بائیڈن انتظامیہ کا طالبان کے ساتھ امن معاہدے کا جائزہ لینے پر غور

امریکی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن کے مطابق واشنگٹن اس بات کا جائزہ لینا چاہتا ہے کہ طالبان دہشت گرد گروپوں کے ساتھ روابط ختم کرنے کا وعدہ پورا کر رہے ہیں یا نہیں تاکہ افغانستان میں تشدد میں کمی سمیت فریقوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیے جاسکیں۔

2 مارچ 2020 کی اس تصویر میں افغان طالبان کے ارکان اور دیگر افراد  امریکہ  کے ساتھ  دوحہ میں ہونے والے امن معاہدے کے بعد جشن مناتے ہوئے (فائل تصویر: اے ایف پی)

امریکہ کے نومنتخب صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ نے جمعے کو کہا ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے گی کہ آیا طالبان امن معاہدے میں شامل اپنی ذمہ داریوں کے مطابق تشدد میں کمی کر رہے ہیں یا نہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے کہا ہے کہ امریکہ کے قومی سلامتی کے نئے مشیر جیک سلیون نے اپنے افغان ہم منصب حمداللہ محب سے بات کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ امن معاہدے کا جائزہ لینے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ 'خاص طور پر واشنگٹن اس بات کا جائزہ لینا چاہتا ہے کہ طالبان دہشت گرد گروپوں کے ساتھ روابط ختم کرنے کا وعدہ پورا کر رہے ہیں یا نہیں تاکہ افغانستان میں تشدد میں کمی سمیت افغان حکومت اور دوسرے فریقوں کے ساتھ بامعنی مذاکرات کیے جا سکیں۔'

ترجمان کے مطابق: 'جیک سلیون نے واضح کیا کہ امریکہ علاقائی سطح پر سفارتی کوششوں کے ساتھ امن عمل کی حمایت کرے گا تاکہ فریقین مسئلے کا پائیدار اور صحیح سیاسی حل تلاش کرسکیں اور ان کے درمیان مستقل بنیاد پر جنگ بندی ہوسکے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قومی سلامتی کی ترجمان نے امن معاہدے کے تحت افغان خواتین، لڑکیوں اور اقلیتی گروپوں کی غیر معمولی کامیابیوں کے تحفظ کے لیے امریکی حمایت کا بھی ذکر کیا ہے۔

جوبائیڈن کی طرف سے نامزد امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے منگل کو سینیٹ کمیٹی میں سماعت کے دوران کہا تھا کہ دوحہ میں ہونے والے معاہدے کے تحت 'ہم نام نہاد جنگ کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ چاہتے ہیں۔'

29 فروری 2020 کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور افغان طالبان کے مابین ہونے والے تاریخی معاہدے کے بعد یہ امید کی جارہی تھی کہ اس سے گذشتہ کئی برسوں سے شورش کے شکار ملک افغانستان میں امن کی راہیں کھلیں گی، تاہم حالیہ دنوں میں ہونے والے متعدد پرتشدد حملوں کے بعد یہ امید دم توڑتی نظر آتی ہے۔

 اس معاہدے میں یہ طے پایا تھا کہ نہ صرف امریکہ مئی 2021 تک اپنی فوجوں کا انخلا کرے گا بلکہ امریکہ اور طالبان، افغان فریقین کے مابین مذاکرات سے پہلے ہزاروں قیدیوں کا تبادلہ کریں گے۔

دوسری جانب طالبان بھی وعدہ کر چکے ہیں کہ وہ شدت پسندوں کو افغانستان میں سرگرم نہیں ہونے دیں گے، تاہم اس کے باوجود شدت پسند گروپ سرکاری فورسز پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا