افغان شہری دو دہائیوں بعد طالبان کی واپسی سے خوف زدہ

افغانستان پر امریکی حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے دو دہائیوں بعد طالبان پہلے سے بھی زیادہ طاقتور حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔

سات اکتوبر 2001 کو امریکی حملے کے ساتھ ہی القاعدہ کو پناہ دینے والے طالبان کی حکومت ختم ہو گئی تھی (فائل فوٹو/ اے ایف پی)

افغانستان پر امریکی حملے اور طالبان حکومت کے خاتمے کے دو دہائیوں بعد طالبان پہلے سے بھی زیادہ طاقتور حیثیت حاصل کر چکے ہیں۔

سات اکتوبر 2001 کو امریکی حملے کے ساتھ ہی القاعدہ کو پناہ دینے والے طالبان کی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ یاد رہے امریکہ میں ستمبر 2001 میں ہونے والے حملوں کی ذمہ داری القاعدہ نے قبول کی تھی جس میں تین ہزار امریکی شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

طالبان کی ’جابرانہ‘ حکومت کے خاتمے کے 19 سال بعد طالبان ایک بار پھر حکومت حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

فروری میں امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کا معاہدہ ہوا اور اس وقت طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق افغان شہری طالبان دور کے سیاہ دنوں کو یاد کر کے خوف کا شکار ہیں جب خواتین کو ’زنا‘ کے الزام پر قتل کیا جاتا تھا، اقلیتوں پر حملے کیے جاتے تھے اور لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی تھی۔

افغان شہری طالبان کے ایک اور دور کے حوالے سے فکر مند ہیں۔

کابل کی رہائشی 26 سالہ ماں کاتایون احمدی کہتی ہیں کہ ’مجھے طالبان کی حکومت ایک ڈروانے خواب کی طرح یاد ہے۔ میں اپنے اور اپنی بیٹی کے مستقبل کے حوالے سے بہت خوف زدہ ہوں۔‘

انہیں آج بھی یاد ہے کہ طالبان نے کس طرح کابل میں شریعت کی ’سخت ترین‘ تشریح کے تحت معمولی جرائم میں ملوث افراد کے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے۔

سال 2001 میں امریکی حملے کے بعد طالبان حکومت کے خاتمے سے نوجوان افغانوں خاص طور پر لڑکیوں کے حوالے سے صورت حال کافی بہتر ہوئی ہے اور نئے آئین کے تحت انہیں تعلیم حاصل کرنے کی آزادی سمیت کئی حقوق حاصل ہیں لیکن دوحہ میں گذشتہ مہینے سے جاری مذاکرات میں طالبان نے خواتین کے حقوق اور آزادی اظہار رائے کے حوالے سے کوئی واضح بات نہیں کی۔

کاتایون کے 35 سالہ شوہر فرزر فرنود افغان انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹجک سٹڈیز میں ریسرچر ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدے کے بعد سے طالبان کی پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہو گیا ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ طالبان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ان کا کہنا ہے کہ 'یہ بات افغانوں کے لیے کوئی امید نہیں پیدا کر رہی۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نوعمری میں انہوں نے طالبان کی جانب سے خواتین کو سنگسار کرنے، سر عام پھانسی دینے اور کوڑے مارنے کے واقعات کا مشاہدہ کیا تھا۔ طالبان کی جانب سے موسیقی اور انٹرٹینمنٹ پر پابندی کے بعد ان کے خاندان نے اپنا ٹی وی اینٹینا ایک درخت میں چھپا دیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’وہ تمام کامیابیاں جو ہم نے ان 18 سال میں حاصل کیں ہیں وہ طالبان کے دور میں وجود نہیں رکھتی تھیں۔‘

طالبان ترجمان نے اس حوالے سے اپنا موقف دینے سے انکار کیا ہے۔

غیر ملکی فوجوں اور افغان حکومت کی فوج کے خلاف چار سال تک لڑنے والے ضیا الرحمن نے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان ’شرعی نظام‘ نافذ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ افغانستان کے آئین میں پہلے ہی اسلام کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ہمیں لڑکیوں کی تعلیم یا کام کرنے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن انہیں حجاب پہننا ہو گا۔‘

افغانستان میں امریکی مداخلت امریکہ کے لیے بہت مہنگی رہی ہے۔ پینٹاگون کے بیان کے مطابق امریکہ اب تک افغانستان میں ایک ٹریلین ڈالر خرچ کر چکا ہے جبکہ اس کے 2400 سے زائد فوجی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا