قدرتی آفات کا تسلسل: ’پاکستان کو ریکوری کا موقع تک نہیں مل رہا‘

ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں انسانیت کو براہ راست درپیش خطرے کے ایک تازہ تجزیے کے مطابق گذشتہ 20 سالوں میں قدرتی آفات میں تقریباً پانچ لاکھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

قدرتی آفات سے  ہونے والے نقصان کا بڑا حصہ ترقی پذیر ملکوں نے اٹھایا: رپورٹ (اے ایف پی)

ماحولیاتی تبدیلی کے نتیجے میں انسانیت کو براہ راست درپیش خطرے کے ایک تازہ تجزیے کے مطابق پاکستان، فلپاینز اور ہیٹی میں اتنے تسلسل سے قدرتی آفات آ رہی ہیں کہ ان ملکوں کو ریکوری کا موقع بھی نہیں مل رہا۔

اس تجزیاتی رپورٹ کے مطابق گذشتہ20 سالوں میں شدید موسمی حالات کے نتیجے میں آنے والی قدرتی آفات میں تقریباً پانچ لاکھ لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔ موسم سے جڑی قدرتی آفات جیسے کہ طوفان، سیلاب اور شدید گرمی کی لہر کی وجہ  سے ہونے والی ان ہلاکتوں کے بوجھ کا بڑا حصہ ترقی پذیر ملکوں نے اٹھایا۔

تجزیاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس سال کرونا (کورونا) وائرس کی وجہ سے ماحولیاتی مطابقت پر آن لائن ہونے والی سربراہ کانفرنس کے شروع میں تھنک ٹینک 'جرمن واچ' نے اعدادوشمارپیش کیے کہ اس صدی میں عالمی معیشت کو 2.56 کھرب ڈالرز کا نقصان پہنچا۔

شدید موسم کے نتیجے میں رونما ہونے والے 11 ہزار واقعات کے تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ سال 2000 سے اب تک تقریباً چار لاکھ 80 ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ پورٹوریکو، میانمار اور ہیٹی سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں۔

ماحول سے متعلق پیرس معاہدے کے تحت امیر ملکوں نے ہرسال ایک سو ارب ڈالرز فراہم کرنے ہیں تاکہ غریب ملکوں کی درجہ حرارت میں اضافہ روکنے اور ماحول کے ساتھ مطابقت پیدا کرنے میں مدد کی جا سکے لیکن تازہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماحول کے حوالے سے اقدامات کے لیے ترقی پذیر ملکوں کے لیے دستیاب فنڈ حقیقت میں بہت تھوڑے ہیں۔

جرمن واچ کے گلوب کلائمیٹ انڈیکس نے دو دہائیوں میں شدید موسم کے نتیجے میں ہونے والے واقعات کا جائزہ لیا ہے۔ خاص طور پر 2019 کے طوفانوں کے سیزن کا۔ سمندری طوفانوں نے جزائرغرب الہند، مشرقی افریقہ اور جنوبی ایشیا کے حصوں کو تباہی سے دوچا ر کر دیا۔

رپورٹ کے شریک مصنف ڈیوڈ ایکسٹین کے بقول: ’اس صورت حال سے ظاہر ہوتا ہے کہ خطرے سے دوچار غریب ملکوں کو شدید موسمی حالات کے نتائج سے نمٹنے میں بہت بڑی بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔ان ملکوں کو فوری طور پر مالی اور تکنیکی امداد کی ضرورت ہے۔‘

تجزیے کی تحقیق کار ویرا کنزل کے مطابق ہیٹی فلپائن اور پاکستان مسلسل شدید موسمی تبدیلیوں کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہیں اتنا وقت بھی نہیں مل رہا کہ وہ ایک کے بعد دوسری آفت سے سنبھل سکیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

فنڈ میں کمی پوری کرنا، ماحول سے مطابقت، برادریوں پر مرتب ہونے والے نتائج میں کمی اور سیلاب اور خشک سالی جیسی موسمیاتی آفات سے نمٹنے کے لیے ان کی صلاحیت میں اضافہ پیرس معاہدے کا ستون ہے۔

معاہدے کے تحت ماحول سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے سالانہ 50 ارب ڈالرز رکھے گئے ہیں لیکن جیسے کہ اس کے بعد کے برسوں میں قدرتی آفات کئی گنا بڑھ گئی ہیں، اس صورت حال کو سامنے رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ آنے والے برسوں میں اخراجات میں اضافہ ہو جائے گا۔

ایک اندازے کے مطابق ترقی پذیر ملکوں کو ہرسال 70 ارب ڈالرز کی ضرورت ہو گی لیکن اس رقم میں سے اس وقت صرف 30 ارب ڈالرز دستیاب ہیں۔ اقوام متحدہ کے ماحول سے متعلق پروگرام نے فنڈ کی کمی اور ماحول سے مطابقت پر اس سال کی رپورٹ میں کہا  ہے کہ ماحولیاتی اثرات سے مطابقت پیدا کرنے کے حقیقی اخراجات 2030 تک 300 ارب ڈالرز اور رواں صدی کے وسط تک 500 ارب ڈالرز ہو سکتے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات