’لاپتہ افراد کے اہل خانہ وزیر اعظم پر یقین کے علاوہ کریں بھی تو کیا‘

اسلام آباد میں 10 روز سے احتجاج کرنے والے لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے وزیر اعظم عمران خان سے آئندہ مہینے ملاقات کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کر دیا۔

لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا یہ احتجاج بلوچ وائس آف مسنگ پرسنز  کے زیر اہتمام 11 جنوری کو اسلام آباد میں شروع ہوا تھا (انڈپینڈنٹ اردو)

اسلام آباد کے ڈی چوک میں 10 روز سے احتجاج کرنے والے 13 لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے وزیر اعظم عمران خان سے آئندہ مہینے ملاقات کی یقین دہانی کے بعد ہفتے کو دھرنا ختم کر دیا۔ 

لاپتہ افراد کے اہل خانہ کا یہ احتجاج بلوچ وائس آف مسنگ پرسنز (بی وی ایم پی) کے زیر اہتمام 11 جنوری کو اسلام آباد میں شروع ہوا تھا، جس میں نوجوانوں اور معمر افراد کے علاوہ خواتین اور بچیوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہوئی۔ 

چئیرمین بی وی ایم پی نصراللہ بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ وزیر اعظم عمران خان کی مارچ میں ان سے ملاقات کی یقین دہانی کے بعد وہ احتجاج ختم کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’وفاقی وزیر محترمہ شیریں مزاری ہمارے پاس آئیں اور وزیر اعظم کی جانب سے یقین دہانیاں کروائیں، جس کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ دھرنا ختم کر دیا جائے۔‘ 

یاد رہے کہ بی وی ایم پی نے ابتدائی طور پر اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے باہر احتجاج شروع کیا تھا، جہاں روزانہ صبح نو سے شام پانچ بجے تک دھرنا دیا جاتا تھا۔ 10 روز قبل مظاہرین نے اسلام آباد کے ریڈ زون کا رخ کیا اور ڈی چوک کے عین وسط میں آ کر بیٹھ گئے، جس کے باعث وہاں سے گزرنے والی چاروں سڑکیں ٹریفک کے لیے بند ہو گئیں۔ 

خواتین اور بچوں سمیت دھرنے کے تمام شرکا نے یہ 10 روز کھلے آسمان کے نیچے گزارتے ہوئے راتوں کو اسلام آباد کی شدید سردی کا مقابلہ کیا۔ 

شیریں مزاری نے ہفتے کی صبح ڈی چوک میں دھرنے کے شرکا سے ملاقات کی اور انہیں وزیر اعظم عمران خان کا پیغام پہنچایا۔ ان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انہوں نے احتجاج کرنے والوں کو وزیر اعظم کے مندرجہ ذیل پیغامات پہنچائے: 

1۔ وہ دھرنا ختم کر دیں۔

2۔ وہ (وزیر اعظم) مظاہرین کے تین نمائندوں سے مارچ میں ملاقات کریں گے۔

3۔ مظاہرین شیریں مزاری کو اپنے لاپتہ عزیزوں کے ناموں کی فہرست دیں تاکہ (مارچ میں) ملاقات سے پہلے ان سے متعلق معلومات حاصل کر لی جائیں۔ 

نصر اللہ نے بتایا کہ وفاقی وزیر شیریں مزاری کو چار افراد کے نام دیے گئے ہیں جو مارچ میں وزیر اعظم سے ملاقات کریں گے۔ ان میں نصراللہ بلوچ، سمی بلوچ، حسیبہ کمرانی اور سمیعہ بلوچ شامل ہیں۔ 

چئیرمین بی وی ایم پی نے کہا کہ وزیر اعظم کو دھرنے میں موجود لوگوں کے 13 لاپتہ رشتہ داروں کے علاوہ 266 دوسرے لاپتہ افراد کی فہرست بھی بھیجی گئی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے جبری گمشدگی کے علاوہ قانون کے نفاذ کے متعلق بھی یقین دہانی کروائی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے سربراہ حکومت کی بات پر یقین کرنے کے علاوہ اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟ 

’ہم اور کیا کر سکتے ہیں، انہوں نے وعدہ کیا اور یقین دہانیاں کروائیں ہیں، ہم نے ان کی بات پر یقین کرنا ہی تھا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ دھرنے میں حصہ لینے والے لاپتہ افراد کے اہل خانہ ڈی چوک سے آہستہ آہستہ جانا شروع ہو گئے ہیں۔   

دوسری طرف کئی برس سے لاپتہ ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی صاحب زادی سمی بلوچ نے بھی دھرنے کے خاتمے کا اعلان کیا۔ انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا ’وزیر اعظم نے ہم سے 15 مارچ کو ملنے کا وعدہ کیا ہے اور اسی وجہ سے ہم احتجاج ختم کر رہے ہیں۔‘ 

اسلام آباد نیشنل پریس کلب سے شروع ہونے والا احتجاج بلوچستان سے لاپتہ ہونے والوں کے لیے تھا، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس میں ملک کے دوسرے حصوں سے بھی لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے حصہ لینا شروع کر دیا تھا۔ 

نصراللہ کے مطابق ابتدائی طور پر احتجاج شروع کرنے والے 13 خاندانوں میں سے 11 کا تعلق بلوچستان جبکہ ایک، ایک کا خیبر پختونخوا اور پنجاب سے تھا۔ جس دن لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے ڈی چوک میں دھرنا شروع کیا تھا، وفاقی حکومت نے انہیں وہاں سے ہٹانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم مظاہرین وزیر اعظم عمران خان سے ملے بغیر وہاں سے اٹھنے پر رضامند نہ ہوئے۔ مظاہرین سے سب سے پہلے ملنے والوں میں وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید تھے جبکہ بعد میں وفاقی وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے بھی اپنے دفتر سے باہر آکر ان سے ملاقات کی۔ 

پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے رہنماؤں نے بھی ڈی چوک کے دورے کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں سے یک جہتی کا اظہار کیا تھا۔ 

سیاسی، سماجی اور مذہبی رہنماؤں کے علاوہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد بھی ڈی چوک میں احتجاجی کیمپ آتی رہی۔ 

لاپتہ افراد کا سراغ لگانے کے لیے 2011 میں قائم کیے گئے ایک کمیشن کے مطابق ابھی تک سات ہزار افراد کے لاپتہ ہونے سے متعلق درخواستیں موصول ہوئی ہیں جن میں سے پانچ ہزار افراد واپس آ چکے ہیں۔

تاہم لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے سرگرم کارکن ان اعداد و شمار سے اتفاق نہیں کرتے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان