امریکی گلوکارہ ریحانہ کی کسانوں کے احتجاج کی حمایت پر بھارتی برہم

بھارتی کسانوں کے احتجاج کے بارے میں ٹوئٹر پر پیغام کے بعد بھارتی سوشل میڈیا صارفین ریحانہ کو ملک کے ’اندرونی معاملے‘ سے باہر رہنے کا کہہ رہے ہیں۔

ریحانہ کی پوسٹ کو ساڑھے چار لاکھ کے قریب لائک اور ڈھائی لاکھ کے قریب ری ٹویٹ کیا جا چکا ہے۔(اے ایف پی)

کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے بعد اب امریکی پاپ سپر سٹار ریحانہ نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی زرعی اصلاحات کے خلاف گذشتہ دو ماہ سے احتجاج کرتے کسانوں کے حق میں بیان دے کر بھارت میں ہلچل مچا دی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دو ماہ سے زیادہ عرصے سے ہزاروں نوجوان اور بوڑھے کسان تین متنازع زرعی قوانین کے خلاف جاری احتجاج کے دوران دہلی کی شاہراہوں پر شدید سردی اور پولیس کے تشدد کا سامنا کر رہے ہیں۔  

گذشتہ ہفتے یوم جمہوریہ کے موقعے پر کسانوں کی ٹریکٹر ریلی پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں میں بدل گئی جس کے بعد کسانوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے پولیس نے انٹرنیٹ کی بندش، خندقیں کھودنے اور سڑکوں پر کیلیں اور خار دار تاریں بچھانے جیسے اقدمات کیے۔

ان واقعات کے بعد امریکی گلوکارہ ریحانہ نے بھارتی کسانوں کے لیے آواز بلند کی۔ اپنے 10 کروڑ سے زیادہ فالوورز کو ایک ٹویٹ میں ’سی این این‘ کی ایک رپورٹ شیئر کرتے ہوئے ریحانہ نے لکھا: ’ہم اس بارے میں بات کیوں نہیں کررہے ہیں؟‘

 

ریحانہ کی اس پوسٹ کو ساڑھے چار لاکھ کے قریب لائک اور ڈھائی لاکھ کے قریب ری ٹویٹ کیا جا چکا ہے۔

تاہم ان کے پیغام کے بعد جیسے اس سوشل پلیٹ فارم پر بھونچال آ گیا ہو جہاں بھارتیوں کی ایک بڑی تعداد نے ریحانہ کی ٹویٹ کو اپنے ملک کے داخلی معاملے میں مداخلت قرار دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارتی حکمران قوم پرست جماعت بی جے پی کی حامی بالی ووڈ اداکارہ کنگنا رناوت نے ریحانہ کو جواب دیتے ہوئے کہا: ’کوئی بھی اس بارے میں اس لیے بات نہیں کر رہا ہے کیونکہ وہ کسان نہیں ہیں وہ دہشت گرد ہیں جو بھارت کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔۔‘

 

 

اڑیسہ کے سینیئر پولیس آفیسر آرون بھوترا نے ایک ٹویٹ میں ریحانہ کی ٹویٹ پر ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’ہر بھارتی شہری کو حق ہے کہ وہ کسان تحریک کی مخالفت کرے یا اس کی حمایت، لیکن کسی غیر ملکی کی جانب سے ہمارے داخلی معاملے پر تبصرہ کرنا بالکل غلط ہے۔ آگے کیا ہو گا؟ کیا اقوام متحدہ کی قرارداد لائی جائے گی؟‘

 

 

بہت زیادہ تنقید کے باوجود کچھ افراد نے ریحانہ کی جانب سے کسانوں کے احتجاج کی حمایت کا دفاع بھی کیا۔

معروف بھارتی ٹی وی میزبان تحسین پونا والا نے کہا: ’ریحانہ جو کچھ کہہ رہی ہیں وہ بالکل ٹھیک ہے اور یہاں تک کہ یہی بات انٹرنیٹ کی بندش کے بارے میں بھارت کی معزز سپریم کورٹ نے بھی کہی ہے۔۔۔‘

 

نیو یارک میں قائم حقوق پر کام کرنے والے گروپ ’سکھ کولیشن‘ نے اس موضوع کو بین الاقوامی سطح پر مزید اجاگر کرنے پر ریحانہ کا شکریہ ادا کیا۔

انہوں نے ٹویٹر پر کہا: ’ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے بھارتی حکومت کسانوں کے احتجاج کے ارد گرد انٹرنیٹ کو معطل کر کے اظہار رائے کی آزادی کے واضح خلاف ورزی کر رہی ہے۔‘

اس سے قبل کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو بھی بھارتی کسانوں کی حمایت میں آواز اٹھا چکے ہیں جس پر دہلی نے اوٹاوا سے احتجاج بھی کیا تھا۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی سوشل