پاکستان بھارت ایل او سی جنگ بندی پر اتفاق: امریکہ کا خیرمقدم

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے ایک نیوز بریفنگ میں اس اہم پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’یہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کی سمت ایک مثبت اقدام ہے جو ہم سب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔‘

(اے ایف پی)

امریکہ نے پاکستان اور بھارت کے اس مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا ہے جس میں دونوں جوہری طاقتوں نے کشمیر کی متنازع سرحد یا لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین ساکی نے ایک نیوز بریفنگ میں اس اہم پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: ’یہ جنوبی ایشیا میں زیادہ سے زیادہ امن اور استحکام کی سمت ایک مثبت اقدام ہے جو ہم سب کے مشترکہ مفاد میں ہے۔ ہم دونوں ممالک کو اس پیشرفت پر قائم رہنے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔‘

اس سے قبل جمعرات کو پاکستان فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا تھا کہ پاکستان اور بھارت کی افواج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان رابطے میں اتفاق ہوا ہے کہ 2003 کے موجودہ اتفاق رائے (انڈسٹینڈنگ) کو من و عن نافذ کیا جائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ اس ’اتفاق رائے کو پائیدار بنانے کے لیے دونوں اطراف متفق ہیں اور اس پر عمل پیرا ہونے کا اعادہ کیا ہے۔‘

ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل بابر افتخار نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں بتایا کہ 1987 سے پاکستان اور بھارت کے ڈی جی ملٹری آپریشنز کے درمیان ہاٹ لائن رابطہ ہے اور دونوں اطراف کے ڈی جی اس میکنزم کے ذریعے رابطہ کرتے رہتے ہیں۔

میڈیا تحقیق کے مطابق منظر عام پر آنے والا آخری رابطہ اگست 2018 میں ہوا تھا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 2003 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اتفاق ہوا تھا جس کے بعد لائن آف کنٹرول پر سیزفائر کافی موثر رہا تھا تاہم 2014 سے اس (خلاف ورزیوں) میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ 2003 کے بعد سے اب تک 13500 سے زائد سیزفائر خلاف ورزیاں ہوئیں جس میں 310 شہری جان سے گئے اور 1600 کے قریب زخمی ہوئے مگر 2003 سے 2013 کا تقابلی جائزہ 2014 سے اب تک کیا جائے تو بہت فرق ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق 92 فیصد خلاف ورزیاں 2014 سے 2021 کے درمیان ہوئی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ