ہم پر الزام بےوفائی ہے

بھارت کے سیاسی اور پالیسی ساز اداروں میں اکثر کشمیری قیادت تنقید کا نشانہ بنتی ہے کہ اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے مگر بھارت کی قیادت یہ بات بخوبی جانتی ہے وہ چاہے کانگریس ہو یا بی جے پی، اصل میں وہ کشمیریوں کے پیٹھ میں چھرا گھونپتی رہی ہے۔

سری نگر کی جامعہ مسجد کے اندر گذشتہ ہفتے ایک کشیمری 20 ماہ سے نظربند رہنما میروعظعمر  فاروق کی رہائی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں (اے ایف پی)

یہ تحریر آپ یہاں مصنفہ کی آواز میں سن بھی سکتے ہیں

 


جموں وکشمیر کی متنازعہ حیثیت کی جب بھی اور جہاں بھی بات ہوتی ہے تو ہر کوئی اس تنازعے کو اپنے پیرائے میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

ظاہر ہے کہ بھارت اور پاکستان اپنی قومی پالیسیوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر اس تنازعے کو پیش کرتے ہیں لیکن افسوس ان بعض کشمیریوں پر ہے جو حقیقت سے کوسوں دور اور رٹے ہوئے جملے دہرا کر یا خود کو یا کشمیری قیادت کو خطاوار ٹھراتے ہیں، وہ چاہے مین سٹریم سے ہوں یا آزادی پسند ہوں۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا کشمیریوں کو اپنا موقف بیان کرنے کا موقع دیا گیا؟ اگر یہ موقع ملا تو کب اور کس نے دیا؟

انہیں ہر دور میں، ہر مقام پر اور ہر موڑ پر حالات سے سمجھوتہ کرنا پڑا۔ اس جدوجہد میں بعض نامور شخصیات اپنی زندگی سے ہی ہاتھ دھو بیٹھے۔

سن سنتالیس کے بعد جب بھارت نے مہاراجہ ہری سنگھ سے الحاق کے دستاویز پر دستخط کروا کے انہیں بعد میں ریاست بدر کر دیا تو شیخ عبداللہ سمیت ہر کسی رہنما نے حالات سے سمجھوتہ کرنے کی کوشش کی مگر بھارت نے ہر بار ہر ایک لیڈر کے ساتھ انتہائی بددیانتی کی۔

یہ صیح ہے کہ موجودہ حالات کا ذمہ دار منقسم کشمیری قیادت ہے مگر اس مسئلے پر بات کرنے سے پہلے حقیقی حالات کا احاطہ کرنا بھی لازمی ہے اور اپنی قیادت پر الزام تراشی کی بجائے ان کے حالات پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔

مہاراجہ ہری سنگھ کے صاحب زادے اور جموں و کشمیر کے سابق صدر ریاست ڈاکٹر کرن سنگھ بار بار یہ کہتے آ رہے ہیں اور چند روز پہلے بھی ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کے والد برصغیر کے بٹوارے کے بعد ریاست کو آزاد مملکت کے طور پر رکھنا چاہتے تھے لیکن کشمیر کے مقبول ترین رہنما شیخ عبداللہ نہرو کے ساتھ مل کر الحاق بھارت کا ارادہ ظاہر کر چکے تھے۔ ڈاکٹر کرن سنگھ سے پوچھنا چاہیے کہ مہاراجہ نے کیا اس کا اظہار شیخ عبداللہ سے کیا تھا یا بھارت کی لیڈرشپ نے جس میں نہرو آزاد اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن پیش پیش تھے الحاق سے قبل شیخ عبداللہ کو مہاراجہ سے ملاقات کرنے سے روکا نہیں تھا؟

شیخ عبداللہ کو خود مہاراجہ نے جیل میں بند کر رکھا تھا اور ابھی ریاست کا سارا کنٹرول مہاراجہ کے اختیار میں تھا۔ وہ شیخ عبداللہ کو رہا کر کے ریاست کے مستقبل پر ان سے بات کر سکتے تھے مگر شیخ کو نہرو کے کہنے پر ہی اس وقت رہائی ملی جب بھارت نے مہاراجہ سے دستاویز الحاق پر دستخط حاصل کر لیے تھے بلکہ مہاراجہ سے الحاق پر دستخط کروانے کے بعد ہی شیخ عبداللہ پر اس کو قبول کرنے پر دباؤ ڈالا گیا تھا اور مہاراجہ کو اپنے کاروان کے ساتھ جموں کی جانب روانہ کر دیا گیا تھا۔

گو کہ شیخ عبداللہ نہرو کی دوستی کی مایا جال میں بری طرح پھنس گئے تھے اور جناح کے مقابلے میں نہرو کے دامن کو دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود شیخ عبداللہ چند شرائط کے تحت بھارت کے ساتھ الحاق کے حامی تھے۔ اس کا ذکر انہوں نے اپنی سوانح حیات ’آتش چنار‘ میں بھی کیا ہے۔ الحاق کے باوجود وہ حق خودارادیت کا نعرہ دینے سے شملہ معاہدے تک باز نہیں آئے تھے۔

نہرو نے ایک طرف شیخ عبداللہ کو الحاق کی حمایت پر مجبور کر دیا دوسری جانب لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے کہنے پر خود اقوام متحدہ پہنچ گئے۔

مہاراجہ سے دستخط لینے کے فورا بعد جموں و کشمیر میں بھارتی فوج اتاری گئی جس کا وعدہ لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ سے کیا تھا۔ اس کی وجہ پاکستانی قبائلی کی سری نگر سے چند کلو میٹر دوری پر مورچہ بندی تھی جس کے پیش نظر مہاراجہ نے بھارت سے عارضی فوجی امداد کی اپیل کی تھی۔

بھارتی قیادت نے پھر ایک اور ڈراما رچایا۔ ایک تو الحاق بھارت کا سپہ سالار شیخ عبداللہ کو قرار دے دیا جو شیخ کے لیے دو دھاری تلوار ثابت ہوئی۔ وہ اپنی قوم کا اعتبار کھو بیٹھے۔ دوسرا چند برسوں کے بعد ہی اقتدار سے ہٹا کر ان کی شرائط کو جو انہوں نے کافی جدوجہد کے بعد آرٹیکل 370 کی شکل میں حاصل کی تھیں زمین برد کرنا شروع کر دیا جس کے لیے بخشی غلام محمد کو تیار رکھا گیا تھا۔

غلام محمد صادق نے بخشی کی رہی سہی کسر پوری کر کے خصوصی پوزیشن کو اندر سے بالکل کھوکھلا بنا دیا جب کہ میر قاسم تک یہ آرٹیکل صرف کاغذ کا پرزہ رہ گیا تھا جس کو بھارتی آئین سے نکالنے کا سہرا مودی نے اب اپنے سر پر باندھا ہے۔

بھارت کے سیاسی اور پالیسی ساز اداروں میں اکثر کشمیری قیادت تنقید کا نشانہ بنتی ہے کہ اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے مگر بھارت کی قیادت یہ بات بخوبی جانتی ہے وہ چاہے کانگریس ہو یا بی جے پی، اصل میں وہ کشمیریوں کے پیٹھ میں چھرا گھونپتی رہی ہے اور کشمیر پر جبری کنٹرول کی اپنی پالیسی پر گامزن رہی ہے۔

کشمیریوں نے بار بار بھارت پر اعتبار کیا مگر بھارتی لیڈرشپ نے کشمیر کے کسی ایک بھی رہنما پر کبھی بھروسہ نہیں کیا جس میں بقول شیخ عبداللہ (آتش چنار) بعض کشمیری پنڈتوں کا خاصا کردار رہا ہے۔

بھارت نے بخشی غلام محمد کے ہاتھوں شیخ عبداللہ کو سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کے لیے ۹اگست 1953 کا ڈراما رچایا جس میں ڈاکٹر کرن سنگھ خود کو بری نہیں کرسکتے۔ پھر بھارت کی اسی قیادت نے بخشی کو اسی جیل میں پہنچا دیا جہاں شیخ عبداللہ کو کئی برسوں تک قید رکھا گیا تھا۔

حریت کے معزز رہنما سید علی شاہ گیلانی تین بار بھارتی آئین کے تحت جموں و کشمیر کی اسمبلی کے رکن بنے ہیں۔ ایک طرح سے یہ بھی حالات سے سمجھوتہ تھا کہ وہ ریاست کی مین سٹریم میں شامل ہوگئے تھے پھر اسی بھارتی لیڈرشپ کی سیاسی شطرنج بازی نے انہیں مسلح تحریک کی حمایت کرنے اور حریت تشکیل دینے پر مجبور کر دیا۔ جو اب پچھلے دس برسوں سے قید یا نظر بندی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

حریت کے ایک اور کشمیری رہنما عبدل غنی لون، میر قاسم کے دور اقتدار میں وزیر تعلیم اور صحت رہے ہیں جو کانگریس کے رکن کی حیثیت سے انتخابات میں شامل ہوئے تھے۔ وہ بھارت کی سرکردہ قیادت کے حلیف مانے جاتے تھے۔ لیکن حالات نے انہیں بھی مسلح تحریک میں کود کر حریت کا حصہ بنے پر مجبور کر دیا۔ اس کے باوجود انہیں بھارت نواز رہنما تصور کیا جاتا رہا ہے۔ عبدل غنی لون کو نامعلوم شخص کی گولی کا شکار ہونا پڑا اور آج تک ان کی اور مولوی فاروق کی ہلاکت ایک معمہ بنا ہوا ہے۔

میر واعظ کشمیر مولوی عمر فاروق کے والد، مولوی فاروق نے بھارتی وزیر اعظم مرارجی ڈیسائی کی میر واعظ منزل میں دستار بندی کروا دی تھی جس سے بھارت میں رہ کر ہم آہنگی پیدا کرنے کا ایک پیغام دیا گیا تھا مگر پھر بھی بھارت نے ان پر اعتبار نہیں کیا بلکہ وہ بھی نامعلوم کی گولی سے اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

مفتی محمد سید نے جموں و کشمیر میں کانگریس کی جڑیں مضبوط کرنے میں کیا نہیں برداشت کیا بلکہ ان کی مخالفت میں کشمیریوں نے یہ نعرہ بھی ایجاد کیا تھا کہ ’مفتین قبر کشیرہ نیبر‘ یعنی مفتی کی قبر کشمیر سے باہر ہوگی۔ پھر کانگریس نے انہیں دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر پھینکا جس کے بعد وہ ریاستی سیاست میں پی ڈی پی کی شکل میں نمودار ہوگئے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حالت اب یہ بنا دی گئی ہے کہ بھارت کے سابق وزیر داخلہ کی بیٹی اور سابق وزیر اعلی محبوبہ مفتی پر دیش مخالف سرگرمیوں کے الزامات عائد ہو رہے ہیں بلکہ اگر مفتی سید زندہ ہوتے تو انہیں بھی مودی نے شاید یاسین ملک کے ساتھ تہاڑ جیل میں بند کیا ہوتا۔

حالیہ مثال اب غلام بنی آزاد کی ہے جو زندگی بھر کانگریس کا پاٹھ پڑتے رہے ہیں۔ بی جے پی کی لہر کے بعد انہیں اکثر بھارت کی ریاستوں میں انتخابی مہم میں شامل ہونے سے روکا گیا کیونکہ ہندوتوا کی وجہ سے کانگریس مسلمان رہنماؤں کو میدان میں اتار کر کوئی رسک نہیں لینا چاہتی تھی۔ مودی نے پارلیمان میں ان کے لیے ٹسوے تو بہائے لیکن کشمیری ہونے کے واسطے وہ ہمیشہ شکوک کے رڈار پر رہیں گے۔

کشمیریوں نے، وہ چاہیے مین سٹریم ہو یا آزادی پسند، سب نے کسی مرحلے پر بھارت پر بھروسہ کیا اور سمجھوتہ کرنے کی کوشش بھی کی۔ ان میں یاسین ملک، صلاح الدین اور دیگر سینکڑوں رہنما بھی شامل ہیں جنہوں نے 1987 کے ریاستی انتخابات میں مسلم متحدہ محاذ کے بینر تلے انتخابی عمل میں کودنے کی ہمت بھی کی لیکن ہر کوئی بری طرح پٹ گیا، رسوا ہوا اور ہار گیا۔ ظاہر ہے بھارت کی لیڈرشپ کشمیر میں قیام امن کی کبھی متمنی نہیں رہی ہے اور وہ سامراجی طاقت کے مانند کشمیر پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتی ہے۔

بھارت کو کشمیری عوام یا اس کی قیادت سے کبھی کوئی سروکار نہیں تھا بلکہ اس کی نظر کشمیر کی زمین، دریا، پہاڑ اور قدرتی وسائل پر رہی ہے جو اب 5 اگست 2019 کے صدارتی فرمان سے ثابت ہوا ہے۔

لہذا عالمی سطح پر بھارت کی یہ دلیل پیش کرنا صحیح نہیں ہے کہ کشمیری دہشت گرد ہے اور اسلامی تحریک چلا کر اسلامی مملکت بنانے کی مسلح تحریک چلاتے رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں نے بار بار بھارت کے ساتھ سمجھوتہ کر کے دھوکہ کھایا اور انہیں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لیے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کر دیا گیا۔

اس سارے پس منظر میں پاکستان کے کردار پر بھی بات کرنا لازمی ہے۔ اس پر اگلے کالم میں ضرور بات کروں گی۔

تاریخ کے ان واقعات کو بنیاد بنا کر عالمی اداروں کوسمجھانا ضروری ہے کہ بھارت نے کشمیری قوم کے لیے ایسے حالات پیدا کیے کہ نہ تو اس نے اس قوم کو قبول کیا اور نہ اسے آزاد رہنے کا اختیار دے دیا بلکہ سات دہایوں سے فوج کے نرغے میں رکھ کر ان کے زندہ رہنے کے بنیادی حقوق تک ہتھیا لیے گئے۔

کشمیری قوم پر فرض ہے کہ اپنے لیڈروں اور مختلف نظریات رکھنے والے افراد پر تنقید کرنے کے بجائے متحد ہو جائیں۔ ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے کر اپنے حقوق کی پرامن جدوجہد جاری رکھیں اور عالمی برادری کے سامنے تاریخی حقائق پیش کر کے اس کی حمایت حاصل کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ