پارلیمانی انتخابات منعقد ہوچکے ہیں۔ ان کے نتیجے میں اقتدار کی منتقلی کا عمل پرامن انداز میں مکمل ہوا ہے۔

مظاہرین نے اس تازہ احتجاج کے دوران ابھی تک کوئی واضح مطالبات پیش نہیں کیے ہیں۔ تیونسی حکام کا کہنا ہے کہ یہ بلوے ہیں اور ملک کے کم سے کم دس شہروں میں لوگوں نے ہفتے کی رات، اتوار کو سارا دن اور پھر رات کو احتجاجی مظاہرے کیے ۔

سیاسی میدان میں اس بہتری کے باوجود اقتصادی مسائل جوں کے تُوں برقرار ہیں اور ان میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ اس وقت ملک کا دیوالیہ نکلنے کو ہے جبکہ سرکاری اداروں کی حالت ابتر ہوچکی ہے۔

دارالحکومت تونس میں احتجاجی مظاہروں میں زیادہ تر نوجوان مرد شریک تھے۔ انہوں نے شاہراہیں بند کر رکھیں تھیں، اور بعض مقامات پر پولیس کی جانب پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے انہیں  منتشر کرنے کے لیے پانی کی توپ اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

کرونا (کورونا) وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے نافذ رات کے کرفیو کے باوجود تیونس کے مختلف حصوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ملتی رہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ ساحلی شہر سوسہ کے علاوہ وسطی شہروں سبیتلا اور قسرین میں بھی لوگوں نے بگڑتے معاشی حالات کے خلاف مظاہرے کیے۔ پولیس نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے پھینکے۔

روئٹرز کے مطابق سوسہ، بزرت، قسرین اور سلیانہ شہر میں حکومتی عمارات کو محفوظ رکھنے کے لیے فوج کو طلب کر لیا گیا۔ 

وزارت داخلہ کے ترجمان خالد حیونہ نے روئٹرز کو بتایا کہ ہفتے کی رات دکانوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچانے اور لوٹنے کی کوشش کرنے میں ملوث درجنوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا جن کی عمریں 14 سے 17 کے درمیان ہیں۔ 

اتوار کو جاری رہنے والے مظاہروں میں رات ہوتے ہی نوجوان گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر پولیس اور نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر پتھر اور پٹاخے پھینکتے نظر آئے۔ 

سائرنز کی آوازیں گونچتی رہیں اور ایک پولیس افسر لاوڈ سپیکر پر ’گھر جائیں‘ کہتے رہے۔ 

اپنی جیبیں پتھروں سے بھرتے ایک نوجوان نے اے ایف پی کو بتایا: ’یہ ہمارے دشمنوں کے لیے ہیں۔‘
 

زیادہ پڑھی جانے والی افریقہ