سلامتی کونسل حوثی خطرہ روکنے کی ذمہ داری ادا کرے: سعودی عرب

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 'ایران کے حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی پر تشدد سرگرمیوں سے سعودی عرب اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرے کو ختم کرنے اور ان کے احتساب کی ذمہ داری ادا کرے۔'

(سعودی عرب میں ابہا ائیرپورٹ پر موجود جہاز سے ٹکرانے والا ڈرون۔ اے ایف پی)

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 'ایران کے حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی پر تشدد سرگرمیوں سے سعودی عرب اور عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرے کو ختم کرنے اور ان کے احتساب کی ذمہ داری ادا کرے۔'
عرب نیوز کے مطابق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو لکھے جانے والے ایک خط میں اقوام متحدہ کے لیے مستقل سعودی مندوب عبداللہ المعلمی نے سلامی کونسل کے ارکان سے حوثی ملیشیا کی دہشت گردی کی مذمت کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
خط میں سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کی جانب سے مسلسل کیے جانے والے حملوں کی بھی نشاندہی کی گئی اور ان حملوں کو 'عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کی کھلی خلاف ورزی' قرار دیا گیا۔

خط میں ایک مثال حال ہی میں 11 فروری کو سعودی عرب کے علاقے اسیر میں ابھا کے ہوائی اڈے پر ہونے والا حملہ تھا جس میں ایک مسافر طیارے میں آگ بھڑک اٹھی تھی۔ 
المعلمی نے اپنے خط میں لکھا کہ 'شہری تنصیبات پر کیے جانے والے ایسے دہشت گرد حملے عام مسافروں کی جان کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور یہ جنگی جرائم ہیں۔ حوثی ملیشیا کو عالمی انسانی قوانین کے مطابق اس پر احتساب کا سامنا کرنا چاہیے۔'

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے حملے اقوام متحدہ کی ان کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں جن کے تحت یمن میں ایک جامع سیاسی حل کی کوشش کی جاری ہے اور یہ 'خطے کے استحکام اور عالمی امن کو بھی عدم استحکام کا شکار بنا رہے ہیں۔'
یہ خط برطانیہ کی اقوام متحدہ کے لیے مستقل مندب باربرا وڈورڈ کے نام لکھا گیا ہے جو اس ماہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے صدارت کے عہدے پر فائز ہیں جبکہ خط کی ایک کاپی اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس کو بھی بھیجی گئی ہے۔ المعلمی نے باربرا وڈورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس خط کو سلامی کونسل کے اپنے دستاویز کے طور پر جاری کیا جائے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا