وکلا کا فٹ بال گراؤنڈ پر کوئی حق دعویٰ نہیں: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ آف پاکستان نے اسلام آباد میں وکلا کے غیر قانونی چیمبرز  گرانے کا حکم دے دیا، عدالت نے متبادل جگہ کی استدعا بھی مسترد کر دی۔ 

(انڈپینڈنٹ اردو)

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے وکلا کے چیمبر گرائے جانے سے متعلق  اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت منگل کو کی۔ 

سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے وکلا کے وکیل سے دریافت کیا کہ غیر قانونی چیمبرز کس بنیاد پر برقرار رہنا چاہیں؟ انہوں نے کہا کہ وکلا کا فٹ بال گراؤنڈ پر کوئی حق دعویٰ نہیں، جس نے پریکٹس کرنا ہے دفتر کہیں اور بنا لے۔ 

وکلا کے وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ فٹ بال گراؤنڈ پر کئی عدالتیں بھی موجود ہیں، جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ گراونڈ پر موجود عدالتوں کو بھی مسمار کردیا جانا چاہیے، کیونکہ کسی غیر قانونی کام کو جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا۔   

چیف جسٹس کی جانب سے دو ماہ میں فٹ بال گراونڈ پر سے چیمبرز ہٹا دیے جانے کی پیشکش پر درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ہائی کورٹ نئی بلڈنگ میں منتقل ہونے تک کا وقت دیا جائے۔  

چیف جسٹس نے وکلا کی متبادل جگہ ملنے تک مہلت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اتنا طویل وقت نہیں دے سکتے، اور اپیل مسترد کر دی۔ 

عدالت نے فیصلہ میں کہا کہ وکلا فوری طور پر فٹ بال گراؤنڈ خالی کریں اور تمام غیر قانونی چیمبرز کو مسمار کیا جائے۔   

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یاد رہے کہ 27 فروری کو سپریم کورٹ نے کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کو فٹ بال گراؤنڈ، گرین بیلٹس اور فٹ پاتھوں پر بنے وکلا کے غیر قانونی چیمبرز گرانے سے روک دیا تھا۔ 

سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے وکلا کے چیمبرز غیرقانونی قرار دینے کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد بار ایسوسی ایشن نے اپیل دائر کی تھی۔ درخواست کی سماعت کے دوران علاوہ ازیں پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن، پنجاب بار کونسل، اسلام آباد بار کونسل، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن اور اسلام آباد بار ایسوسی ایشن کے نمائندگان عدالت میں پیش ہوئے۔ 

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے فٹ بال گراؤنڈ تجاوزات کیس میں وکلا کو 28 فروری تک رضاکارانہ طور پر زمین خالی کرنے کا کہتے ہوئے سی ڈی اے کو کھیل کے میدان کی زمین واپس لینے اور 23 مارچ کو وہاں انٹر کالجز فٹ بال میچ منعقد کروانے کی ہدایت کی تھی۔ 

یاد رہے کہ کیپیٹل ڈیویلیپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے گزشتہ ماہ بھی ایف ایٹ کچہری میں قائم وکلا کے چیمبرز کو مسمار کرنے کے لیے آپریشن کیا گیا تھا ۔ اس دوران وکیلوں کی جانب سے مزاحمت کے باعث سی ڈی اے کا تجاوازت کے خلاف آپریشن مکمل نہ ہوسکا۔ بعد ازاں وکلا نے تھانہ مارگلہ کے سامنے بھی احتجاج کیا تھا۔ 

سات فروری کی رات سی ڈی اے کی جانب سے ایک بار پھر ضلع کچہری میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کیا گیا اور چند چیمبرز مسمار کیے گئے۔ آپریشن کے دوران بھی سی ڈی اے کو وکلا کی جانب سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ جس کے بعد پیر کو وکلا کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاج اور مظاہرے کیے گئے تھے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان