ڈاکو ہو مگر اناڑی نہ ہو

چند ماہ میں تواتر سے میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ کراچی میں آہستہ آہستہ بھتہ خور مافیا سر اٹھا رہا ہے۔

کراچی میں 15 مارچ 2021 کو رینجرز کی گاڑی پر حملہ بھی ہوا (اے ایف پی)

 

یہ تحریر آپ مصنفہ کی آواز میں یہاں سن بھی سکتے ہیں


’ایک تو میں سچ بتا را ہوں اوپر سے ہنسے جاری ہو۔ دیکھ بھائی مرنا تو ہے پھر قاتل سے یہ کیوں نہ کہیں کہ پہلے چھری تیز کر لے۔‘

جٹ لائن کراچی کے شمیم بھائی مزے لے لے کر خود پہ بیتی ڈکیتی کی تازہ واردات کا احوال سنا رہے تھے۔ پہلے ایک معروف چینل میں ڈرائیور تھے۔ ان دنوں فوٹو کاپی کی دکان پہ بیٹھتے ہیں۔ فون میں نے یوں کیا تھا کہ ڈکیتی کی واردات میں ان کی موٹر سائیکل چھن جانے پر اظہار تعزیت کر لوں گی مگر دیوان کھل گیا۔

جیسے مچھروں کے لیے مشہور ہے کہ وہ پہلے ہلکا خون سونگھتا ہے پھر ہی بازو پہ بیٹھتا ہے، ایسے ہی شمیم بھائی کا ہلکا خون بھی ڈاکو دور سے سونگھ اور تاڑ لیتے ہیں۔ سڑک پہ اور بھی دس راہ گیر ہوتے ہوں گے مگر ڈاکووں کی نظر انتخاب بھی غضب کی ہے انہی پہ جا کر رکتی ہے۔

یہ کراچی کی سڑکوں پہ دندناتے ڈاکووں کے ہاتھوں اب تک دو بار نیم مشہور واجبی مالیت کے موبائل فونز، ایک بار تھوڑے بہت پیسوں سمیت پرس، ایک بار اہلیہ کے ہاتھ سے انگوٹھی اور پرس اور ابھی حال ہی میں اپنی ون ٹو فائیو بائیک گنوا چکے ہیں۔ پیشے سے ڈرائیور رہے ہیں وہ بھی ان دنوں میں جب کراچی میں روز ہی یوم سیاہ ہوا کرتا تھا۔ اس لیے درجنوں بار کراچی والے بیچاروں کو سر راہ لٹتے پٹتے گرتے پڑتے دیکھ چکے ہیں۔

شمیم بھائی کئی بار ڈاکوؤں کا نشانہ بننے کے باوجود پولیس کے پاس جانے کے قائل نہیں۔

میں نے بھی بڑا زور دیا کہ پچھلی وارداتوں میں تو سستے موبائل گئے تھے، اب تو بائیک گئی ہے کم از کم پولیس کو رپورٹ تو کرا دیں۔ کہنے لگے کہ ’پاغل تھوڑی ہوں۔‘

تو بات ہو رہی تھی شمیم بھائی کی خواہش کی۔ ان کے مطابق تجربہ کار ڈاکو بہت اعتماد سے لوٹ مار کرتے ہیں کیونکہ انہیں کراچی کی سڑکوں اور قانون سے بچ نکلنے کے سارے راستے پتہ ہوتے ہیں۔ یہاں تک بہت سے دوستوں نے تو ڈاکوؤں سے درخواست کرکے اپنے چھینے ہوئے موبائل سے سم واپس مانگی یا پرس سے شناختی کارڈ مانگا تو بڑے آرام سے مل گیا۔ مگر حال ہی میں ان کا سامنا کچے چوروں سے ہوگیا۔

بھائی شمیم بتا رہے تھے کہ شاہراہ فیصل کی ذیلی سڑک پہ ان کی بائیک چھننے والے لڑکے اناڑی تھے۔ ٹی ٹی پستول دکھا کر بائیک سے اترنے کا اشارہ کیا، یہ ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہوگئے ایک ڈکیت لڑکے نے بائیک لی اور تیزی سے بھگانے کے چکر میں تھوڑی دور بائیک سمیت جا گرا۔ یہ بیچارے بہتیری صدائیں لگاتے رہے کہ بھائی بائیک لے لو نادرا کا شناختی کارڈ اور ڈرائیونگ لائسنس واپس کر دو، ڈاکو ہڑبڑائے ہوئے تھے، بھاگ نکلے۔

شمیم بھائی اب تک افسوس میں ہیں کہ انہیں ڈاکو بھی صحیح نہیں ملا۔ اسی تاصف بھرے لہجے میں کہنے لگے ’یونیورسٹی جانے والی عمر تو تھی ان کی، مر رہے ہوں گے بھوکے۔ لوٹ مار کے کام میں نئے لگتے تھے، کمبختوں کی سانس پھول رہی تھی، ہاتھ میں ٹی ٹی تھی پھر بھی ہاتھ کانپ رہے تھے۔‘

ہمارے دوست مسعود مرزا پکے کراچی والے ہیں ہر دوسرے تیسرے کراچی وال کی طرح انہوں نے بھی دو ڈھائی کروڑ کی آبادی میں ہونے والے جرائم اور جرائم پیشہ افراد کی نفسیات پر خود ساختہ پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

مسعود کے پاس سنانے کو ایسی کئی سروائیول سٹوریز ہیں جن میں کراچی والوں نے مزاحمت کی اور ڈاکو پکڑ لیا مگر مسعود بھی مانتے ہیں کہ حال میں ابھرنے والے نئے ڈکیت اور جرائم پیشہ افراد مزاحمت پر گولیاں چلانے میں دیر نہیں کرتے اس لیے ہیرو بننے کی چنداں ضرورت نہیں۔ بلکہ اب ایسی بھی چوریاں ہو رہی ہیں جن میں دکانوں سے کھانے پینے اور راشن کا سامان اٹھا لیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہی کوئی سال چھ مہینے پہلے کی بات ہے کراچی والے اتراتے ہوئے بتاتے تھے کہ حالات بہت سدھر گئے ہیں، اب تو مہنگے موبائل فون بھی باہر لے کر نکل جاتے ہیں۔ کلائی میں سونے کی ہلکی چوڑی پہنی ہو یا گلے میں طلائی ہار، اب لُٹنے کا ڈر کچھ کچھ علاقوں میں ہے۔ مگر افسوس یہ خبر اب پرانی ہوگئی۔

چند ماہ میں تواتر سے میڈیا رپورٹ کر رہا ہے کہ کراچی میں آہستہ آہستہ بھتہ خور مافیا سر اٹھا رہا ہے، چھینی گئی گاڑیوں، بائیک، موبائل فون، رقوم، لوٹے گئے بینکوں، نامکمل خوابوں اور اس پاگل پن میں جان سے جانے یا زخمی ہونے والوں کی فہرست ہندسوں کی شکل میں آ جاتی ہے۔

کراچی میں لوٹ مار کی نئی لہر کا تناظر جوڑنے کو تو بہت سے پیچیدہ مسائل سے بھی جوڑا جاسکتا ہے جیسے کہ شہر میں رینجرز کو اختیارات دینے کا معاملہ، جرائم پیشہ گینگ یا سیاسی پارٹیوں کے عسکری یا جرائم پیشہ گروہوں کی واپسی، بڑے نیٹ ورک والی دہشت گرد تنظیموں کے سلیپنگ سیلز وغیرہ۔

مگر چند ایک غیر مقبول وجوہات بھی ہیں جن میں سرفہرست ہے ہوش اڑا دینے والی مہنگائی، کرونا کے بعد غیریقینی صورت حال، بے روزگاری کی نئی اور شدید لہر اور کراچی کی سیاسی یتیمی۔

لیکن جب آپ آنکھ مسل مسل کر راتیں جاگیں، دھکے کھا کھا کردن بھر خوار ہوں پھر تھوڑا بہت کمائیں، بڑی حسرتوں سے ذرا سا بچائیں پھر کہیں جا کر مہینوں بعد کچھ اچھا خریدیں۔ اور ایسے میں کوئی گن دکھا کر منٹوں سیکنڈوں میں اسے چھین لے تو پھر اتنی عمیق تحقیق کے تناظر دیکھنے کا حوصلہ نہیں رہتا۔

کراچی والے بھائی شمیم کی طرح بس دعا ہی کرسکتے ہیں کہ یا اللہ کراچی کو امن و سکون دے، یہ نہیں تو ہمیں جانی اور مالی نقصان جھیلنے کا حوصلہ دے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ