بنوں: 'لاشوں میں سانس پھونکنے کا مطالبہ تو نہیں، امن چاہتے ہیں'

دھرنا منتظمین کے رکن لطیف وزیر کے مطابق ڈاکٹروں سے مشورے کے بعد مقتول نوجوانوں کی لاشیں پہلے تابوتوں میں رکھی گئیں اور بعد ازاں ایک خاص قسم کا پلاسٹک ان پر چڑھا دیا گیا تاکہ لاشوں سے کسی قسم کی بو باہر نہ آئے۔

(تصاویر: اظہار اللہ)

بنوں میں چار نوجوانوں کے قتل کے خلاف سات دنوں سے جاری دھرنے کے منتظمین نےعلاقے کے دیگر قبائلیوں کے ساتھ مل کر اسلام آباد تک لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

دھرنا منتظمین نے یہ فیصلہ ہفتے کو حکومتی نمائندگی میں بنائی گئی علما کمیٹی کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ وہ کل (اتوار کو) لاشوں سمیت اسلام آباد تک لانگ مارچ کا آغاز کریں گے۔

یہ دھرنا بنوں سے تعلق رکھنے والے 13 سے 18 سال کی عمر کے درمیان چار دوستوں کے قتل کے خلاف ہو رہا ہے جو تقریباً ایک مہینہ پہلے شکار پر جانے کے بعد سے لاپتہ ہوگئے تھے اور سات دن پہلے ان کی مسخ شدہ لاشیں  ندی کے کنارے ایک گڑھے سےبرآمدہوئی تھیں۔

لاشیں برآمد ہونے کے بعد علاقہ مکینوں نے جانی خیل میں لاشوں کے ساتھ دھرنے کا آغاز کیا تھا جو تاحال جاری ہے۔ دھرنا منتظمین کی حکومتی نمائندوں کے ساتھ کئی ملاقاتیں ہوئیں لیکن ابھی تک ان کے مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے۔ آج ہفتے کو حکومتی نمائندگی کرتے ہوئے علما کے ایک وفد نے دھرنا منتظمین کے ساتھ ملاقات کی لیکن یہ بھی یہ سود ثابت ہوئی۔

دھرنا منتظمین میں شامل لطیف وزیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’حکومت کی جانب سے بنائی گئی علما پر مشتمل ٹیم نے ہم سے ملاقات کی تاکہ مذکرات کر کے دھرنے کو ختم کیا جائے لیکن حکومت نے ہمارے مطالبات ابھی تک نہیں مانے ہیں۔‘

انہوں نے کہا: ’ہمارا ایک ہی دیرینہ مطالبہ ہے کہ علاقے میں امن و امان کو بحال کیا جائے۔ حکومت نے امن و امان کے قیام کے لیے جو پلان بنایا تھا وہ نافذ العمل نہیں ہے۔'

لطیف نے بتایا ’علما  کے نمائندہ وفد نے ہمیں حکومتی پلان کے بارے میں بتایا کہ حکومت چاہتی ہے کہ علاقے کے لوگ شدت پسندوں کی نشاندہی کریں تاہم ہم نے انہیں بتایا کہ یہ کام ہمارا نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن و امان خراب کرنے کو والوں کو انصاف کے کہڑے میں لائیں۔‘

دھرنا منتظمین کا ایک اور مطالبہ قتل ہونے والوں نوجوانوں کو شہدا پیکج دینا بھی ہے جو حکومت نے تسلیم کر لیا ہے جب کہ علاقے میں تعینات سیکورٹی اداروں کے کچھ آفسران کے خلاف مقدمہ درج کرنا بھی دھرنا منتظمین کے مطالبات میں شامل ہے لیکن اس مطالبے کو ابھی تک نہیں مانا گیا۔

لطیف وزیر کے بقول: ’ہمارے مطالبے بالکل جائز ہیں اور ہمارے مستقبل کے لیے اہم بھی ہیں تاکہ ہمیں دوبارہ اس طرح مزید نوجوانوں کی لاشیں نہ اٹھانی پڑیں۔‘

’ہم حکومت سے یہ تو نہیں کہہ رہے کہ ان لاشوں میں سانس پھونک کر اس کو دوبارہ زندہ کر دیں بلکہ ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ہمیں اس طرح مزید لاشیں نہیں چاہتے اور نہ ہم اس کو مزید برداشت کر سکتے ہیں۔'

لطیف نے بتایا کہ ’مقتول نوجوانوں کے لواحقین کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ ان کے پیارے تو چلے گئے لیکن مزید اس علاقے میں اس طرح کے واقعات کے روک تھام کو یقینی بنایا جائے تاکہ اور کسی کی گود نہ اجڑ جائے۔‘

قتل ہونے والے نوجوانوں میں عاکف اللہ کے والد زرولی نے گزشتہ دن انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ وہ صرف حکومت سے یہ چاہتے ہیں کہ علاقے میں امن قائم کیا جائے۔

حکومت کا موقف کیا ہے؟

تین  دن پہلے وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا نے ایک بیان میں بنوں واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت اس واقعے کے حوالے سے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس واقعے کی اعلٰی سطح پر تحقیقات کی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

صوبائی حکومت کے ترجمان کامران خان بنگش نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہم اس مسئلے کو دیکھ رہے ہیں اور حکومت کی نمائندگی میں وزیر ٹرانسپورٹ شاد محمد خان دھرنا منتظمین کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

کامران بنگش نے بتایا کہ حکومت نے دھرنا منتظمین کے سارے جائز مطالبات مان لیے ہیں لیکن  کچھ عناصر اب ان لاشوں کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ’ہم نے علما کا ایک وفد دھرنا منتظمین کے ساتھ بات چیت کے لیے بھیجا تھا تاکہ قبائلی روایات کے مطابق وہ ان سے ملیں اور اس مسئلے کا حل نکالیں اور ہمیں امید ہے کہ اس کا کوئی حل ضرور نکل آئے گا۔'

علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے مطالبے کے حوالے سے کامران بنگش نے بتایا کہ ہم نے علاقے کو لوگوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ علاقے میں امن کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

لاشوں کو مزید خراب ہونے سے کیسے بچایا گیا ہے؟

قتل کیے گئے ان چار نوجوانوں کی مسخ شدہ لاشیں سات دن پہلے جببرآمدکی گئی تھیں تو ان کی حالت پہلے سے ہی خراب تھی۔

لطیف وزیر نے بتایا کہ ہم نے پھر ڈاکٹروں سے مشورہ کر کے ان لاشوں کو پہلے تابوتوں میں رکھا اور اس کے بعد ایک خاص قسم کی پلاسٹک ان کے اوپر چڑھا دی تاکہ لاشوں سے کسی قسم کی بو باہر نہ آئے۔

انہوں نے بتایا: ’ابھی کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ لاشیں بالکل محفوظ ہیں اور ڈاکٹروں نے جو طریقہ بتایا تھا اسی پر ہم نے عمل کیا ہے اور ڈاکٹروں کے مطابق اگر انہیں اب مہینوں تک بھی رکھ دیا جائے تو یہ مزید خراب نہیں ہوں گی۔'

لطیف وزیر نے یہ بھی بتایا کہ علما کے وفد میں شامل ممبران نے ہمیں بتایا کہ اس طرح لاشوں کو نہ دفنانا شرعی طور پر ٹھیک نہیں ہے لیکن ہم نے ان سے درخواست کی کہ ہو سکتا ہے کہ ایسا کرنا شرعی طور پر ٹھیک نہ ہو لیکن ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ بھی شرعی طور پر ٹھیک نہیں ہوا اس لیے ہم اب چاہتے ہیں کہ مقتولین کو انصاف مل جائے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان