لاہور:صوبائی وزیر یاسمین راشد کی بیٹی کی تعیناتی

کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چار سپیشلائزڈ فیلڈز میں سنڈیکیٹ کی منظوری کے بعد اشتہارات کے ذریعے تقرری کی گئی۔

(ٹوئٹر)

صوبائی وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد کی بیٹی ڈاکٹر عائشہ علی کی بطور اسسٹنٹ پروفیسرتعیناتی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہو چکا ہے جس کے مطابق انہیں انیسواں سکیل دے کر ریگولر کردیاگیاہے۔

صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی بیٹی کی پنجاب کے سب سے بڑے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج میں تقرری کی خبروں کے بعد کالج کے وائس پرنسپل نے کہا ہے کہ تقرری میرٹ پر کی گئی ہے۔

کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل نے ایک بیان میں کہا ہے کہ چار سپیشلائزڈ فیلڈز میں سنڈیکیٹ کی منظوری کے بعد اشتہارات کے ذریعے تقرری کی گئی۔ ایک عہدے پر ڈاکٹر یاسمین راشد کی بیٹی ڈاکٹرعائشہ علی اور دوسرے پر ڈاکٹر زینب کی تقرری کی گئی ہے۔ دو شعبوں کے لیے آنے والے امیدوار معیار پر پورا نہیں اترسکے۔ ڈاکٹر عائشہ علی کی تقرری میرٹ پر کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ واحد امیدوار تھیں  جن کے پاس ڈبل فیلو شپ تھی۔ ڈاکٹر عائشہ گزشتہ 23 سال سے میڈیکل کی فیلڈ میں ہیں۔ برطانیہ جانے سے پہلے ساڑھے تین سال تک اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کر چکی ہیں۔ ڈاکٹر عائشہ علی گزشتہ کئی سال سےبرطانیہ کے ٹیچنگ ہسپتال میں کام کر رہی ہیں کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی میں  انہیں اسسٹنٹ پروفیسرکے عہدے پر تقرری کر دی گئی ہے۔

پنجاب کی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی صاحبزادی کو نیا شعبہ بنا کر تعینات کرنے پر سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ڈاکٹر یاسمین راشد نے اپنی بیٹی کی تعیناتی کو میرٹ کے مطابق اور قانونی قراردیا ہے جب کہ اپوزیشن اس تقرری کو اقرباپروری قرار دے رہی ہے۔

ن لیگ پنجاب کی ترجمان عظمی بخاری نے بیان دیا کہ صوبائی وزیر نے اپنی بیٹی کو اسی شعبے میں تعینات کرا دیا جس کی وہ صوبائی وزیر ہیں تو اس کو میرٹ کے مطابق کیسے کہاجا سکتا ہے، صرف یہی نہیں پنجاب میں حکومت اپنے عزیز واقارب کی مختلف عہدوں پر تقرریوں سے میرٹ کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس سے پہلے فاطمہ جناح میڈیکل کالج میں یہی نئے شعبے بنا کر ڈاکٹر عائشہ علی  کو تعینات کرنے کی کوشش بھی کی گئی تھی۔

اس معاملے پر بات کرنے کے صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد اور کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج و یونیورسٹی کے وائس چانسلرڈاکٹر خالد مسعود گوندل سے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن رابطہ نہیں ہوسکا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر یاسمین راشد اور پی ٹی آئی رہنماؤں کی جانب سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی جانب سےان کی بیٹی مریم نواز کومیڈیکل کالج میں میرٹ کے خلاف داخلہ دلانے پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان