تیرے عشق نچایا کرکے تھیّا تھیّا!

رقص کے عالمی دن کے موقع پر بابا بلھے شاہ کی یاد میں ایک تحریر۔

فائل تصویر: اے ایف پی

آج رقص کا عالمی دن ہے تو آج بلھے شاہ کو یاد کیجیے جنہوں نے پنجابی زبان کی صوفی روایت میں رقص کو فنا فی الذات کا ذریعہ بناتے ہوئے وحدت الوجود کا سفر طے کیا۔

اِٹ کھڑَ کے تے دُکّڑ وجّے تَتا ہووے چُلھا

آن فقیر تے کھا کھا جاون راضی ہووے بُلھا

اینٹوں سے اینٹیں ٹکراتی ہیں۔ ناچ ہوتا ہے۔ چولہا گرم ہوتا ہے۔

فقیر آتے ہیں۔ کھا نا کھا کرجاتے ہیں۔ بُلھا راضی ہوتا ہے۔

اگر ناچ حرام ہوتا تو بُلھے شاہ کبھی یہ نہ کہتا:

بلھے نچ کے یار منایا اے
سارا بھید اندر دا پایا اے

بلھے شاہ نے اپنا محبوب رقص کرکے راضی کیا ہے اور وہ اپنے اندر چھپے راز سے واقف ہوگیا ہے۔ کسی نے جب یہ پوچھا کہ وہ کیا راز ہے جس سے واقف ہوئے ہو تو بلھے شاہ نے جواب دیا:

گل سمجھ لئی اے تاں رولا کیہ

ایہہ رام رحیم تے مولا کیہ

بات سمجھ میں آجائے تو رام رحیم کے جھگڑے ختم ہوجاتے ہیں۔

برصغیر پاک و ہند میں جب بھی کسی کے دل سے رام رحیم کا جھگڑا ختم ہوا تو اس کے قدم اس کے من کی لَے پر اٹھنے لگے اور وہ بلھے شاہ کے حلقے میں جا بیٹھا۔ یہاں فقیروں پر آنے جانے کی کوئی روک ٹوک نہیں ہے اور جہاں من کی لَے پر ناچنے سے کسی کا دھرم بھرشٹ نہیں ہوتا۔

کہتے ہیں کہ بلھے شاہ زندہ تھا تو شریعت کے پابند علمائے کرام اس کی مخالفت کیا کرتے تھے کیونکہ وہ ملامتی صوفی تھا اور ملامتیوں کی علتوں کو بہت بے باکانہ انداز سے اپنائے رکھتا تھا۔ وہ قدم قدم پہ محتاط فکر پاک بازوں پہ چوٹ لگاتا اور انہیں اپنی بے ساختہ کافیوں سے آرزودہ کیے رکھتا۔

ان کی انہی بے باکیوں نے ان کے مرشد کو ان سے ناراض کردیا اور انہوں نے بلھے شاہ کو اپنے حلقے سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اب جو مرشد کی ناراضی کا احساس کچوکے دینے لگا تو وہ انہیں منانے کی خاطر مست قوالوں میں جا کر ناچ سیکھنے لگ گئے اور ہجر میں عشق کا غم اپنے شعروں میں کہنے لگے:

ایس عشقے دی جھنگی وچ مور بولیندا

سانوں قبلہ تے کعبہ، سوہنا یار دسیندا

سانوں گھائل کرکے، پھیر خبر نہ لئی آ

تیرے عشق نچایا کرکے تھیّا تھیّا

عشق کی جھاڑی میں مور بولتا ہے، ہمیں قبلہ اور کعبہ اپنے محبوب میں دکھائی دیتا ہے۔ مجھے دکھی کرکے ہماری خبر تک نہ لینے والے، میں تیرے عشق میں ناچ رہا ہوں۔

ایک روز اپنے مرشد کے سامنے ناچتے ناچتے جب مرشد کے قدموں میں جا گرے تو انہوں نے معاف کر دیا۔ وہ پکار پکار کر کہنے لگے:

آؤ نی سیٔو رل دیو نی ودھائی

میں ور پایا سوہنڑا ماہی

(میری سہیلیو، مجھے مبارک دو، میرے محبوب نے مجھے اپنا لیا ہے)۔

رقص سے والہانہ عقیدت اور اس کے رستے پر چل کر وجود کی وحدت کے اسرار کے پردے چاک کرنے کے لیے ہمیں کہیں دور جانے اور کوئی بہت بڑی تپسیا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ قصور میں بلھے شاہ کا مزار ہمارا منتظر ہے اور وہاں جانے پر ممکن ہے کہ آپ کی ملاقات بلھے شاہ سے بھی ہو جائے کیونکہ وہ خود ہی یہ کہتے کہتے رخصت ہوئے ہیں:

بلھے شاہ اسیں مرنا ناہیں گور پیا کوئی ہور!

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ