تیونس پھر ’عرب بہار‘ کا میزبان بننے والا ہے؟

تیونس کے جن علاقوں میں عرب بہار کی بنیاد بننے والے احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے، آج وہاں پھر سے حکومت وقت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

تیونس کے لیبیا کے ساتھ سرحد پر واقعے جنوبی شہر ریمادا میں بے روزگاری اور ایک شخص کی ہلاکت کے خلاف جس کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ سمگلر ہے 10 جولائی 2020 کو ہونے والے احتجاج کا ایک منظر (اے ایف پی)

تیونس کے عوام عرب بہار کے بعد اپنے دسویں وزیر اعظم کا خیرمقدم کرنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ ان دنوں اردن اور تیونس یکے بعد دیگرے وزیر اعظم تبدیل کرنے والے سرکردہ ملکوں کی صف میں نمایاں مقام حاصل کرنے کے لیے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔

عرب بہار کے پہلے میزبان ملک میں زین العابدین بن علی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سامنے آنے والی کسی بھی حکومت کی معیاد اردن کی سو دنوں میں بنتی ٹوٹتی حکومتوں سے زیادہ نہیں رہی۔

یہ تحریر آپ مصنف کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں

 

تیونس میں گذشتہ برسوں میں تشکیل پانے والے حکومتوں کا عدم استحکام ناقابل فہم نہیں۔ شمالی افریقہ کے مغربی خطے میں واقع اس ملک کی سیاسی جماعتیں ابتری کا شکار ہو کر عوام کی نظروں میں اپنا اعتماد کھو رہی ہیں۔ آخری انتخابی معرکے میں سب سے زیادہ ووٹ لینے والی اسلام پسند النہضہ پارٹی بھی اپنی دو تہائی ’ووٹ پاور‘ سے ہاتھ دھو چکی ہے۔ تاہم سیاسی، شہری اور قدامت پسند جماعتوں میں ٹوٹ پھوٹ کی وجہ سے ’النہضہ‘ اب بھی پہلے نمبر پر ہے۔

النہضہ کی جدیدیت پسندی اور ماڈرن آؤٹ لک کے باوجود سیاسی مخالفین کو اپنے ’خفیہ سیلز‘ کے ذریعے کچلنے کا الزام تاحال اس کا پیچھا کر رہا ہیں۔ حکمران جماعت النہضہ، تیونس کی قومی ترجیحات کو بھی روبعمل لانے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔ دوسری جانب سیکولر جماعتوں کی خواہش ہے کہ النہضہ کی سیاسی بساط لپیٹ کر تیونس میں ایک بار پھر زین العابدین کا دور حکومت واپس لایا جائے۔

تیونس میں عدم استحکام کی شروعات اور اس میں طوالت کے کئی داخلی اور خارجی اسباب ہیں۔ عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ ملک کے اندر دو سو سیاسی جماعتوں کی موجودگی ہے، جو دس برس کے عبوری دور میں بھی مستقل سیاسی نظام کی طرف لوٹنے میں ناکام رہی ہیں۔

مختلف الخیال جماعتوں اور الگ الگ پروگرام رکھنے والی تحریکوں کے درمیان اقتدار کی رسہ کشی سیاسی انتشار کی دوسری بڑی وجہ ہے۔ عوامی امور چلانے سے متعلق کمیاب مہارت تیونس میں معاشی بحران پر قابو پانے میں ناکامی کا بڑا سبب ہیں۔ جلاوطنی کے دوران سعودی عرب میں انتقال پانے والے سابق صدر زین العابدین بن علی کا اقتدار ختم ہونے کے بعد سے اب تک تیونس میں تزویراتی اہمیت کا کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکا۔

لیبیا میں جاری حالیہ لڑائی کے تناظر میں ترکی، قطر اور اخوان المسلمون سے تیونسی پارلیمان کے سپیکر راشد الغنوشی کے مبینہ رابطوں کی بازگشت کے بعد تیونس میں جاری سیاسی اتھل پتھل میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

اس تناؤ کا نقطہ عروج اس وقت سامنے آیا جب النہضہ پارٹی کے سربراہ راشد الغنوشی نے لیبیا میں عالمی طور پر تسلیم کردہ قومی حکومت کے سربراہ فائز السراج کو الوطیہ ہوائی اڈا خلیفہ حفتر کی خود ساختہ  قومی فوج سے واپس لینے پر چند دن پہلے مبارک باد پیش کی۔

النہضہ کے راشد الغنوشی نے انقرہ اور دوحہ کے حمایت یافتہ لیبیائی وزیر اعظم فائز السراج کا ساتھ دے کر لیبیا سے متعلق تیونس کا غیرجانبدار موقف گہنا دیا۔ دوسری جانب متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مصر اور روس کے حمایت یافتہ خلیفہ خفتر نے حالیہ چند ہفتوں کے دوران میدان جنگ میں پے در پے چرکے کھائے ہیں جہاں وہ لیبیا کی قومی حکومت گرانے کے لیے اپنی ’سیلف سٹائل آرمی‘ اور ملیشیاؤں کا استعمال کر رہے ہیں۔

النہضہ کے سیاسی بیانیے اور رویے میں موجود کمزوری کا محور ترکی کی شام، عراق اور مشرقی بحیرہ روم، لیبیا اور باب المندب میں کامیابیوں سے جڑا ہوا ہے۔ ان ظاہری کامیابیوں سے متاثر ہو کر تیونس کی حکمران جماعت النہضہ اپنے جدید شہری بیانیے کو ترکی کی جسٹس اینڈ ڈیلوپمنٹ پارٹی سے ہم آہنگ بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ النہضہ، اسلام اور سیکولر جمہوریت سے متعلق ’نئی سوچ‘ اپنا کر خارجہ پالیسی جیسے مسائل سے اپنا دامن بچانا چاہتی ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کیا النہضہ، ترکی کی طرز پر نرم سفارت کاری چھوڑ کر کے سخت گیر موقف اپنائے گی؟ آیا صوفیہ کی حیثیت میں تبدیلی اس کی تازہ ترین مثال ہے! کیا النہضہ، ترکی کی طرح سیکولر ازم کا قلعہ مسمار کر دے گی؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تیونس کو اپنے ہاں کئی دہائیوں سے رائج پارلیمانی نظام کو ترکی کی طرز پر مطلق العنان صدارتی نظام سے تبدیل بھی کرنا ہو گا۔ یقیناً تیونس کے بحران کو علاقائی تنازعات سے الگ کر کے سمجھنا مشکل امر ہے۔ درحقیقت النہضہ تحریک خطے کی ان علاقائی طاقتوں سے جلا پاتی دکھائی دے رہی ہے جو اسے مالی، اخلاقی اور ابلاغی تعاون فراہم کرنے میں پیش پیش ہیں۔

تیونس کے صدر پروفیسر قیس سعید کی اپنے ملک کو ’جنگوں کے محور‘ سے بچانے کی کوششیں آسان امر نہیں۔ مقامی حریفوں اور علاقائی قوتوں کے بیانات کی حدت کو کم کرنا بھی ان کے لیے جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے النہضہ کے خلاف اقدامات کی بات کی اور ساتھ ہی ’بیلنسگ ایکٹ‘ کے طور پر آزاد دستور گروپ نامی جماعت کی طرف سے پارلیمنٹ کی تالا بندی کی مذمت بھی کی۔

صدر قیس کو ہر طرف سے حملوں کا سامنا ہے، بالخصوص تازہ ترین حملہ عرب تنظیم اخوان المسلمون نے اس یقین سے کیا تھا کہ تیونس میں منتخب صدر کا مستقبل جوئے کی بازی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔

تیونس کے جن علاقوں میں عرب بہار کی بنیاد بننے والے احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے، آج وہاں پھر سے حکومت وقت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

اگر حکمراں جماعت النہضہ اور دوسری سیاسی قیادت نے حکمت اور تدبر سے کام نہ لیا تو ان مظاہروں کی حدت دارالحکومت تیونس تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ