پی ٹی آئی پارٹی فنڈنگ کیسز کی اوپن سماعت: اکبر ایس بابر کےتحفظات

الیکشن کمیشن کے ترجمان ندیم قاسم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت اوپن ہوگی لیکن سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی خفیہ ہوتی ہے وہ اوپن نہیں ہوسکتی تاہم ان تحقیقات میں فریقین شامل ہیں.

(اے ایف پی)

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سیاسی جماعتوں کے فنڈز جمع کرنے سے متعلق کیس کی اوپن سماعت کا اعلان کیاہے۔

پی ٹی آئی کے منحرف بانی رکن اکبر ایس بابر جو پی ٹی آئی کے خلاف غیر ملکی فنڈنگ کیس کے مدعی ہیں انہوں نے اس فیصلے کو لالی پاپ قراردیا ہے۔

ان کے مطابق فارن فنڈنگ کیس کی پہلے ہی سماعت اوپن ہورہی تھی لیکن اصل معاملہ یہ ہے کہ تحقیقات کرنے والی سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی کو عوام کے سامنے رکھاجائے گا جن کے پاس پی ٹی آئی کی غیر قانونی فنڈنگ اور 23 میں سے بیشتر اکاؤنٹس پوشیدہ رکھنا ثابت ہوچکاہے۔

الیکشن کمیشن ترجمان کے مطابق تمام سیاسی جماعتوں کے فنڈز جمع کرنے سے متعلق کیس کی سماعت اوپن کی جارہی ہے اور سکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ آنے پر وہ بھی سماعت کا حصہ ہوگی۔

فنڈنگ کیس کی سماعت کہاں تک پہنچی؟

الیکشن کمیشن میں حکمران جماعت کے منحرف رہنما اکبر ایس بابر نے سات سال پہلے اپنی ہی جماعت پر غیر ملکی فنڈنگ غیر قانونی طریقہ سے جمع کرنے کا الزام لگاکر درخواست دائر کی تھی جب کہ پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے چار سال پہلے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے خلاف درخواست دائر کی تھی کہ ان جماعتوں نے غیر قانونی طریقے سے پارٹی فنڈز جمع کر کے انتخابات میں خرچ کیے ہیں، ان کے خلاف کارروائی کیاجائے۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے اس معاملہ کے شواہد جمع کر کے حقائق پر مبنی تحقیق کے لیے سکروٹنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔

یہ مقدمات الیکشن کمیشن میں زیر سماعت رہے کچھ عرصہ قبل سکروٹنی کمیٹی کو پی ٹی آئی سے متعلق 23اکاؤنٹس کا ریکارڈ جمع کرایاگیا۔

اکبر ایس بابر کے مطابق ان اکاؤنٹس کا ریکارڈ انہیں فراہم نہیں کیاگیا اور نہ ہی الیکشن کمیشن کو جمع کرایاجارہاہے۔ اور سکروٹنی کمیٹی کی تحقیقات کو پوشیدہ رکھاگیا جبکہ پی ٹی آئی یہ بھی تسلیم کر چکی ہے کہ انہیں غیر ملکی فنڈنگ اگر غیر قانونی طریقہ سے ہوئی ہے تو اس کی ذمہ داری فنڈز جمع کرنے والے ایجنٹس پر عائد ہوتی ہے۔

اکبر ایس بابر نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے فارن فنڈنگ کیس کی سماعت اوپن کرنے کا مطالبہ اس لیے غیر سنجیدہ ہے کہ وہ تو سپریم کورٹ میں درخواست دائر کر چکے ہیں کہ پارٹی فنڈنگ کی تحقیقات سے متعلق معاملے کی سماعت الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں تو اب کس منہ سے مطالبہ کیاجارہاہے۔

پی ٹی آئی رہنما فرض حبیب کے مطابق پی پی پی اور مسلم لیگ ن اپنے پارٹی فنڈز کے ذرائع بتانے سے قاصر ہیں چار سال سے تفصیلات جمع نہیں کرارہے۔

ان پارٹیوں کے اپنے آڈیٹرز نے پیرے لگائے ہیں کہ انہیں بہت سے ذرائع اور پارٹی کو فنڈز دینے والوں کو شناخت نہیں ہوئی۔

الیکشن کمیشن کی اوپن سماعت اورفریقین کی رائے؟

الیکشن کمیشن کے ترجمان ندیم قاسم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں کی فنڈنگ سے متعلق کیس کی سماعت اوپن ہوگی لیکن سکروٹنی کمیٹی کی کارروائی خفیہ ہوتی ہے وہ اوپن نہیں ہوسکتی تاہم ان تحقیقات میں فریقین شامل ہیں، نیز جب یہ سکروٹنی کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ الیکشن کمیشن کو جمع کرائے گی تب وہ بھی اوپن سماعت کا حصہ ہوگی۔ تحقیقات کی روشنی میں جو بھی قانون کے مطابق کارروائی ہوگی وہی کی جائے گی۔

پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے کہاکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے فنڈنگ کیس کی سماعت اوپن کرنے کا اعلان وزیر اعظم کی کامیابی ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم کسی قسم کی تحقیق سے خوفزدہ نہیں خود چاہتے ہیں کہ حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ وہ خود فیصلہ کریں کون سچا ہے اور کون جھوٹاہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہاکہ سماعت اوپن ہونے دیں معلوم ہوجائے گا پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے پارٹی فنڈز میں بھی کئی پاپڑ والے نکلیں گے۔ ابھی تک یہ فنڈز کے ذرائع بتانے سے بھاگ رہے ہیں جو کہ کروڑوں روپے کی رقم ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان جماعتوں کی جانب سے فنڈنگ سے متعلق الیکشن کمیشن کو جمع کرائی گئی اپنی ہی تفصیلات میں گڑبڑ ہے کیونکہ ان کے اپنے ہی آڈیٹرز نے ان فنڈز کے ذرائع پر سوالات اٹھا رکھے ہیں کہ کروڑوں روپے ایسے ہیں جن کا معلوم نہیں وہ کن ذرائع یا کن افراد کی جانب سے موصول ہوئے ہیں۔

اس معاملے پراکبر ایس بابر سے بات کی گئی تو انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی ہمیشہ سے غیر ملکی فنڈنگ کی تفصیلات جمع کرانے سے بھاگتی رہی اور جب سکروٹنی کمیٹی بنی اور انہوں نے سٹیٹ بینک سے اکاؤنٹس کا ریکارڈ حاصل کیا تو معاملہ خفیہ رکھاگیا۔ ٹی او آرز کے تحت سکروٹنی کمیٹی کی تحقیقات میں فریقین کو شامل کرنا تھا لیکن ہمیں سکروٹنی کمیٹی کوئی معاملہ بتانے کو تیار نہیں۔ درخواست کے باوجود انہوں نے نہ اکاؤنٹس کی تفصیلات دیں اور نہ ہی آمدن کے ذرائع بتائے۔ اس معاملہ کو دبانے کی کوشش ہوتی رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے اگست 2020 کےایک فیصلہ میں کہا گیاہے کہ سکروٹنی کمیٹی تحقیقات میں سست روی کاشکار ہے۔ جو ان کی ذمہ داری تھی وہ پوری نہیں کی جارہی لہذا تحقیقات کو جلد مکمل کر کے رپورٹ جلد جمع کرائی جائے، لیکن ابھی تک جمع نہیں ہوئی جس کا مطلب ہے کہ سکروٹنی کمیٹی معاملہ دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور پی ٹی آئی حکومت میں ہے تو تحقیقات پر اثر انداز ہورہے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیاکہ ثبوتوں کی روشنی میں میرا موقف کب کا ثابت ہوچکاہے لیکن الیکشن کمیشن حتمی فیصلہ کرنے میں تاخیر کرتارہاہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان