ٹیکساس میں برفانی طوفان سے تباہی، ریاست آفت زدہ قرار

ٹیکساس جہاں سب سے زیادہ تیل اور گیس پیدا ہوتے ہیں وہاں لاکھوں افراد کئی دن سے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں جبکہ آدھی آبادی پانی کی قلت کے مسئلے سے دوچار ہے۔

ٹکساس کے علاقے کیلین میں ہائی وے پر لگا ایک بورڈ برف میں ڈھک گیا ہے (اے ایف پی فائل)

امریکہ صدر جوبائیڈن نے  ریاست ٹیکساس کو آفت زدہ قرار دینے کی منظوری دے دی ہے جہاں گذشتہ دنوں شدید برفانی طوفان کے نتئجے میں 20 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ شہریوں کو بجلی کی بندش اور پانی کی قلت کا بھی سامنا ہے۔ 

ٹیکساس جہاں سب سے زیادہ تیل اور گیس پیدا ہوتے ہیں وہاں لاکھوں افراد کئی دن سے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں جبکہ آدھی آبادی پانی کی قلت کے مسئلے سے دوچار ہے۔

ہیرس کاؤنٹی میں منتخب ہونے والی اعلیٰ عہدے دار لینا ہڈیلگو نے جمعے کو کہا ہے کہ شدید سردی کی وجہ سے 10 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی صحیح تعداد معلوم کرنے میں وقت لگے گا۔

جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے ٹیکساس کو آفت زدہ قرار دیے جانے کے بعد متاثرہ افراد کی امداد کے لیے فنڈز دستیاب ہوں گے جن میں عارضی رہائش گاہ کے لیے مالی معاونت، گھروں کی مرمت اور سستے قرضے شامل ہیں۔

ایک ماہ پہلے صدر کا عہدہ سنبھالنے والے جوبائیڈن اپنے دور کے پہلے بحران پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت کے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے ٹیکساس کا دورہ کرنے پر غور کررہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس ریاست کے ری پبلکن گورنر گریگ ایبٹ کے ساتھ مل قریبی رابطہ رکھ کر کام کر رہا ہے۔ گورنر نے ریاست کو آفت زدہ قراردینے پر صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک اہم ابتدائی قدم ہے لیکن ریاست کی 77 کاؤنٹیز کے لیے انفرادی سطح پر امداد کی منظوری دی گئی ہے حالانکہ انہوں نے تمام 254  کاؤنٹیز کے لیے امداد کی درخواست کی تھی۔

اگرچہ ریاست کے تمام پاور پلانٹس نے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے  اور بالآخر لاکھوں افراد اپنے گھروں میں بجلی جلانے اور انہیں گرم رکھنے کے قابل ہو گئے ہیں تاہم اس کے باجود ہفتے کو 78 ہزار گھروں میں بجلی نہیں تھی۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں موسم کی شدت میں کمی آئے گی اور درجہ حرارت معمول پر آجائے گا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکام نے اپنی توجہ بجلی سے پانی کی فراہمی بحال کرنے پر مرکوز کر دی ہے۔ ٹیکساس کمیشن آن انوائرنمنٹل کوالٹی کے ترجمان گیری راسپ نے بتایا ہے کہ شہریوں کو پانی کی فراہمی کے 12 سو نظاموں میں رکاوٹ پیدا ہونے کی اطلاع دی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہفتے کو 190 کاؤنٹیز کے ایک کروڑ43 افراد متاثر ہوئے۔

ہوسٹن میں حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ زیادہ تر مکینوں کے لیے بجلی بحال کر دی گئی ہے جبکہ بڑے پیمانے پر بوتلوں میں بند پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔

عوامی عہدے دار ہڈیلگو نے جمعے کو اپنے ویڈیو خطاب میں کہا: ’صورت حال بہتر ہو رہی ہے۔ ہم معمول کے حالات کے طرف بڑھ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ آفت سے نمٹنے کے اقدامات کے بعد اب بحالی کا مرحلہ سامنے ہے۔

شدید سرد ی میں بجلی بند ہو جانے پر ٹیکساس میں 90 فیصد بجلی کی فراہمی کے ذمہ دار ادارے ٹیکساس کی الیکٹرک ریلائیبلٹی کونسل (ایرکوٹ) کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

ریاستی گورنر نے گذشتہ ہفتے ایرکوٹ پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ  بجلی کارپوریشن نے حکام کو طوفان سے پہلے بتایا کہ الیکٹرک گرڈ کو صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیار کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب جمعے کو کارپس کرسٹی کی نیوسیس کاؤنٹی کورٹ میں ایرکوٹ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا گیا ہے۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ کونسل نے کئی بار متنبہ کیے جانے کے باوجود توجہ دینے اور بجلی کی فراہمی کی نظام کی خامیاں دور کرنے میں ناکام رہی۔

ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پاسٹن نے بجلی کی فراہمی بند ہونے پر ایرکوٹ اور دوسری بجلی کمپنیوں کے خلاف چھان بین کا مطالبہ کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ