سپورٹس میگزین کے لیے برقعینی اور حجاب میں ماڈلنگ

افریقی نژاد امریکی ماڈل حلیمہ عدن نے برقعینی اور حجاب کے ساتھ سپورٹس السٹریٹیڈ کے لیے ماڈلنگ کر کے نئی تاریخ رقم کر دی۔

افریقی نژاد امریکی ماڈل کو حجاب اور برقعینی کے امتزاج کے ساتھ میگزین کے سوئم سوٹ 2019 کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ تصویر: بشکریہ سپورٹس السٹریٹڈ سوئم سوٹ ٹوئٹر اکاؤنٹ

امریکی ماڈل حلیمہ عدن نے بیک وقت حجاب اور برقعینی (خواتین کے لیے تیراکی کے مخصوص لباس) کے ساتھ ایک معروف میگزین ’سپورٹس السٹریٹیڈ سوئم سوٹ‘ کے سرورق پر جلوہ گر ہوکر تاریخ رقم کردی ہے۔

سپورٹس السٹریٹیڈ کے ٹوئٹر ہینڈل سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ افریقی نژاد امریکی ماڈل کو حجاب اور برقعینی کے امتزاج کے ساتھ میگزین کے سوئم سوٹ 2019 کے لیے منتخب کیا گیا ہے، اس ٹویٹ کو ایک ہزار سے زائد افراد نے لائیک کیا ہے۔

ٹویٹ کے ساتھ شوٹ کی ایک تصویر بھی شیئر کی گئی ہے جس میں ماڈل کو نیلے اور مرغابی رنگ کی برقعینی اور اسی مناسبت سے حجاب کے ساتھ ساحل سمندر پر لیٹے ہوئے دیکھایا گیا ہے، تصویر کے نیچے درج ہے: ’حلیمہ عدن نے برقعینی اور حجاب کے ساتھ سپورٹس السٹریٹیڈ کے لیے ماڈلنگ کر کے نئی تاریخ رقم کر دی۔‘

 معروف فوٹوگرافر یو تسائی نے اس فوٹو شوٹ کو کینیا کے ساحل پر فلم بند کیا ہے، عدن کا تعلق بھی اسی ملک سے ہے۔

میگزین کے مطابق 21 سالہ عدن نے کاکوما کے پناہ گزین کیمپ میں جنم لیا تھا، وہ سات برس کی عمر میں امریکہ منتقل ہوگئی تھیں۔

کینیا میں شوٹنگ کے دوران سیاہ فام ماڈل نے میگزین کو بتایا کہ یہاں آ کر وہ ماضی کی یادوں میں ڈوب گئی ہیں جب انہوں نے چھ برس ایک پناہ گزین کیمپ میں گزارے تھے۔

حلیمہ عدن کے مطابق: ’امریکہ میں رہنے کا خواب پورا کرنے [اور] واپس کینیا پہنچنے اور یہاں کے سب سے خوبصورت حصے میں ایس آئی میگزین کے لیے شوٹنگ کروانا ایک کہانی ہے، جس پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔‘

ماڈلنگ انڈسٹری میں عدن کا نام سب سے پہلے 2016 میں اُس وقت سامنے آیا جب انہوں نے تمام رکاوٹیں پھلانگتے ہوئے مس مینیسوٹا یو ایس اے کے مقابلے میں حجاب کے ساتھ شریک ہونے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

مقابلے کے سوئم سوٹ حصے کے دوران بطور سیمی فائنلسٹ عدن نے برقعینی پہنی تھی۔

کچھ عرصہ بعد عدن، جو یونیسیف کی خیرسگالی سفیر بھی ہیں، نے آئی ایم جی ماڈلز کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے اور اس طرح ان پر کامیابیوں کے دروازے کھلتے چلے گئے اور آج  وہ ’ووگ‘ میگزین کے سرِ ورق کی زینت بن چکی ہیں اور نیویارک فیشن ویک شو سمیت کئی بڑے فیشن شوز کا جانا مانا چہرہ ہیں۔

عدن نے ’گڈ مارننگ امریکہ‘ کو بتایا کہ مسلم پس منظر رکھنے کے باوجود فیشن کی صنعت میں خود کو ایک اعتدال پسند ماڈل کے طور پر منوانا ان کے لیے اہم تھا، ایسے کئی لمحات آئے جب ان سے وابستہ ہر شخص جذباتی ہو جاتا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’یہ ایک بہت بڑا لمحہ ہے۔‘

اس شوٹنگ سے انہیں کیا حاصل ہونے کی امید ہے؟ اس سوال کے جواب میں عدن نے کہا کہ وہ دقیانوسی روایات کو توڑ کر خواتین کو بتانا چاہتی ہیں کہ ’جی ہاں، آپ ایک ملکہ ہیں، اور آپ ایسا کر سکتی ہیں۔‘

سپورٹس السٹریٹیڈ کے ایڈیٹر ایم جے ڈے کے مطابق: ’2019 کا میگزین خوبصورتی کی سب سے بڑی مثال ثابت ہوگا۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہمارا یقین ہے کہ خوبصورتی کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ برقعینی میں ہوں یا بکنی میں، اہم یہ ہے کہ آپ خود کو سب سے زیادہ خوبصورت اور اعتماد محسوس کریں، اور یہ کہ آپ اہم ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین