سوات میں مسلمانوں کے تعاون سے بننے والا شمشان گھاٹ

مینگورہ میں ریاست سوات کے وقت سے سینکڑوں سکھ خاندان آباد ہیں، جنھیں اپنے مردوں کی آخری رسومات کے لیے شمشان گھاٹ کی ضرورت تھی۔ اس ضرورت کو مقامی مسلمانوں اور سکھوں نے مل کر پورا کر لیا۔

مینگورہ میں سینکڑوں سکھ خاندان ریاست سوات کے وقت سے آباد ہیں۔ انہیں اپنے مردوں کا انتم سنسکار کرنے کے لیے شمشان گھاٹ کی ضرورت تھی، جس کے پیش نظر مسلمانوں اور سکھوں نے مل کر باہمی اتفاق سے چند سال پہلے یہاں ایک شمشان گھاٹ کی بنیاد رکھی۔

گرودوارہ میں سکھ مذہب کی مقدس کتاب سری گرو گرنتھ صاحب کو پڑھانے والوں کو ہیڈ گرانتھی کہا جاتا ہے۔ سوات میں ہیڈ گرانتھی بنسری لال ہیں، جنہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انہیں شمشان گھاٹ کا مسئلہ درپیش تھا۔

’یہاں کے مقامی مسلمان بھائیوں نے ہمشہ ہماری مدد کی۔ جب بھی ہمارا کوئی مر جاتا تو وہ ہمیں اپنی جگہ دے دیتے، اپنے کھیت دے دیتے کہ یہاں اپنی آخری رسومات یعنیٰ انتم سنسکار کر لیں، ہم نے اکثر آخری رسومات ان مسلمان بھائیوں کے کھیتوں میں کیں۔‘

بنسری لال نے مزید کہا کہ ’مسلمان بھائیوں کی مدد سے اور پھر بعد میں کچھ حکومت اور کچھ ہمارے اپنے لوگوں نے شمشان گھاٹ کی جگہ خرید لی، اب یہ شمشان گاٹ مکمل طور پر بن گیا ہے۔ اس کے اندر ہم  اپنے طریقے سے جتنی رسومات ہیں، ادا کرتے ہیں۔‘

سوات جہانزیب کالج میں 30 سال سے  پولیٹیکل سائنس پڑھانے والے پروفیسر رادھے شام نے کہا کہ ’سکھوں کی تاریخ سوات میں 200 سال پرانی ہے۔ اس زمانے میں سکھ برادری انڈس ریور پر آباد تھی لیکن جب 1917 میں جرگے نے میانگل عبد الودود بادشاہ صاحب کو سوات  کا بانی مقرر کیا تو زیادہ تر سکھ خاندان  ہجرت کرکے مینگورہ چلے گئے، بادشاہ صاحب کے وقت میں سوات ایک پرامن ریاست تھی۔‘

بنسری لال نے بادشاہ صاحب کے بارے میں کہا ’والی سوات نے سکھوں کو اپنے بیٹوں کی طرح پالا۔‘

پروفیسر شام نے اس بات کی وضاحت کی کہ ’جب بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے، تو ہم لوگ یہاں پر ڈرنے لگتے ہیں۔ چھ دسمبر، 1992 کو جب بھارت میں بابری مسجد مسمار کی گئی تو سوات میں مشتعل افراد نے گردوارے کو گرانا جہاد سمجھا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب سوات میں دہشت گردی اپنے عروج پر تھی تو اقلیتوں کے ساتھ کیسا رویہ تھا؟ بنسری لال نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ ’2009 میں جب سوات کے باقی لوگ آئی ڈی پیز بن کر ہجرت کر گئے، تو ہم لوگ حسن ابدال چلے گئے اور جب حالات ٹھیک ہوئے تو ہم ایک مہینے بعد واپس چلے آئے۔

’دہشت گردی کے وقت میں اقلیت کو لے کر سوات میں حالات بالکل نارمل تھے، کوئی بڑا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔‘ حسن ابدال پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کا ایک شہر ہے اور سکھ مذہب کے سب سے مقدس مقامات میں سے ایک گردوارہ پنجہ صاحب بھی وہیں موجود ہے۔

سکھ مذہب کے پیروکار سنت کمار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ایک تو ہمارے ثقافتی مسائل ہیں، جو اقلیت ہونے کی وجہ سے دنیا کے ہر کونے میں درپیش ہوتے ہیں۔ یہ اتنی بڑی بات نہیں، اس کا سامنا سوات میں ہم بھائی چارے کے ساتھ کر رہے ہیں۔

’تاہم دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے بچے ڈاکٹر بننا چاہتے ہیں لیکن خیبر پختونخوا کے میڈیکل کالج میں اقلیتوں کے لیے بہت کم کوٹہ رکھا گیا ہے۔ میری پاکستانی حکومت سے اپیل ہے کہ اس کو بڑھا دیا جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ویڈیو