ریپسٹ کو شادی کا مشورہ، بھارتی چیف جسٹس سے استعفے کا مطالبہ

ریپ سے متاثرہ لڑکی کے حوالے سے متنازع بیان دینے پر بھارت کے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے نے ریپ کے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے مجرم سے کہا تھا کہ اگر وہ متاثرہ سکول کی طالبہ سے شادی کر لیں تو وہ سزا سے بچ سکتے ہیں (تصویر: بشکریہ پریس ٹرسٹ آف انڈیا)

بھارت کے چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے کی جانب سے ریپ سے متاثرہ لڑکی کے حوالے سے متنازع بیان دینے پر ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے۔

چیف جسٹس شرد اروند بوبڈے نے ریپ کے ایک مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے مجرم سے کہا تھا کہ اگر وہ متاثرہ سکول کی طالبہ سے شادی کر لیں تو وہ سزا سے بچ سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چیف جسٹس کا کہنا تھا: ’اگر آپ اس (ریپ کا شکار بننے والی لڑکی) سے شادی کرنا چاہتے ہیں تو ہم آپ کی مدد کرسکتے ہیں۔ اگر آپ ایسا نہیں کرتے تو آپ کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونے اور جیل کی ہوا کھانی پڑے گی۔‘

بھارتی چیف جسٹس کے اس بیان کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور ہزاروں افراد ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس کے خلاف مہم چلانے والی وانی سبرامنیم نے کہا کہ جسٹس بوبڈے کے بیان نے ایک ہنگامہ کھڑا کردیا ہے اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں نے ان کے استعفے کے لیے ایک کھلا خط بھیجا ہے، جس پر پانچ ہزار سے زیادہ افراد دستخط کر چکے ہیں۔

خط کے مطابق ملزم نے لڑکی کو پیٹرول چھڑک کر زندہ جلانے اور ان کے بھائی کو قتل کرنے کی دھمکیوں کے علاوہ ان پر تشدد کیا اور انہیں باندھ کر متعدد بار ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔

مراسلے میں کہا گیا: ’یہ تجویز کرکے کہ ریپسٹ کو متاثرہ لڑکی سے شادی کر لینی چاہیے، چیف جسٹس آف انڈیا چاہتے ہیں کہ متاثرہ لڑکی تاحیات زیادتی کرنے والے شخص کے ساتھ اپنی زندگی گزارے جب کہ اس زیادتی کے بعد وہ خودکشی کی کوشش کر چکی ہے۔‘

2012  میں دارالحکومت نئی دہلی میں ایک بس میں سوار طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی اور اس کے قتل کے بعد سے جنسی تشدد کے حوالے سے بھارت کا غیر معمولی ریکارڈ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بھارت میں اب بھی پولیس اور عدالتوں کے ذریعے متاثرین کو ہی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے، جہاں انہیں نام نہاد سمجھوتے پر مجبور کیا جاتا ہے اور مسٔلہ حل کرنے کے لیے ریپ کرنے والوں کو متاثرہ لڑکیوں سے شادی کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

اس خط میں پیر کو ہونے والی ایک اور سماعت کی طرف بھی توجہ مبذول کروائی گئی جس کے دوران جسٹس بوبڈے نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا شادی شدہ جوڑے کے مابین جنسی تعلقات کو کبھی بھی ریپ سمجھا جاسکتا ہے۔

انہوں نے کہا تھا: ’شوہر ایک ظلم پسند شخص ہوسکتا ہے لیکن کیا آپ قانونی طور پر شادی شدہ مرد اور بیوی کے مابین جنسی عمل کو بھی ریپ کہہ سکتے ہیں؟‘

مہم چلانے والوں نے کہا کہ ’یہ تبصرہ نہ صرف شوہر کی جانب سے کیے گئے کسی بھی طرح کے جنسی، جسمانی اور ذہنی تشدد کو جائز قرار دیتا ہے بلکہ اس سے قانون کی مدد سے محروم خواتین کو درپیش تشدد کو بھی ایک معمول سمجھا جا سکتا ہے جو شادی کے بعد سالوں سے تشدد کا سامنا کرتی ہیں۔

بھارت میں اب بھی شادی شدہ مرد کا بیوی سے ریپ جرم تصور نہیں کیا جاتا۔

جسٹس بوبڈے نے اس تنقید کا جواب نہیں دیا ہے۔ اس سے قبل ان کے پیشرو جسٹس رنجن گوگوئی کو بھی عملے کی ایک سابقہ رکن کی جانب سے جنسی زیادتی کے الزام کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

انہیں 2019 میں انکوائری کے بعد کلیئر کردیا گیا تھا، تاہم ان کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا سلسلہ پھوٹ پڑا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا